پاکستان
this is test category for pakistan
مزید خبریں

دہشت گردی سے خیابانی جرائم تک: پاکستان میں عام شہری کے تحفظ کا بحران اور نوآبادیاتی طرزِ پولیسنگ
پاکستان میں جرائم اور عسکریت پسندی کا ملاپ امن و امان کی صورتحال کو انتہائی پیچیدہ بنا چکا ہے۔ جہاں بڑے شہروں میں خیابانی جرائم، منشیات اور آن لائن فراڈ کا راج ہے، وہیں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں تاوان کے لیے اغوا جبکہ پنجاب اور سندھ کے کچے کے علاقوں میں منظم مجرمانہ گروہ چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ 2026 میں پنجاب میں عادی مجرموں کے خلاف پیش کیے جانے والے مجوزہ قانون نے سخت انتظامی اقدامات اور شہری آزادیوں کے توازن پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ماہرین کے مطابق وقتی پولیس آپریشنز کے بجائے نوآبادیاتی طرزِ پولیسنگ کے خاتمے، سیاسی مداخلت کی روک تھام اور بااختیار عدالتی و انتظامی اصلاحات ہی سے عام شہری کو تحفظ کا احساس دلایا جا سکتا ہے۔

معاشی بحالی کا اصل امتحان: محض قرض اور بجٹ خسارہ نہیں، بلکہ ادارہ جاتی اصلاحات اور شفاف حکمرانی لازمی
پاکستان کو درپیش معاشی بحران کی بنیادی وجہ صرف مالیاتی خسارہ یا عالمی معاشی حالات نہیں بلکہ ادارہ جاتی حکمرانی کی کمزوریاں ہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی گورننس اور کرپشن ڈائگناسٹک رپورٹ کے مطابق، سیاسی مداخلت، غیر شفاف ضوابط اور صوابدیدی اختیارات کا بے جا استعمال سرمایہ کاری کے اعتماد کو مجروح کر رہا ہے۔ اگرچہ ٹیکس نظام، سرکاری خریداری اور آڈٹ کے شعبوں میں اصلاحاتی تجاویز پہلے سے موجود ہیں، لیکن ان پر مسلسل عمل درآمد کا فقدان سب سے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ معاشی استحکام کو پائیدار بنانے کے لیے قانون کی بالادستی، ڈیجیٹلائزیشن اور سول سوسائٹی کی مؤثر نگرانی ناگزیر ہے۔

بدعنوانی کا عمومی تاثر اور حقائق: کیا ریاستی اداروں اور شہریوں کے درمیان اعتماد بحال ہو سکتا ہے؟
پاکستان میں بدعنوانی اور غیر شفافیت کے حوالے سے شہریوں کے تاثرات پر مبنی ایک اہم سروے سامنے آیا ہے جسے تحقیقی ادارے آئیپسوس اور ایف پی سی سی آئی نے مشترکہ طور پر جاری کیا ہے۔ اس انڈیکس (iTAP) کے مطابق 68 فیصد سے زائد افراد کا ماننا ہے کہ انہیں براہِ راست رشوت کا تجربہ نہیں ہوا، مگر اس کے باوجود ایف بی آر، ضلعی انتظامیہ اور عدلیہ جیسے اداروں کے بارے میں منفی تاثر برقرار ہے۔ اس کے برعکس نادرا اور ای چالان کے حامل ٹریفک نظام کو ٹیکنالوجی کے بہتر استعمال کی وجہ سے نسبتاً مثبت درجہ بندی ملی ہے۔ سروے اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ اداروں کی بحالی کے لیے صرف قوانین نہیں بلکہ عملی ڈیجیٹل اصلاحات اور شفافیت ضروری ہیں۔

جنوبی وزیرستان میں ترقی اور سیکیورٹی کے دو رخ: نوجوانوں کے لیے ڈیجیٹل ہنر اور خواتین کے لیے روزگار کا نیا راستہ
قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان میں معاشی خودمختاری کے فروغ کے لیے جائیکا اور خیبر پختونخوا حکومت نے مقامی بلدیاتی اداروں کے ساتھ مل کر نیا تکنیکی پروگرام فعال کر دیا ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد دور دراز علاقوں کے نوجوانوں کو ای کامرس، فری لانسنگ اور آن لائن کاروبار کی تربیت دے کر بین الاقوامی ڈیجیٹل مارکیٹ سے جوڑنا ہے۔ تربیت مکمل کرنے پر مردوں کو لیپ ٹاپس اور خواتین کو گھریلو صنعت قائم کرنے کے لیے سلائی مشینیں فراہم کی جائیں گی تاکہ وہ باوقار روزگار حاصل کر سکیں۔ دوسری جانب، خطے میں سیکیورٹی چیلنجز بھی برقرار ہیں، جہاں پولیس اہلکار زاہد اللہ کی شہادت ظاہر کرتی ہے کہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے امن و امان کی صورتحال کا استحکام کتنا ضروری ہے۔

آزاد کشمیر میں 64 فیصد نوجوان آبادی کے لیے ہنر اور روزگار کا چیلنج: محض ڈگری یا عملی مہارت؟
آزاد کشمیر میں انسانی وسائل کے موثر استعمال اور نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کے لیے مظفرآباد میں دو روزہ یوتھ لیڈرشپ ورکشاپ اور جاب فیسٹیول کا انعقاد کیا گیا۔ وزیراعظم آزاد کشمیر راجا فیصل ممتاز راٹھور نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خطے کی 64 فیصد نوجوان آبادی میں صلاحیت کی کمی نہیں بلکہ درست رہنمائی اور جدید ہنر کی عدم دستیابی اصل رکاوٹ ہے۔ اس موقع پر قائم کیے گئے جاب فیسٹیول میں مختلف سرکاری محکموں، مسلح افواج اور تعلیمی کنسلٹنٹس نے اسٹالز لگائے۔ حکومت نے آزاد کشمیر میں فری لانسنگ اور ڈیجیٹل روزگار کے لیے انٹرنیٹ سروسز کی بہتری کا عزم بھی ظاہر کیا ہے۔

پشاور میں نوجوانوں کے لیے نئے آئی ٹی تربیتی مرکز کا افتتاح: 'بنو قابل' پروگرام کے تحت 10 ہزار سے زائد طلبہ پہلے ہی مستفید
خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں مرکز اسلامی سردار گڑھی کے مقام پر الخدمت فاؤنڈیشن اور جماعت اسلامی کے تعاون سے 'بنو قابل' آئی ٹی ٹریننگ سینٹر کا افتتاح کر دیا گیا۔ افتتاح الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے مرکزی صدر پروفیسر حافظ الرحمان اور امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا عبدالواسی نے کیا۔ تقریب کے دوران بتایا گیا کہ الخدمت صوبے بھر میں 85 کیمپسز کے ذریعے اب تک 10 ہزار سے زائد نوجوانوں کو فری لانسنگ اور سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ کی مفت تربیت فراہم کر چکی ہے۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد نوجوانوں کو خود انحصار بنانا اور ملکی معیشت میں ان کا حصہ بڑھانا ہے۔
مزید تازہ خبریں
اربوں کا تربیتی بجٹ اور سکڑتا ہوا روزگار: کیا یوتھ اسکلز پروگرام نوجوانوں کو معاشی تحفظ دے سکے گا؟پاکستان کی 67 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے، جسے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب ملکی معیشت کا سب سے بڑا اثاثہ قرار دیتے ہیں۔ رواں مالی سال کے بجٹ میں 'وزیراعظم یوتھ اسکلز ڈیولپمنٹ پروگرام' کے تحت 5,290.49 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں تاکہ 1 لاکھ 20 ہزار نوجوانوں کو آئی ٹی اور دیگر جدید شعبوں کی تربیت فراہم کی جا سکے۔ تاہم، معاشی سست روی، سرکاری اداروں کی نجکاری اور ڈاؤن سائزنگ کے باعث روزگار پیدا کرنے کے مربوط پروگرام کی عدم موجودگی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ اگر تربیتی یافتہ نوجوانوں کو مقامی اور عالمی ڈیجیٹل مارکیٹ سے نہ جوڑا گیا تو یہ سرمایہ کاری معاشی بہتری میں تبدیل نہیں ہو سکے گی۔
10 ماہ میں 95 کروڑ ڈالر: کیا فری لانسنگ پاکستانی معیشت کی نئی شاہراہ بن رہی ہے؟اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کے ابتدائی 10 ماہ میں ملکی فری لانسرز کی برآمدی آمدن 950 ملین ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے، جو پچھلے سال اسی عرصے کے مقابلے میں 49 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔ ملک میں تقریباً 30 لاکھ افراد فری لانسنگ سے وابستہ ہیں جو Upwork اور Fiverr جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر عمران بتادہ کے مطابق آگاہی میں اضافے کے باوجود بینکاری سہولیات، پے منٹ گیٹ ویز اور اے آئی (AI) مہارتوں کی کمی بڑے چیلنجز ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر فری لانسرز کو تربیت اور ادارہ جاتی تعاون فراہم کیا جائے تو یہ شعبہ ملکی معیشت کا اہم ستون بن سکتا ہے۔
5,260 سے 1,000 مکعب میٹر کا زوال: کیا پاکستان کا زرعی بحران صرف موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ ہے؟پاکستان کو دنیا میں شدید آبی قلت کے شکار ممالک میں 14 ویں نمبر پر رکھا گیا ہے، جہاں 1951ء کے مقابلے میں فی کس میٹھے پانی کی دستیابی 5,260 مکعب میٹر سے گر کر 1,000 مکعب میٹر سے بھی کم رہ گئی ہے۔ ایک حالیہ تحقیقی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ قومی معیشت میں 24 فیصد حصہ ڈالنے والے زرعی شعبے کو صرف موسمیاتی تبدیلی نہیں بلکہ غیر مؤثر آبپاشی، کیمیائی کھادوں کا بے تحاشا استعمال اور مسلسل ایک ہی فصل اگانے کا رجحان تباہ کر رہا ہے۔ ملک کی 37 فیصد سے زائد افرادی قوت اسی شعبے سے منسلک ہے، مگر قومی کلائمیٹ چینج اور فوڈ سیکیورٹی جیسی پالیسیوں پر عمل درآمد نہ ہونے سے زرعی مستقبل غیر یقینی بن چکا ہے۔
سندھ سی سی ای 24 تنازع: 43 سو امیدوار اور صرف 70 کامیاب، پبلک سروس کمیشن کے پرچوں پر سوالات کیوں اٹھے؟سندھ میں گریڈ 16 اور 17 کی ملازمتوں کے لیے لیے گئے 'سی سی ای 24' امتحان کے نتائج جاری ہونے کے بعد صوبہ بھر میں احتجاج کی لہر دوڑ گئی ہے۔ 4,300 سے زائد امیدواروں میں سے صرف 70 کے پاس ہونے اور کرمنالوجی و ماحولیاتی سائنس کے پرچوں کی نمبرنگ میں گڑبڑ نے امیدواروں میں سنگین تحفظات پیدا کر دیے ہیں۔ احتجاجی تحریک حیدرآباد، نواب شاہ، گھوٹکی، اور قمبر سمیت کئی اضلاع تک پھیل چکی ہے۔ سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے نتائج کی معطلی کے بعد معاملہ نئی قائم شدہ وفاقی آئینی عدالت پہنچا، جس نے عبوری احکامات معطل کرتے ہوئے انٹرویوز جاری رکھنے کی اجازت دی۔ امیدوار اب امتحانی مواد کے فارنزک آڈٹ اور شفافیت کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
کلاس روم کا خاموش بحران: بچے اسکول تو جا رہے ہیں، مگر سیکھ کیوں نہیں پاتے؟پاکستان کے ابتدائی تعلیمی نظام میں اگرچہ داخلوں کی شرح میں اضافہ ہوا ہے، لیکن سیکھنے کا معیار مخدوش صورتحال اختیار کر چکا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تیسری جماعت کے محض چار سے بارہ فیصد بچے ہی انگریزی متن کو رواں پڑھنے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس زوال کی بڑی وجہ تدریسی زبان کا ابہام ہے؛ پنجاب کے نجی انگریزی میڈیم اساتذہ پر کیے گئے برٹش کونسل کے سروے میں 94 فیصد اساتذہ خود انگریزی بولنے سے قاصر پائے گئے۔ ملک میں جہاں 1 فیصد سے بھی کم بچوں کی مادری زبان انگریزی ہے، وہاں مادری زبان کے بجائے نا مانوس زبان میں بنیادی تدریس بچوں کے فہم پر بوجھ بن جاتی ہے۔ 2010 کے بعد تعلیمی بجٹ میں سالانہ 17.5 فیصد اضافے کے باوجود نظام میں ادارہ جاتی خامیوں کی وجہ سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو پا رہے۔
پیداواری لاگت اور موسمیاتی دباؤ: پاکستانی کسان کی بقا کا بدلتا فارمولاپاکستان کا زرعی شعبہ اس وقت دوہرے بحران کا شکار ہے جہاں ایک طرف موسمیاتی تبدیلیاں فصلوں کو متاثر کر رہی ہیں تو دوسری جانب کھاد، ڈیزل اور بجلی کی قیمتوں نے کاشت کاری کو ایک مہنگا عمل بنا دیا ہے۔ پنجاب میں 10 لاکھ سے زائد ڈیزل ٹیوب ویل اور زمین کی روایتی تیاری کسان کے بجٹ پر بوجھ ڈال رہی ہے۔ کیمیائی کھادوں کے متبادل، زیرو ٹِلج، شمسی توانائی اور کوآپریٹو مارکیٹنگ جیسے اقدامات کے ذریعے پیداواری لاگت کم کر کے ہی کسان اپنے منافع کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔ یہ تحریر زراعت کو درپیش چیلنجز اور ان کی ممکنہ تدابیر کا احاطہ کرتی ہے۔
ٹیبل ٹینس کا بھولا ہوا سنہری دور: جب پاکستان ایشیا کی چھٹی بڑی طاقت تھاپاکستانی ٹیبل ٹینس کا عروج صرف چند کھلاڑیوں کی انفرادی پیش رفت نہیں بلکہ منظم کلب کلچر، چینی کوچز اور بہترین انتظامی بصیرت کا نچوڑ تھا۔ 1984 اور 1990 کی ایشیائی چیمپئن شپ میں چھٹی پوزیشن حاصل کرنے سے لے کر اسلام آباد میں 20 ممالک کی تاریخی میزبانی تک، پاکستان نے ٹیبل ٹینس کی دنیا میں اپنا لوہا منوایا۔ کراچی کے اسلامیہ کلب جیسے اداروں، ایس ایم سبطین کی انتظامی قیادت اور مجید خان کے وژن نے عارف خان، جاوید چوٹانی اور فرجاد سیف جیسے عالمی معیار کے کھلاڑیوں کو جنم دیا۔ تاہم بعد کے برسوں میں بنیادی سہولیات اور ادارہ جاتی سرپرستی میں کمی کے باعث یہ کھیل زوال کا شکار ہو گیا۔
1994 کا سنہری دور: جب پاکستان ایک ہی سال چار مختلف کھیلوں کا عالمی حکمران تھاآج جب بین الاقوامی مقابلوں میں کوئی ایک پاکستانی کھلاڑی کسی شاندار کامیابی سے ہمکنار ہوتا ہے تو پورا ملک جشن کی کیفیت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ لیکن پاکستانی کھیلوں کی تاریخ میں ایک ایسا وقت بھی گزرا ہے جب عالمی تاج جیتنا کوئی حیران کن واقعہ نہیں بلکہ ایک باقاعدہ روٹین بن چکا تھا۔ 1994 کا سال اس اسپورٹس کلچر کا عروج تھا، جہاں کرکٹ، ہاکی، اسکواش اور اسنوکر جیسے چار مختلف اور بڑے کھیلوں میں گرین شرٹس کا طوطی بول رہا تھا۔ جب ماضی کے ان سنہری صفحات کو پلٹا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ اس دور کے شائقین کس قدر خوش قسمت تھے، جن کے لیے عالمی مقابلوں کے فائنل میں قومی پرچم کا لہرانا روزمرہ کا معمول تھا۔ 1992 کے میلبرن کرکٹ فائنل میں انگلینڈ کو شکست دے کر عمران خان کی زیرِ قیادت جیتا گیا ورلڈ کپ ابھی زیادہ پرانا نہیں ہوا تھا۔ 1994 میں بھی پاکستان کرکٹ کی دنیا میں دفاعی عالمی چیمپئن کے طور پر ہی میدان میں اترتا تھا، اور وسیم اکرم، انضمام الحق جیسے کھلاڑیوں کا سحر دنیا پر طاری تھا۔ لیکن کرکٹ کی اس پذیرائی کے دوش بدوش، پاکستان کا قومی کھیل ہاکی ایک ایسی شاندار واپسی کر رہا تھا جس نے تاریخ رقم کر دی۔ ہاکی کا آخری سحر اور کرکٹ کی عالمی حکمرانی 1988 کے سیول اولمپکس کے دھچکے اور 1992 کے بارسلونا اولمپکس کے کانسی کے تمغے کے بعد 1994 میں پاکستانی ہاکی اپنے عروج پر پہنچی۔ مارچ 1994 میں لاہور نے چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی کی، جہاں ہوم گراؤنڈ پر قومی ٹیم نے جرمنی کو ایک سنسنی خیز مقابلے کے بعد پینلٹی اسٹروکس پر پچھاڑ کر کپ اپنے نام کیا۔ اسی سال دسمبر میں آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے میدان میں کھیلا جانے والا ہاکی ورلڈ کپ پاکستانی ہاکی کی تاریخ کا ایک سنہری باب بن گیا۔ فائنل میں نیدرلینڈز کی طاقتور ٹیم کو مقررہ وقت میں برابر رہنے کے بعد پینلٹی اسٹروکس پر شکست دی گئی۔ یہ پاکستان کی ہاکی تاریخ کا چوتھا عالمی کپ تھا، جو بدقسمتی سے آج تک آخری ہی ثابت ہوا ہے۔ اس تاریخی فتح کے دو سب سے بڑے ہیرو میدان میں ڈرِبلنگ کے بادشاہ شاہباز احمد سینئر اور گول کے سامنے فولادی دیوار ثابت ہونے والے منصور احمد تھے۔ شاہباز سینئر کی گیند پر حیران کن گرفت اور مخالفین کو چھکانے کی رفتار نے انہیں دنیا بھر میں "ہاکی کا میراڈونا" بنا دیا تھا، جبکہ منصور احمد کے فیصلہ کن سیوز نے پاکستان کے سر پر جیت کا تاج سجایا۔ اس دور میں گلی محلوں کے بچے کرکٹ کے ساتھ ساتھ شاہباز کی طرح ہاکی لے کر ڈرِبلنگ کی نقل کیا کرتے تھے۔ اسکواش کی سلطنت اور اسنوکر کا عالمی تلاطم 1990 کی دہائی کے شائقینِ اسکواش کے لیے عالمی ٹائٹل کی جنگ سے زیادہ یہ سوال اہم ہوتا تھا کہ فائنل میں پاکستان کا کون سا کھلاڑی کس سے ٹکرائے گا۔ اگرچہ 1994 تک جہانگیر خان کا مسابقتی کیریئر اختتام پذیر ہو چکا تھا، لیکن اسکواش کے کورٹ پر پاکستان کا یکطرفہ غلبہ برقرار رہا۔ جان شیر خان نے 1992 سے 1996 کے درمیان مسلسل پانچ مرتبہ ورلڈ اوپن اور برٹش اوپن جیت کر عالمی اسکواش پر اپنی بالادستی قائم رکھی۔ 1994 میں ان کی حکمرانی کا یہ عالم تھا کہ بین الاقوامی حریف ان کے قریب بھی پھٹک نہیں پاتے تھے۔ اسی شاندار سال میں ایک اور غیر متوقع پیش رفت نے دنیا کو ششدر کر دیا۔ جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ میں ہونے والی آئی بی ایس ایف ورلڈ اسنوکر چیمپئن شپ میں پاکستان کے محمد یوسف نے آئس لینڈ کے جانہنسن کو فائنل میں 11-9 سے شکست دے کر اسنوکر کا عالمی اعزاز اپنے نام کر لیا۔ ایک ایسے ملک میں جہاں اسنوکر کو کرکٹ یا ہاکی کی طرح سرپرستی حاصل نہیں تھی، محدود وسائل کے باوجود محمد یوسف کی اس تاریخی فتح نے ملک میں اسنوکر کے کھیل کو نئی زندگی دی اور ہزاروں نوجوانوں کے لیے اس کھیل کو اختیار کرنے کی راہ ہموار کی، جس کے اثرات آنے والے سالوں میں بھی دیکھے گئے۔ عروج سے زوال تک: ایک عہد کی یادگار اور تلخ حقیقت 1994 کا سال محض چار کھیلوں کے ٹائٹلز کا مجموعہ نہیں تھا، بلکہ یہ اس حقیقت کی گواہی تھا کہ پاکستان کا اسپورٹس سسٹم عالمی سطح پر متوازن اور فعال تھا۔ کرکٹ، ہاکی، اسکواش اور اسنوکر کے ان ٹائٹلز نے ثابت کیا تھا کہ پاکستانی کھلاڑیوں میں بلا کا ٹیلنٹ اور لڑنے کا جذبہ موجود تھا۔ تاہم، عروج کے بعد زوال کا آنا ایک فطری امر ہوتا ہے اگر مسلسل محنت اور ادارہ جاتی سرپرستی فراہم نہ کی جائے۔ بعد کے برسوں میں تربیت کے جدید معیار، مالی وسائل، اور دیانت دارانہ انتظامی ڈھانچے کی کمی کے باعث یہ سنہری سلسلہ ٹوٹ گیا۔ ہاکی کا عالمی معیار پر گرفت ڈھلی، اسکواش کے کورٹ سے پاکستانی پرچم اوجھل ہوتا چلا گیا، اور اسنوکر میں مسلسل فتوحات کا خواب بکھر گیا۔ 1994 کی اصل میراث صرف ماضی پر فخر کرنا نہیں، بلکہ یہ سمجھنا ہے کہ بہترین انفراسٹرکچر اور شفاف نظام کے ذریعے ایک ہی وقت میں متعدد کھیلوں میں کیسے عالمی معیار قائم کیا جا سکتا ہے۔ اس سال پاکستان کو کسی ایک کرشماتی کھلاڑی پر انحصار نہیں کرنا پڑتا تھا بلکہ ہر کھیل میں دنیا کو فتح کرنے والے کردار موجود تھے—اور شاید یہی وہ سبق ہے جو آج کے پاکستانی اسپورٹس اربابِ اختیار کو سیکھنے کی اشد ضرورت ہے۔
عالمی اعزازات سے گمنامی اور المیوں تک: پاکستان کے ان گنت ہیروز کی گمشدہ داستانیںیہ فیچر پاکستان کے ان مایہ ناز اور تاریخی کھیلوں کے ہیروز کی زندگی کا احاطہ کرتا ہے جن کی غیر معمولی فتوحات کے پیچھے کٹھن انسانی جدوجہد اور بعض اوقات انتہائی دردناک اختتام چھپا ہوا ہے۔ پشاور کے ایک بال بوائے سے عالمی اسکواش پر راج کرنے والے ہاشم خان، بمبئی سے سیول تک ڈنکا بجانے والے پہلوان اور باکسر، اور کورنگی سے ایشیا کی سب سے تیز رفتار خاتون بننے والی نسیم حمید کی کہانیاں ہمارے زوال پذیر اسپورٹس سسٹم کی عکاسی کرتی ہیں۔ دیکھ بھال اور ریاستی سرپرستی کے فقدان کی وجہ سے یہ عظیم قومی داستانیں وقت کی دھول میں اوجھل ہو رہی ہیں۔

