پاکستان میں نوجوانوں کی کثیر تعداد کو ہمیشہ سے ملکی ترقی اور معاشی استحکام کی بنیادی طاقت قرار دیا جاتا رہا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے بتائے گئے اعداد و شمار کے مطابق ملک کی 67 فیصد آبادی 30 برس سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے۔ اس اتنی بڑی اور فعال افرادی قوت کو معاشی دھارے میں لانے کے لیے وفاقی حکومت نے رواں مالی سال کے بجٹ میں 'وزیراعظم یوتھ اسکلز ڈیولپمنٹ پروگرام' کے لیے 5,290.49 ملین روپے کی رقم مختص کی ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی ہدف ملک کے 1 لاکھ 20 ہزار نوجوانوں کو آئی ٹی، ڈیجیٹل شعبوں اور جدید فنی علوم میں تربیت فراہم کرنا ہے۔
تربیتی سرٹیفکیٹ اور روزگار کا بگاڑ
نوجوانوں کو عصرِ حاضر کی ضروریات کے مطابق ہنر سکھانا بلاشبہ ایک مثبت اقدام ہے، مگر یہاں ایک بنیادی معاشی حقیقت کو پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے۔ کسی فرد کو فنی تربیت فراہم کر دینا خود بخود روزگار کے قیام کا باعث نہیں بنتا۔ ہنر حاصل کرنے کے بعد ایک نوجوان کو اپنی صلاحیتیں استعمال کرنے کے لیے سازگار معاشی ماحول، نجی شعبے کی سرمایہ کاری اور روزگار کے حقیقی مواقع درکار ہوتے ہیں۔ موجودہ بجٹ کا جائزہ لیا جائے تو تربیتی کورسز کے لیے تو خطیر فنڈز موجود ہیں، مگر ان تربیت یافتہ افراد کی معیشت میں کھپت یا نئی ملازمتیں پیدا کرنے کے لیے کسی واضح اور جڑواں پروگرام کا فقدان دکھائی دیتا ہے۔
حکومتی پالیسیوں کا تضاد
معاشی منظرنامے پر اس منصوبے کے ساتھ ساتھ ملکی پالیسی کا ایک دوسرا رخ بھی نمایاں ہوتا ہے۔ ایک طرف حکومت اربوں روپے خرچ کر کے نوجوانوں کو روزگار کے قابل بنانے کی ترغیب دے رہی ہے، جبکہ دوسری جانب سرکاری اخراجات کم کرنے کی خاطر محکموں کی بندش، ادغام اور رائٹ سائزنگ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ متعدد سرکاری اداروں کی نجکاری اور ملازمین کی برطرفیوں کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال نے مزدور تنظیموں اور ملازمین میں بے چینی پیدا کر رکھی ہے۔ اس تضاد کے نتیجے میں ایک طرف نئے ہنر مند مارکیٹ میں داخل ہو رہے ہیں تو دوسری طرف پہلے سے موجود ملازمتوں کا دائرہ سکڑ رہا ہے۔
عالمی مارکیٹ سے رابطہ سازی کی ضرورت
ڈیجیٹل اور آئی ٹی کے شعبے میں فری لانسنگ اور آن لائن کام نے یقیناً پاکستانی نوجوانوں کے لیے نئے راستے کھولے ہیں، تاہم کسی بھی تربیتی پروگرام کی کامیابی کا معیار صرف تقسیم کیے گئے سرٹیفکیٹس کی تعداد سے مقرر نہیں کیا جا سکتا۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ ان 120,000 نوجوانوں میں سے کتنے افراد طویل المدتی بنیادوں پر مستقل آمدن حاصل کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔ اگر ان ہنر مندوں کو مقامی نجی شعبے، غیر ملکی سرمایہ کاروں اور بین الاقوامی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے جوڑنے کا باضابطہ نظام نہ بنایا گیا تو سرکاری خزانوں سے جاری ہونے والی یہ رقم اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہے گی۔





تبصرے