پاکستان کے تعلیمی منظرنامے پر جب بھی تنقید ہوتی ہے تو سارا دھیان ان بچوں کی طرف چلا جاتا ہے جو اسکول کی دہلیز تک نہیں پہنچ سکے۔ یہ مسئلہ اپنی جگہ سنگین سہی، مگر ایک اور خاموش بحران ان چار دیواریوں کے اندر پنہاں ہے جہاں بچے روزانہ صبح بستے اٹھا کر جاتے تو ہیں لیکن سیکھنے کے عمل سے محروم رہتے ہیں۔ اسکول کا اصل مقصد صرف بچوں کی حاضری کا اندراج کرنا نہیں ہوتا، بلکہ انہیں کسی تحریر کو پڑھ کر اس کے اندر چھپے مفہوم کو سمجھنے، اس پر دلیل قائم کرنے اور اس معلومات کو روزمرہ زندگی میں استعمال کرنے کے قابل بنانا ہے۔
موجودہ اعداد و شمار اس حوالے سے انتہائی تشویش ناک تصویر پیش کرتے ہیں۔ پاکستان میں تیسری جماعت کے بچوں کی حالت یہ ہے کہ صرف 4 سے 12 فیصد کے قریب طلبہ ہی کسی سادہ انگریزی متن کو روانی کے ساتھ پڑھ کر اس کا مطلب سمجھ پاتے ہیں۔ اکثریت محض الفاظ کو ادا کرنے کی کوشش کرتی ہے لیکن جملے میں موجود خیال یا معلومات کو گرفت میں لانے میں ناکام رہتی ہے۔ یوں تعلیمی سفر فہم و ادراک کے بجائے محض یادداشت پر بوجھ ڈالنے کی مشق بن کر رہ جاتا ہے۔
زبان کا مغالطہ اور مادری زبان سے دوری
نجی اسکولوں میں "انگریزی میڈیم" کو معیارِ تعلیم کی بنیادی ضمانت سمجھا جاتا ہے، مگر یہ اصطلاح اکثر ایک تماشے سے زیادہ کچھ نہیں۔ پنجاب کے انگریزی میڈیم نجی اسکولوں سے متعلق برٹش کونسل کا ایک سروے ظاہر کرتا ہے کہ 94 فیصد اساتذہ خود انگریزی میں بات چیت کرنے کے اہل نہیں تھے۔ ایسی صورت میں کلاس روم کا ماحول مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے؛ جہاں نصاب اور امتحانات انگریزی میں ہوں لیکن استاد اور طالب علم دونوں ہی اس زبان میں ابلاغ سے قاصر ہوں، وہاں سمجھنے کے تمام راستے بند ہو جاتے ہیں اور طالب علم کے پاس صرف رٹا لگانے کا واحد راستہ بچتا ہے۔
پاکستان ایک کثیر اللسانی ملک ہے جہاں بچہ اپنے گھر اور گلی محلے میں مختلف مقامی زبانیں بولتا اور سنتا ہے۔ دستیاب ارقام کے مطابق گھر میں اردو بولنے والے بچوں کی شرح بلوچستان میں ایک فیصد، خیبر پختونخوا میں ایک فیصد، سندھ میں دو فیصد اور پنجاب میں تقریباً پانچ فیصد ہے، جبکہ انگریزی بولنے والوں کا تناسب ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ جب ایک چھوٹی عمر کا بچہ اسکول میں قدم رکھتا ہے تو اس کا ذہن اپنی مادری یا مانوس زبان میں سوچ رہا ہوتا ہے۔ اگر تدریس کی ابتدا ہی ایسی زبان میں کر دی جائے جو اس کے لیے پرائی ہو، تو اسے ایک ہی وقت میں زبان کے معنی بھی تلاش کرنے پڑتے ہیں اور مضمون کے تصورات بھی، جس سے اس کی سیکھنے کی رفتار شدید متاثر ہوتی ہے۔
یہ بحث انگریزی کو ختم کرنے سے متعلق نہیں ہے کیونکہ اعلیٰ تعلیم اور عالمی مارکیٹ میں انگریزی کی ضرورت سے انکار ممکن نہیں۔ اصل مسئلہ اس بات کا ہے کہ انگریزی کس وقت اور کس طریقہ کار سے پڑھائی جائے۔ ابتدائی سالوں میں بچے کو اس کی مانوس یا مادری زبان میں بنیادی علم دینا، اور ساتھ ہی انگریزی کو بطورِ مضمون سکھانا زیادہ کارآمد ثابت ہوتا ہے۔ دی سٹیزنز فاؤنڈیشن (TCF) جیسی تنظیموں کا ماڈل اس بات کی مثال ہے جہاں ابتدائی برسوں میں مادری یا مانوس زبان کے ذریعے بچے کا تعلیمی بنیاد مضبوط کی جاتی ہے اور بعد کے مراحل میں بتدریج دیگر زبانیں شامل کی جاتی ہیں۔
بجٹ سے آگے: استاد کی صلاحیت اور ناقص نگرانی
پاکستان میں جب بھی تعلیم کی ابتر حالت پر گفتگو ہوتی ہے، تو تمام تر ذمہ داری کم مالی وسائل اور بجٹ کی کمی پر ڈال دی جاتی ہے۔ اگرچہ مالی وسائل کی فراہمی ضروری ہے، لیکن صرف پیسہ بہا دینے سے تعلیمی نتائج میں خودبخود بہتری نہیں آتی۔ 2010 کے بعد سے پاکستان میں تعلیم کے بجٹ میں اوسطاً 17.5 فیصد سالانہ کا بڑا اضافہ دیکھا گیا، جبکہ والدین بھی نجی اسکولوں کی مد میں خطیر رقم خرچ کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود بچوں کی بنیادی خواندگی میں خاطر خواہ بہتری نہ آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اصل خرابی نظام کی نگرانی، احتساب اور انتظامی فریم ورک میں موجود ہے۔
اساتذہ کی غیر حاضری، سیاسی سفارشات پر بھرتیوں کا سلسلہ اور سرکاری ملازمتوں کا وہ ڈھانچہ جہاں کارکردگی کے بجائے صرف ملازمت کا تحفظ ہی اہمیت رکھتا ہو، سیکھنے کی کیفیت کو پسِ پشت ڈال دیتا ہے۔ جب تک استاد کو ابتدائی خواندگی اور صوتیات (phonics) کے جدید طریقوں کی تربیت نہیں دی جائے گی، اس وقت تک بچوں میں پڑھنے کی روانی پیدا کرنا ناممکن ہے۔ اس سمت میں پاکستان ریڈنگ پروجیکٹ اور سندھ ریڈنگ پروگرام جیسے اقدامات نے کچھ راستے دکھائے ہیں، جبکہ پشتو، بلوچی اور براہوی زبانوں میں تدریسی مواد کی تیاری بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔
رٹہ سے فہم تک: تدریس کے طریقوں میں تبدیلی
ابتدائی درجات کے نصاب میں ایک ساتھ بہت سی چیزیں شامل کر دینے کا رجحان بھی بچوں کی ذہنی صلاحیت پر بوجھ بنتا ہے۔ اس جلد بازی کے نتیجے میں بچہ کسی ایک موضوع کی بنیادی سمجھ حاصل کیے بغیر ہی اگلے باب میں داخل ہو جاتا ہے۔ اس کے بجائے اگر نصاب کو مختصر لیکن جامع بنایا جائے اور مختلف مضامین کو الگ خانوں میں بانٹنے کے بجائے ایک دوسرے سے جوڑا جائے، تو بچوں کے لیے سیکھنا آسان ہو سکتا ہے۔ مثلاً پانی یا ماحول جیسے عنوان کو سائنس، زبان اور ریاضی کے ساتھ ملا کر پڑھایا جا سکتا ہے تاکہ بچہ رٹے رٹائے جوابات کے بجائے کسی خیال کو مختلف زاویوں سے پرکھنا سیکھے۔
آج کے دور میں پاکستان کے تعلیمی بحران کی پیمائش صرف اسکولوں میں داخلوں کی فیصد یا عمارتوں کی تعداد سے نہیں کی جا سکتی۔ اصل معیار یہ ہے کہ اسکول میں پانچ یا چھ سال گزارنے کے بعد ایک بچہ کسی تحریر کو سمجھ کر پڑھ سکتا ہے یا نہیں۔ اگر بچہ معلومات کو یاد کرنے کے بجائے اپنے الفاظ میں بیان کرنے کی صلاحیت سے محروم ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ پورا نظام اصلاح کا منتظر ہے۔ پاکستان کو اب فوری طور پر نصاب کو مختصر کرنے، مادری زبان کے درست استعمال اور اساتذہ کی معیار پر مبنی تربیت پر توجہ دینی ہوگی تاکہ اسکولوں سے نکلنے والی نئی نسل واقعی پڑھنا اور سوچنا جانتی ہو۔





تبصرے