تازہ خبریں
خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں سیکیورٹی فورسز کا اہم آپریشن، 10 دہشت گرد ہلاکحکومت پاک ایران گیس پائپ لائن پر ٹرمپ سے ہم پر عائد پابندی ہٹانے کا کہے: راجہ ناصر عباسنائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز پر حملے کی شدید مذمت، 3 پاکستانیوں کی شہادت پر تعزیتملک بھر میں پیٹرول کی قیمت میں 1.70 روپے فی لیٹر کمی کا اعلاناسٹیٹ بینک آف پاکستان کا شرح سود میں کمی کا امکان
LIVE
Bitcoin rises above $80,000 as soft dollar, debasement fears boost momentumDocumentary NAZA on 'mass killing of Palestinian civilians' vying for Golden Lion at Venice Film Festival

کاروبار

[DEV-FRONTEND-DATASET] Temporary category for local frontend design testing.

مزید تازہ خبریں

A young tech professional working on a laptop displaying AI solutions for Pakistan alongside an AI robot assistant and a Pakistani flag.مصنوعی ذہانت اور پاکستان کا مستقبل: معاشی چیلنجز کا جدید حل یا محض نیا عالمی رجحان؟

مصنوعی ذہانت (اے آئی) پاکستان کی معاشی اور انتظامی اصلاحات کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ ملک کی 22 سالہ اوسط عمر پر مشتمل نوجوان آبادی نہ صرف مقامی سطح پر اے آئی کے نئے حل فراہم کر سکتی ہے بلکہ عالمی آؤٹ سورسنگ مارکیٹ اور بالخصوص جرمنی کی درمیانے درجے کی کمپنیوں کے لیے تحقیق و ترقی کا مرکز بن سکتی ہے۔ زراعت، صحت، تعلیم اور حکمرانی جیسے شعبوں میں اے آئی کا استعمال سروسز کی فراہمی میں ڈرامائی بہتری لا سکتا ہے۔ اس کے باوجود، شہری اور دیہی علاقوں میں ڈیجیٹل ڈیوائیڈ، غیر مساوی تعلیمی سہولیات اور جامع اخلاقی ضوابط کی غیر موجودگی وہ رکاوٹیں ہیں جن کا تدارک قومی ترجیحات کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

An editorial illustration showing legal scales, financial documents, and institutional governance papers symbolizing economic recovery through structural reforms in Pakistan.معاشی بحالی کا اصل امتحان: محض قرض اور بجٹ خسارہ نہیں، بلکہ ادارہ جاتی اصلاحات اور شفاف حکمرانی لازمی

پاکستان کو درپیش معاشی بحران کی بنیادی وجہ صرف مالیاتی خسارہ یا عالمی معاشی حالات نہیں بلکہ ادارہ جاتی حکمرانی کی کمزوریاں ہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی گورننس اور کرپشن ڈائگناسٹک رپورٹ کے مطابق، سیاسی مداخلت، غیر شفاف ضوابط اور صوابدیدی اختیارات کا بے جا استعمال سرمایہ کاری کے اعتماد کو مجروح کر رہا ہے۔ اگرچہ ٹیکس نظام، سرکاری خریداری اور آڈٹ کے شعبوں میں اصلاحاتی تجاویز پہلے سے موجود ہیں، لیکن ان پر مسلسل عمل درآمد کا فقدان سب سے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ معاشی استحکام کو پائیدار بنانے کے لیے قانون کی بالادستی، ڈیجیٹلائزیشن اور سول سوسائٹی کی مؤثر نگرانی ناگزیر ہے۔

A conceptual shot showing a person's hand refusing an envelope of Pakistani rupee currency notes beside a sign that reads "شفافیت اور اعتماد" and a small Pakistani flag.بدعنوانی کا عمومی تاثر اور حقائق: کیا ریاستی اداروں اور شہریوں کے درمیان اعتماد بحال ہو سکتا ہے؟

پاکستان میں بدعنوانی اور غیر شفافیت کے حوالے سے شہریوں کے تاثرات پر مبنی ایک اہم سروے سامنے آیا ہے جسے تحقیقی ادارے آئیپسوس اور ایف پی سی سی آئی نے مشترکہ طور پر جاری کیا ہے۔ اس انڈیکس (iTAP) کے مطابق 68 فیصد سے زائد افراد کا ماننا ہے کہ انہیں براہِ راست رشوت کا تجربہ نہیں ہوا، مگر اس کے باوجود ایف بی آر، ضلعی انتظامیہ اور عدلیہ جیسے اداروں کے بارے میں منفی تاثر برقرار ہے۔ اس کے برعکس نادرا اور ای چالان کے حامل ٹریفک نظام کو ٹیکنالوجی کے بہتر استعمال کی وجہ سے نسبتاً مثبت درجہ بندی ملی ہے۔ سروے اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ اداروں کی بحالی کے لیے صرف قوانین نہیں بلکہ عملی ڈیجیٹل اصلاحات اور شفافیت ضروری ہیں۔

Young Pakistani men working on laptops and women using sewing machines in a JICA Skill Development Programme training room.جنوبی وزیرستان میں ترقی اور سیکیورٹی کے دو رخ: نوجوانوں کے لیے ڈیجیٹل ہنر اور خواتین کے لیے روزگار کا نیا راستہ

قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان میں معاشی خودمختاری کے فروغ کے لیے جائیکا اور خیبر پختونخوا حکومت نے مقامی بلدیاتی اداروں کے ساتھ مل کر نیا تکنیکی پروگرام فعال کر دیا ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد دور دراز علاقوں کے نوجوانوں کو ای کامرس، فری لانسنگ اور آن لائن کاروبار کی تربیت دے کر بین الاقوامی ڈیجیٹل مارکیٹ سے جوڑنا ہے۔ تربیت مکمل کرنے پر مردوں کو لیپ ٹاپس اور خواتین کو گھریلو صنعت قائم کرنے کے لیے سلائی مشینیں فراہم کی جائیں گی تاکہ وہ باوقار روزگار حاصل کر سکیں۔ دوسری جانب، خطے میں سیکیورٹی چیلنجز بھی برقرار ہیں، جہاں پولیس اہلکار زاہد اللہ کی شہادت ظاہر کرتی ہے کہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے امن و امان کی صورتحال کا استحکام کتنا ضروری ہے۔

Young Pakistani students sitting in a modern computer laboratory undergoing IT and digital technology training.اربوں کا تربیتی بجٹ اور سکڑتا ہوا روزگار: کیا یوتھ اسکلز پروگرام نوجوانوں کو معاشی تحفظ دے سکے گا؟

پاکستان کی 67 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے، جسے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب ملکی معیشت کا سب سے بڑا اثاثہ قرار دیتے ہیں۔ رواں مالی سال کے بجٹ میں 'وزیراعظم یوتھ اسکلز ڈیولپمنٹ پروگرام' کے تحت 5,290.49 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں تاکہ 1 لاکھ 20 ہزار نوجوانوں کو آئی ٹی اور دیگر جدید شعبوں کی تربیت فراہم کی جا سکے۔ تاہم، معاشی سست روی، سرکاری اداروں کی نجکاری اور ڈاؤن سائزنگ کے باعث روزگار پیدا کرنے کے مربوط پروگرام کی عدم موجودگی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ اگر تربیتی یافتہ نوجوانوں کو مقامی اور عالمی ڈیجیٹل مارکیٹ سے نہ جوڑا گیا تو یہ سرمایہ کاری معاشی بہتری میں تبدیل نہیں ہو سکے گی۔

Young Pakistani professional working on a laptop computer in a workspace representing freelancing and IT exports.10 ماہ میں 95 کروڑ ڈالر: کیا فری لانسنگ پاکستانی معیشت کی نئی شاہراہ بن رہی ہے؟

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کے ابتدائی 10 ماہ میں ملکی فری لانسرز کی برآمدی آمدن 950 ملین ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے، جو پچھلے سال اسی عرصے کے مقابلے میں 49 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔ ملک میں تقریباً 30 لاکھ افراد فری لانسنگ سے وابستہ ہیں جو Upwork اور Fiverr جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر عمران بتادہ کے مطابق آگاہی میں اضافے کے باوجود بینکاری سہولیات، پے منٹ گیٹ ویز اور اے آئی (AI) مہارتوں کی کمی بڑے چیلنجز ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر فری لانسرز کو تربیت اور ادارہ جاتی تعاون فراہم کیا جائے تو یہ شعبہ ملکی معیشت کا اہم ستون بن سکتا ہے۔

A Pakistani farmer standing in an irrigated agricultural field managing water channels under dry conditions.5,260 سے 1,000 مکعب میٹر کا زوال: کیا پاکستان کا زرعی بحران صرف موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ ہے؟

پاکستان کو دنیا میں شدید آبی قلت کے شکار ممالک میں 14 ویں نمبر پر رکھا گیا ہے، جہاں 1951ء کے مقابلے میں فی کس میٹھے پانی کی دستیابی 5,260 مکعب میٹر سے گر کر 1,000 مکعب میٹر سے بھی کم رہ گئی ہے۔ ایک حالیہ تحقیقی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ قومی معیشت میں 24 فیصد حصہ ڈالنے والے زرعی شعبے کو صرف موسمیاتی تبدیلی نہیں بلکہ غیر مؤثر آبپاشی، کیمیائی کھادوں کا بے تحاشا استعمال اور مسلسل ایک ہی فصل اگانے کا رجحان تباہ کر رہا ہے۔ ملک کی 37 فیصد سے زائد افرادی قوت اسی شعبے سے منسلک ہے، مگر قومی کلائمیٹ چینج اور فوڈ سیکیورٹی جیسی پالیسیوں پر عمل درآمد نہ ہونے سے زرعی مستقبل غیر یقینی بن چکا ہے۔

A Pakistani farmer standing in a wheat field discussing agricultural challenges and rising input costs.پیداواری لاگت اور موسمیاتی دباؤ: پاکستانی کسان کی بقا کا بدلتا فارمولا

پاکستان کا زرعی شعبہ اس وقت دوہرے بحران کا شکار ہے جہاں ایک طرف موسمیاتی تبدیلیاں فصلوں کو متاثر کر رہی ہیں تو دوسری جانب کھاد، ڈیزل اور بجلی کی قیمتوں نے کاشت کاری کو ایک مہنگا عمل بنا دیا ہے۔ پنجاب میں 10 لاکھ سے زائد ڈیزل ٹیوب ویل اور زمین کی روایتی تیاری کسان کے بجٹ پر بوجھ ڈال رہی ہے۔ کیمیائی کھادوں کے متبادل، زیرو ٹِلج، شمسی توانائی اور کوآپریٹو مارکیٹنگ جیسے اقدامات کے ذریعے پیداواری لاگت کم کر کے ہی کسان اپنے منافع کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔ یہ تحریر زراعت کو درپیش چیلنجز اور ان کی ممکنہ تدابیر کا احاطہ کرتی ہے۔

Actor Aamir Khan discussing the digital release and YouTube distribution model for Sitaare Zameen Parعامر خان کا 100 روپے والا تجربہ: کیا ڈیجیٹل رسائی بالی ووڈ کو عام آدمی تک واپس لا سکتی ہے؟

عامر خان اپنی نئی فلم ’ستارے زمین پر‘ کو سینما نمائش کے بعد یوٹیوب پر صرف 100 روپے میں پیش کرنے کا نیا تجربہ کر رہے ہیں تاکہ مہنگے ملٹی پلیکسز اور سہولیات کی کمی کے باعث سینما ہالز سے دور رہنے والے 97 فیصد ناظرین کو دوبارہ فلموں سے جوڑا جا سکے۔ نیٹ فلکس کے محدود دائرے کے مقابلے میں یوٹیوب کے 49 کروڑ سے زائد صارفین تک سستی اور قانونی رسائی کا یہ منصوبہ، سنسرشپ اور سیاسی دباؤ کے شکار بالی ووڈ کے لیے ایک نیا معاشی ماڈل قائم کر سکتا ہے۔