کاروبار
[DEV-FRONTEND-DATASET] Temporary category for local frontend design testing.
مزید خبریں

18 ویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کے 16 سال: مالیاتی خودمختاری اور بلدیاتی نظام پر عالمی بینک کی اہم رپورٹ
پاکستان میں 18 ویں آئینی ترمیم اور ساتویں این ایف سی ایوارڈ کو 16 سال گزرنے کے باوجود مالیاتی خودمختاری اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کا فریم ورک مسائل کا شکار ہے۔ عالمی بینک کی نئی رپورٹ کے مطابق آئینی ڈھانچہ تو مضبوط ہے لیکن اس پر عمل درآمد انتہائی ناقص رہا ہے۔ وفاق اور صوبوں کے درمیان عدم ہماہنگی، صوبائی سطح پر ذاتی محاصل جمع نہ کرنے کی روش اور بلدیاتی اداروں کی مسلسل کمزوری کے باعث عام شہریوں کو بنیادی سہولیات میسر نہیں آ سکیں۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صوبوں کا 80 فیصد سے زائد بجٹ محض انتظامی و جاری اخراجات پر صرف ہو رہا ہے۔

پاک ایران راستوں پر رکاوٹیں: کیا 'لاپس لازولی راہداری' افغانستان کو متبادل تجارتی راستہ فراہم کر سکتی ہے؟
پاکستان اور ایران کے روایتی تجارتی راستوں پر درپیش رکاوٹوں اور علاقائی کشیدگی کے بعد افغانستان نے 'لاپس لازولی راہداری' کے ذریعے یورپ اور ترکیہ کے لیے اپنی برآمدات کا آغاز کر دیا ہے۔ صوبہ ہرات سے روانہ ہونے والے آٹھ کنٹینرز ترکمانستان، آذربائیجان اور جارجیا سے ہوتے ہوئے ترکیہ پہنچیں گے۔ تاہم معاشی ماہرین اور تاجر برادری کا کہنا ہے کہ تین ہزار کلومیٹر طویل یہ ملٹی ماڈل راہداری کراچی یا چابہار کے مقابلے میں انتہائی مہنگی اور وقت طلب ہے۔ کابل اور مشرقی افغانستان کے زرعی اور تجارتی سامان کے لیے پاکستانی بندرگاہیں ہی سب سے مختصر اور معاشی طور پر پائیدار راستہ ہیں، جبکہ لاپس لازولی فی الوقت صرف ایک اضطراری متبادل ثابت ہو سکتی ہے۔

پاک افغان تجارت میں بڑا بریک ڈاون: 53 فیصد کمی اور سرحد پار معیشت کا خاموش بحران
اسلام آباد میں بیٹھ کر جب پاک افغان تجارت کی اعداد و شمار کی روشنی میں جائزہ لیا جاتا ہے تو یہ محض چند ارب ڈالر کا اتار چڑھاؤ دکھائی دیتا ہے، لیکن طورخم، چمن اور لنڈی کوتل کے شہریوں کے لیے یہ نفع نقصان نہیں بلکہ بقا کا مسئلہ بن چکا ہے۔ مالی سال 2025-26 کے ابتدائی چھ ماہ میں دوطرفہ تجارت 53 فیصد کم ہو کر 594 ملین ڈالر رہ گئی ہے، جبکہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا حجم تاریخی سطح تک گر چکا ہے۔ اس تالہ بندی کے اثرات صرف سرحد تک محدود نہیں رہے بلکہ پنجاب کے کاشتکاروں سے لے کر چھوٹے کاروباریوں تک کی زندگیوں کو بری طرح متاثر کر چکے ہیں۔

تار و پود میں الجھی جنگی تاریخ: افغان 'وار رگز' کی کہانی اور عالمی تنازعات
افغانستان کے شمالی دیہات اور پناہ گزین کیمپوں میں ہاتھوں سے بنے قالین جہاں اپنی پائیداری اور دستکاری کے لیے مشہور ہیں، وہیں پچھلی چند دہائیوں کے دوران 'وار رگز' یا جنگی قالینوں کا ایک بالکل مختلف سلسلہ سامنے آیا ہے۔ افغان خواتین روایتی پھول بوٹوں کی جگہ بندوقوں، ٹینکوں، 9/11 کے واقعات اور امریکی و طالبان کے ادوار کی تصویریں قالینوں میں بن رہی ہیں۔ یہ قالین جہاں خطے کے بحرانوں کی ایک بصری دستاویز سمجھے جاتے ہیں، وہیں ان پر عالمی سطح پر یہ بحث بھی جاری ہے کہ آیا یہ جنگی المیوں کی تجارت ہے یا عام بنکروں کے صدمات کا اظہار۔

کیا پنجابی سنیما پاکستان میں فلمی صنعت کی بحالی کی چابی ہے؟
'دی لیجنڈ آف مولا جٹ' کی تاریخی تجارتی کامیابی اور پنجاب میں ملک کی 136 میں سے 99 اسکرینوں کی موجودگی نے یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ کیا پنجابی فلمیں پاکستانی سنیما کی بحالی کا بنیادی راستہ بن سکتی ہیں۔ جہاں 'کیری آن جٹا 3' اور 'شارٹ کٹ' جیسے کم بجٹ پروجیکٹس نے پنجاب کی مارکیٹ کی وسعت کو ثابت کیا، وہیں فلمی ماہرین کا ماننا ہے کہ محض زبان کامیابی کی ضمانت نہیں بن سکتی۔ ٹی وی، ڈیجیٹل اسٹریمنگ اور عالمی مارکیٹ کے وسائل کو یکجا کر کے ہی انڈسٹری کو مستقل پاؤں پر کھڑا کیا جا سکتا ہے۔

خالی ہال، مہنگے ٹکٹ اور فلموں کا قحط: پاکستانی سنیما کو درپیش بقا کا بحران
پاکستان میں 2022 کی کامیاب فلم 'دی لیجنڈ آف مولا جٹ' کے بعد مقامی فلموں کی باقاعدہ اور مسلسل فراہمی رک جانے سے ملک گیر سطح پر سنیما گھر ایک شدید معاشی بحران کی لپیٹ میں ہیں۔ تقریباً 25 کروڑ کی آبادی کے لیے ملک میں محض 150 اسکرینیں اور 60 کے قریب سنیما موجود ہیں، جو زیادہ تر مخصوص جغرافیائی اور معاشی طبقے تک محدود ہیں۔ او ٹی ٹی پلیٹ فارمز کے بڑھتے اثرات، مہنگے ٹکٹ اور عام آبادی کی عدم رسائی نے بڑی اسکرین کے تجربے کو متاثر کیا ہے۔ ماہرین اور فنکاروں کے مطابق فلمی انڈسٹری کی بحالی کے لیے معیاری مواد کی مسلسل پیداوار، طلبہ کے لیے رعایتی ٹکٹ اور غیر ملکی یا بھارتی فلموں کی مشروط نمائش سے متعلق واضح حکمتِ عملی ناگزیر ہے۔
مزید تازہ خبریں
چوتھا صنعتی انقلاب اور پاکستان: مصنوعی ذہانت معاشی بحران کا حل یا نیا چیلنج؟عالمگیر معیشت چوتھے صنعتی انقلاب اور مصنوعی ذہانت کے باعث تیز رفتار تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے، جہاں پیداواری طریقے، عالمی سپلائی چینز اور روزگار کے سانچے یکسر بدل چکے ہیں۔ پاکستان اس وقت بدترین معاشی دباؤ، بڑھتی ہوئی مہنگائی، گردشی قرضوں اور پڑھے لکھے نوجوانوں میں بے روزگاری کے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ ایسے میں روایتی معاشی پالیسیوں پر انحصار جاری رکھنا ممکن نہیں رہا۔ تجزیے کے مطابق پاکستان کو چین کے ساتھ سی پیک کے ذریعے صنعتی شراکت داری بڑھانے، زراعت میں جدید 'پریسیژن ایگریکلچر' اپنانے اور محض ٹیکنالوجی کا صارف بننے کے بجائے مقامی سطح پر اے آئی تحقیق اور ہنرمندی میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے تاکہ روزگار کے تحفظ کے ساتھ معاشی نمو حاصل کی جا سکے۔
مصنوعی ذہانت اور پاکستان کا مستقبل: معاشی چیلنجز کا جدید حل یا محض نیا عالمی رجحان؟مصنوعی ذہانت (اے آئی) پاکستان کی معاشی اور انتظامی اصلاحات کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ ملک کی 22 سالہ اوسط عمر پر مشتمل نوجوان آبادی نہ صرف مقامی سطح پر اے آئی کے نئے حل فراہم کر سکتی ہے بلکہ عالمی آؤٹ سورسنگ مارکیٹ اور بالخصوص جرمنی کی درمیانے درجے کی کمپنیوں کے لیے تحقیق و ترقی کا مرکز بن سکتی ہے۔ زراعت، صحت، تعلیم اور حکمرانی جیسے شعبوں میں اے آئی کا استعمال سروسز کی فراہمی میں ڈرامائی بہتری لا سکتا ہے۔ اس کے باوجود، شہری اور دیہی علاقوں میں ڈیجیٹل ڈیوائیڈ، غیر مساوی تعلیمی سہولیات اور جامع اخلاقی ضوابط کی غیر موجودگی وہ رکاوٹیں ہیں جن کا تدارک قومی ترجیحات کے بغیر ممکن نہیں ہے۔
معاشی بحالی کا اصل امتحان: محض قرض اور بجٹ خسارہ نہیں، بلکہ ادارہ جاتی اصلاحات اور شفاف حکمرانی لازمیپاکستان کو درپیش معاشی بحران کی بنیادی وجہ صرف مالیاتی خسارہ یا عالمی معاشی حالات نہیں بلکہ ادارہ جاتی حکمرانی کی کمزوریاں ہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی گورننس اور کرپشن ڈائگناسٹک رپورٹ کے مطابق، سیاسی مداخلت، غیر شفاف ضوابط اور صوابدیدی اختیارات کا بے جا استعمال سرمایہ کاری کے اعتماد کو مجروح کر رہا ہے۔ اگرچہ ٹیکس نظام، سرکاری خریداری اور آڈٹ کے شعبوں میں اصلاحاتی تجاویز پہلے سے موجود ہیں، لیکن ان پر مسلسل عمل درآمد کا فقدان سب سے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ معاشی استحکام کو پائیدار بنانے کے لیے قانون کی بالادستی، ڈیجیٹلائزیشن اور سول سوسائٹی کی مؤثر نگرانی ناگزیر ہے۔
بدعنوانی کا عمومی تاثر اور حقائق: کیا ریاستی اداروں اور شہریوں کے درمیان اعتماد بحال ہو سکتا ہے؟پاکستان میں بدعنوانی اور غیر شفافیت کے حوالے سے شہریوں کے تاثرات پر مبنی ایک اہم سروے سامنے آیا ہے جسے تحقیقی ادارے آئیپسوس اور ایف پی سی سی آئی نے مشترکہ طور پر جاری کیا ہے۔ اس انڈیکس (iTAP) کے مطابق 68 فیصد سے زائد افراد کا ماننا ہے کہ انہیں براہِ راست رشوت کا تجربہ نہیں ہوا، مگر اس کے باوجود ایف بی آر، ضلعی انتظامیہ اور عدلیہ جیسے اداروں کے بارے میں منفی تاثر برقرار ہے۔ اس کے برعکس نادرا اور ای چالان کے حامل ٹریفک نظام کو ٹیکنالوجی کے بہتر استعمال کی وجہ سے نسبتاً مثبت درجہ بندی ملی ہے۔ سروے اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ اداروں کی بحالی کے لیے صرف قوانین نہیں بلکہ عملی ڈیجیٹل اصلاحات اور شفافیت ضروری ہیں۔
جنوبی وزیرستان میں ترقی اور سیکیورٹی کے دو رخ: نوجوانوں کے لیے ڈیجیٹل ہنر اور خواتین کے لیے روزگار کا نیا راستہقبائلی ضلع جنوبی وزیرستان میں معاشی خودمختاری کے فروغ کے لیے جائیکا اور خیبر پختونخوا حکومت نے مقامی بلدیاتی اداروں کے ساتھ مل کر نیا تکنیکی پروگرام فعال کر دیا ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد دور دراز علاقوں کے نوجوانوں کو ای کامرس، فری لانسنگ اور آن لائن کاروبار کی تربیت دے کر بین الاقوامی ڈیجیٹل مارکیٹ سے جوڑنا ہے۔ تربیت مکمل کرنے پر مردوں کو لیپ ٹاپس اور خواتین کو گھریلو صنعت قائم کرنے کے لیے سلائی مشینیں فراہم کی جائیں گی تاکہ وہ باوقار روزگار حاصل کر سکیں۔ دوسری جانب، خطے میں سیکیورٹی چیلنجز بھی برقرار ہیں، جہاں پولیس اہلکار زاہد اللہ کی شہادت ظاہر کرتی ہے کہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے امن و امان کی صورتحال کا استحکام کتنا ضروری ہے۔
اربوں کا تربیتی بجٹ اور سکڑتا ہوا روزگار: کیا یوتھ اسکلز پروگرام نوجوانوں کو معاشی تحفظ دے سکے گا؟پاکستان کی 67 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے، جسے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب ملکی معیشت کا سب سے بڑا اثاثہ قرار دیتے ہیں۔ رواں مالی سال کے بجٹ میں 'وزیراعظم یوتھ اسکلز ڈیولپمنٹ پروگرام' کے تحت 5,290.49 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں تاکہ 1 لاکھ 20 ہزار نوجوانوں کو آئی ٹی اور دیگر جدید شعبوں کی تربیت فراہم کی جا سکے۔ تاہم، معاشی سست روی، سرکاری اداروں کی نجکاری اور ڈاؤن سائزنگ کے باعث روزگار پیدا کرنے کے مربوط پروگرام کی عدم موجودگی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ اگر تربیتی یافتہ نوجوانوں کو مقامی اور عالمی ڈیجیٹل مارکیٹ سے نہ جوڑا گیا تو یہ سرمایہ کاری معاشی بہتری میں تبدیل نہیں ہو سکے گی۔
10 ماہ میں 95 کروڑ ڈالر: کیا فری لانسنگ پاکستانی معیشت کی نئی شاہراہ بن رہی ہے؟اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کے ابتدائی 10 ماہ میں ملکی فری لانسرز کی برآمدی آمدن 950 ملین ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے، جو پچھلے سال اسی عرصے کے مقابلے میں 49 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔ ملک میں تقریباً 30 لاکھ افراد فری لانسنگ سے وابستہ ہیں جو Upwork اور Fiverr جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر عمران بتادہ کے مطابق آگاہی میں اضافے کے باوجود بینکاری سہولیات، پے منٹ گیٹ ویز اور اے آئی (AI) مہارتوں کی کمی بڑے چیلنجز ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر فری لانسرز کو تربیت اور ادارہ جاتی تعاون فراہم کیا جائے تو یہ شعبہ ملکی معیشت کا اہم ستون بن سکتا ہے۔
5,260 سے 1,000 مکعب میٹر کا زوال: کیا پاکستان کا زرعی بحران صرف موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ ہے؟پاکستان کو دنیا میں شدید آبی قلت کے شکار ممالک میں 14 ویں نمبر پر رکھا گیا ہے، جہاں 1951ء کے مقابلے میں فی کس میٹھے پانی کی دستیابی 5,260 مکعب میٹر سے گر کر 1,000 مکعب میٹر سے بھی کم رہ گئی ہے۔ ایک حالیہ تحقیقی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ قومی معیشت میں 24 فیصد حصہ ڈالنے والے زرعی شعبے کو صرف موسمیاتی تبدیلی نہیں بلکہ غیر مؤثر آبپاشی، کیمیائی کھادوں کا بے تحاشا استعمال اور مسلسل ایک ہی فصل اگانے کا رجحان تباہ کر رہا ہے۔ ملک کی 37 فیصد سے زائد افرادی قوت اسی شعبے سے منسلک ہے، مگر قومی کلائمیٹ چینج اور فوڈ سیکیورٹی جیسی پالیسیوں پر عمل درآمد نہ ہونے سے زرعی مستقبل غیر یقینی بن چکا ہے۔
پیداواری لاگت اور موسمیاتی دباؤ: پاکستانی کسان کی بقا کا بدلتا فارمولاپاکستان کا زرعی شعبہ اس وقت دوہرے بحران کا شکار ہے جہاں ایک طرف موسمیاتی تبدیلیاں فصلوں کو متاثر کر رہی ہیں تو دوسری جانب کھاد، ڈیزل اور بجلی کی قیمتوں نے کاشت کاری کو ایک مہنگا عمل بنا دیا ہے۔ پنجاب میں 10 لاکھ سے زائد ڈیزل ٹیوب ویل اور زمین کی روایتی تیاری کسان کے بجٹ پر بوجھ ڈال رہی ہے۔ کیمیائی کھادوں کے متبادل، زیرو ٹِلج، شمسی توانائی اور کوآپریٹو مارکیٹنگ جیسے اقدامات کے ذریعے پیداواری لاگت کم کر کے ہی کسان اپنے منافع کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔ یہ تحریر زراعت کو درپیش چیلنجز اور ان کی ممکنہ تدابیر کا احاطہ کرتی ہے۔

