'دی لیجنڈ آف مولا جٹ' نے جب دنیا بھر سے 300 کروڑ اور پاکستان سے 100 کروڑ روپے سے زائد کا بزنس کیا، تو اس نے محض ایک فلم کی کامرانی کی داستان درج نہیں کی، بلکہ زوال پذیر پاکستانی فلمی صنعت کو سوچ کا ایک نیا رخ بھی دیا۔ حالیہ چند سالوں میں جہاں کئی بڑی اردو فلمیں باکس آفس پر شائقین کو کھینچنے میں ناکام رہیں، وہیں پنجابی فلموں اور یہاں تک کہ محدود بجٹ کی علاقائی فلموں نے یہ ثابت کیا کہ انڈسٹری کو دوبارہ پاؤں پر کھڑا کرنے کی صلاحیت کہاں چھپی ہو سکتی ہے۔

پنجاب کی مارکیٹ اور باکس آفس کے اعداد و شمار

اس بحث کی معاشی حقیقت کو سمجھنے کے لیے ملک میں سنیما اسکرینوں کی تقسیم پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔ پاکستان میں اس وقت کل 136 فعال اسکرینیں ہیں، جن میں سے 99 صرف صوبہ پنجاب میں موجود ہیں، جبکہ 51 اسکرینیں صرف لاہور کے حصے میں آتی ہیں۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی فلم کا تجارتی مستقبل کافی حد تک پنجاب کے ناظرین کے موڈ اور ترجیحات پر منحصر ہوتا ہے۔

اسی تجارتی مرکزیت کی ایک اور مثال بھارتی پنجابی فلم 'کیری آن جٹا 3' کی پاکستان میں زبردست کامیابی ہے۔ عید الاضحیٰ پر نمائش کے لیے پیش کی جانے والی اس فلم نے صرف مقامی باکس آفس سے 25 کروڑ روپے سمیٹے۔ عید کے ایام میں محض لاہور شہر کے اندر اس فلم کے روزانہ 30 کے قریب شوز چلائے گئے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پنجاب میں پنجابی مواد کی مانگ کتنی گہری ہے۔

کم بجٹ اور اسٹریمنگ ماڈل کی بڑھتی اہمیت

صرف بڑے بجٹ کی فلمیں ہی نہیں، بلکہ کم خرچ میں بننے والی فلمیں بھی حوصلہ افزا معاشی نتائج دے رہی ہیں۔ ہدایت کار ابو علیحہ کی 80 لاکھ روپے کے بجٹ میں بننے والی فلم 'شارٹ کٹ' نے سندھ میں نمائش اور بڑی تشہیر کے بغیر بھی پنجاب سے 68 لاکھ روپے کا بزنس کیا۔ یہی نہیں، بلکہ بھارتی اسٹریمنگ پلیٹ فارم 'چوپال' کو 52 لاکھ روپے میں ڈیجیٹل حقوق فروخت ہونے کے بعد یہ فلم بہترین پوزیشن پر ٹرینڈ کرنے لگی۔ اسی طرح 2 کروڑ کے بجٹ سے بننے والی 'سپر پنجابی' نے عالمی سطح پر ساڑھے 5 کروڑ روپے کمائے۔

سنیما ٹکٹوں سے ہٹ کر ڈیجیٹل اور ٹی وی رائٹس کی اہمیت بھی اب سامنے آ رہی ہے۔ مثال کے طور پر 'تیری میری کہانیاں' نے تقریباً 7 سے 8 کروڑ کے بجٹ کے مقابلے میں باکس آفس سے بھی اتنا ہی بزنس کیا، لیکن ڈسٹری بیوٹر گارنٹی، ٹی وی اور اسٹریمنگ رائٹس کی فروخت کی وجہ سے لاگت کا بڑا حصہ نمائش سے پہلے ہی وصول ہو گیا۔ ڈسٹری بیوشن کلب کے چیئرمین امجد رشید کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں پھیلی پنجابی کمیونٹی ایک بہت بڑی مارکیٹ فراہم کرتی ہے، اور مشترکہ سرمایہ کاری کے ذریعے اس عالمی مارکیٹ کا فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

زبان نہیں، معیار اصل شرط ہے

تاہم، اس تمام تر صورت حال کو صرف ایک زبان کا جادو سمجھنا درست نہیں ہو گا۔ نامور ہدایت کار ندیم بیگ کا ماننا ہے کہ پنجابی زبان بذاتِ خود کامیابی کی ضمانت نہیں بن سکتی، کیونکہ ناظرین اچھے مواد اور معیار کو ترجیح دیتے ہیں۔ 'پنجاب نہیں جاؤں گی' اور 'لندن نہیں جاؤں گا' جیسی اردو فلموں نے بھی پنجابی ثقافتی رنگ کے امتزاج کی بدولت ہی زبردست بزنس کیا۔

اسی طرح فلم نمائش کنندہ ندیم منڈوی والا کا موقف ہے کہ پنجابی فلموں کو اردو سنیما کے متبادل کے طور پر نہیں بلکہ ایک اضافی اور مددگار عنصر کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ کرونا کے بعد کے اثرات، معاشی بدحالی اور سرمایہ کاری میں ہچکچاہٹ کی وجہ سے انڈسٹری فوری طور پر کسی ایک فارمولے سے بحال نہیں ہو سکتی۔

حقیقی بحالی کے لیے مسلسل سالوں تک معیاری فلم سازی، مختلف زبانوں میں مواد کی تیاری، اور ایک منظم معاشی نظام کی ضرورت ہے۔ 'دی لیجنڈ آف مولا جٹ' نے ایک راستہ ضرور دکھایا ہے، مگر اس راستے پر کامیابی سے آگے بڑھنے کے لیے فلم سازوں کو صرف علاقائی کارڈ کھیلنے کے بجائے تکنیکی معیار، کہانی اور تجربے پر توجہ دینی ہو گی۔