عالمی معیشت ایک ایسے معاشی اور تکنیکی موڑ پر کھڑی ہے جہاں مصنوعی ذہانت، خودکار پیداواری نظام اور ڈیجیٹل حل کارخانوں سے لے کر انتظامی دفاتر تک کی ساخت کو یکسر بدل رہے ہیں۔ چوتھے صنعتی انقلاب کے اس دور میں مشینیں صرف روایتی مشقت کا ذریعہ نہیں رہیں بلکہ خودکار ڈیٹا کے تجزیے اور اہم فیصلوں میں بنیادی کردار ادا کر رہی ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب تحفظ پسندانہ عالمی تجارتی پالیسیوں نے بین الاقوامی مارکیٹ پر دباؤ بڑھا دیا ہے، پاکستان کے لیے پرانے معاشی نسخوں اور محدود برآمدی حکمت عملی پر انحصار برقرار رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
پاکستان کی معاشی ساخت میں صنعتی شعبے کا سکڑنا ایک ناہموار اشاریہ ہے۔ 2021-22 کے معاشی اعداد و شمار کے مطابق ملکی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں صنعت کا حصہ 20.9 فیصد سے کم ہو کر 19.5 فیصد پر آ چکا ہے۔ دوسری جانب ملک کو اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں میں بے روزگاری کے شدید بحران کا سامنا ہے۔ لیبر فورس سروے 2024-25 کے مطابق ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں رکھنے والے افراد میں بے روزگاری کی شرح 11.9 فیصد، گریجویٹس میں 10.9 فیصد اور انٹرمیڈیٹ پاس نوجوانوں میں 12.5 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ عالمی بینک کے مطابق ملک میں غربت کا تخمینہ 44.5 فیصد ہے جبکہ 2 کروڑ 62 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جو اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ معاشی اصلاحات کو بنیادی ساخت سے جوڑا جائے۔
عالمی سپلائی چین اور چین کے ساتھ صنعتی شراکت
طویل عرصے سے معاشی بحالی کے لیے صرف برآمدات بڑھانے پر زور دیا جاتا رہا ہے، لیکن عالمی تحفظ پسندی اور محدود مقامی صنعتی بنیاد کے باعث یہ راستہ آسان نہیں رہا۔ اب پاکستان کے لیے اصل موقع صرف تیار مصنوعات بیچنے کے بجائے عالمی سپلائی چینز کا حصہ بننے میں پنہاں ہے، جس کے تحت عالمی کمپنیوں کے لیے خام مال، پرزہ جات اور درمیانی درجے کی مصنوعات تیار کی جا سکتی ہیں۔
اس سلسلے میں چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت حالیہ ایکشن پلان ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے۔ ٹیکسٹائل کی مثال لی جائے تو ملکی برآمدات کا بڑا حصہ ہونے کے باوجود مقامی صنعت زیادہ تر غیر ملکی برانڈز کے لیے صرف کنٹریکٹ مینوفیکچرنگ تک محدود ہے، جبکہ چین کے پاس خام مال سے لے کر جدید ترین مشینری تک کی کامل سپلائی چین موجود ہے۔ لاہور میں چینی سرمایہ کاری سے قائم ہونے والا ٹیکسٹائل پر مبنی خصوصی اقتصادی زون اس شراکت داری کی واضح مثال ہے، جہاں ان مصنوعات کی مقامی پیداوار کا منصوبہ ہے جو فی الوقت پاکستان درآمد کرتا ہے۔ معدنی وسائل کے شعبے میں بھی خام مال براہ راست باہر بھیجنے کے بجائے چین کے ساتھ مشترکہ منصوبوں کے ذریعے مقامی پروسیسنگ اور قدر میں اضافے (Value Addition) کا راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔
جدید زراعت، مقامی تحقیق اور روزگار کا تحفظ
زراعت ملکی معیشت کا ستون ہونے کے باوجود جدید تکنیکی وسائل سے محروم ہے۔ دنیا بھر میں اب 'پریسیژن ایگریکلچر' کے ذریعے ڈرونز، اے آئی اور ڈیٹا کے استعمال سے پانی، کھاد اور بیج کا متوازن استعمال کیا جا رہا ہے۔ چین کے ساتھ تکنیکی تعاون کے ذریعے بہتر بیج، مویشی پالنے کی جدید ٹیکنالوجی اور اے آئی پر مبنی زرعی نظام متعارف کروا کر کسانوں کی آمدنی اور ملکی پیداوار میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔
تاہم ٹیکنالوجی کا محض صارف بننا پاکستان کو معاشی طور پر خودکفیل نہیں بنا سکتا۔ اگر ملک صرف بیرونِ ملک سے تیار شدہ اے آئی سسٹمز خریدتا رہا تو تکنیکی قدر کی تخلیق کا حصہ بیرونِ ملک ہی رہے گا۔ پاکستان کو سیمی کنڈکٹرز، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، ڈیٹا سائنس اور مقامی کمپیوٹنگ انفرااسٹرکچر میں بنیادی سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔
اس تمام تکنیکی سفر میں سب سے اہم پہلو لیبر فورس کا تحفظ ہے۔ اگر خودکار نظام اور مشینیں روایتی انسانی کام سنبھالنے لگیں تو کم ہنرمند افراد کے روزگار کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ ٹیکسٹائل اور زراعت جیسے بڑے شعبوں میں خودکاری کا مقصد انسانی ملازمین کو یکسر ہٹانا نہیں بلکہ جدید تربیت اور ریسرچ کے ذریعے ان کی صلاحیتوں کو بڑھانا ہونا چاہیے۔ چوتھا صنعتی انقلاب پاکستان کے لیے صرف ایک چیلنج نہیں بلکہ معاشی ماڈل کی ازسرنو تشکیل کا بہترین موقع ہے۔





تبصرے