صحت
[DEV-FRONTEND-DATASET] Temporary category for local frontend design testing.
مزید خبریں

کیا سن اسکرین واقعی جلدی کینسر کا سبب بنتی ہے؟ سوشل میڈیا کے مقبول دعووں کی سائنسی حقیقت
دنیا بھر میں گرمی کی شدید لہر اور دھوپ کی شدت بڑھنے کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر یہ افواہ گردش کر رہی ہے کہ دھوپ سے بچاؤ کی کریمیں یعنی 'سن اسکرین' جلد کے کینسر کا باعث بنتی ہیں۔ تاہم سائنسی تحقیقات اور طبی ماہرین نے اس تاثر کو بالکل لغو اور بلامصداق قرار دیا ہے۔ کنیکٹیکٹ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ آف پبلک ہیلتھ اور دیگر عالمی اداروں کے مطابق سن اسکرین کے باقاعدہ استعمال اور کینسر کے خطرے کے درمیان کوئی تعلق نہیں۔ کینسر کے کیسز میں اضافے کی اصل وجہ موسمیاتی تبدیلیاں، اوزون کی تہہ کو نقصان اور الٹرا وائلٹ (UV) شعاعوں کا اثر ہے۔ ماہرین روزانہ کی بنیاد پر سن اسکرین کے درست استعمال کی ہدایت کرتے ہیں۔

پاکستان میں صحت کا بحران سنگین: روزانہ 675 نوزائیدہ بچے جان کی بازی ہارنے لگے، پی ایم اے کا ہیلتھ ایمرجنسی کا مطالبہ
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) نے ملک میں صحت کی زبوں حالی پر 'ہیلتھ آف دی نیشن 2026' رپورٹ جاری کرتے ہوئے قومی سطح پر ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں روزانہ 675 نوزائیدہ بچے اور 27 مائیں قابلِ علاج بیماریوں سے دم توڑ دیتی ہیں، جبکہ آلودہ پانی 40 فیصد سالانہ اموات کی وجہ بن رہا ہے۔ اس کے علاوہ، ایچ آئی وی کے کیسز میں 200 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور انسولین سمیت 80 ضروری ادویات کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔ پی ایم اے نے صحت کا بجٹ جی ڈی پی کے کم از کم 3 فیصد تک بڑھانے، ادویات کی قیمتیں منجمد کرنے اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو قومی سلامتی کا معاملہ قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستان میں ذیابیطس کے 30 سے 40 فیصد مریض ڈپریشن کا شکار: انڈس ہسپتال کے سیمینار میں طبی ماہرین کی تاکید
پاکستان میں ذیابیطس کے مریضوں کی بڑی تعداد ذہنی مسائل اور اعصابی تناؤ کا شکار ہو رہی ہے، جبکہ ملک میں نفسیاتی معالجین کی شدید کمی حالات کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ کراچی میں انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کے تحت منعقدہ نشست میں طبی ماہرین نے انکشاف کیا کہ ذیابیطس سے متاثرہ افراد عام آبادی کے مقابلے میں دو سے تین گنا زیادہ ڈپریشن کا شکار ہوتے ہیں۔ ماہرین نے زور دیا ہے کہ ذیابیطس اور دیگر دائمی بیماریوں کی دیکھ بھال میں ذہنی صحت کو لازمی جزو کے طور پر شامل کیا جائے۔ برطانیہ کی یونیورسٹی آف یارک کے اشتراک سے شروع کیے گئے ایک تحقیقی پروگرام 'ڈایا ڈیم' کے تحت غیر ماہر طبی عملے کے ذریعے کونسلنگ تھراپی کے ذریعے مریضوں کے علاج میں نمایاں کامیابی حاصل کی گئی ہے۔

موسمیاتی تباہ کاریوں کا وہ ان دیکھا پہلو جو خاموشی سے انسان کی نفسیاتی صحت کو نگل رہا ہے
موسمیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات کے نتیجے میں ہونے والے معاشی نقصانات اور جسمانی بیماریوں پر تو بات کی جاتی ہے، لیکن اس کے باعث پیدا ہونے والے خاموش نفسیاتی بحران کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انٹر گورنمنٹل پینل آن کلائمٹ چینج (آئی پی سی سی) اور عالمی ادارہ صحت کی رپورٹیں تصدیق کرتی ہیں کہ سیلاب، قحط اور شدید گرمی انسانی ذہن پر گہرے منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ پاکستان میں 2010 اور 2022 کے ہولناک سیلابوں سے متاثر ہونے والے کروڑوں افراد تاحال نفسیاتی صدمات اور شدید تناؤ کا شکار ہیں۔ ملک میں ذہنی صحت کے معالجین اور علاج گاہوں کی شدید قلت کے باعث یہ صورتحال ایک خاموش لیکن سنگین المیے کا روپ دھار چکی ہے۔

زہریلی ہوا اور پھیلتی بیماریاں: پاکستان میں صاف ستھری فضا کے لیے فوری اور ہنگامی اقدامات کیوں ضروری ہیں؟
پاکستان میں ایک عام شخص روزانہ 20 ہزار سے زائد بار سانس لیتا ہے، لیکن کراچی، لاہور، فیصل آباد، حیدرآباد اور پشاور جیسے شہروں میں فضا میں موجود نظر نہ آنے والے زہریلے ذرات شہریوں کی صحت کو خاموشی سے تباہ کر رہے ہیں۔ فضائی آلودگی اور سردیوں کی سموگ اب محض ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سنگین قومی صحت اور معاشی بحران بن چکی ہے۔ گاڑیوں کے زہریلے دھوئیں، صنعتی اخراج، اینٹوں کے بھٹوں اور کچرا جلانے کی وجہ سے ہوا میں خطرناک ذرات کی مقدار عالمی ادارہ صحت اور قومی معیارات سے کہیں آگے نکل چکی ہے۔ اس بحران سے نمٹنے کے لیے ایئر کوالٹی مانیٹرنگ، ٹرانسپورٹ میں اصلاحات اور کچرے کی تدفین کے جدید نظام کا ہنگامی قیام ناگزیر ہے۔

