پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) نے ملک میں صحت کے بنیادی ڈھانچے اور عوامی صحت کی ابتر صورتحال پر ایک تشویشناک سالانہ رپورٹ جاری کی ہے، جس میں حکومت سے فوری طور پر ملک بھر میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ کراچی میں پی ایم اے ہاؤس میں 'ہیلتھ آف دی نیشن 2026' کے عنوان سے جاری کی گئی اس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان اس وقت ماں اور بچے کی اموات، آلودہ پانی، ادویات کی قلت اور ایچ آئی وی کے تیزی سے پھیلتے کیسز جیسے سنگین چیلنجز کی زد میں ہے۔
رپورٹ میں دیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان میں ہر روز 675 نوزائیدہ بچے اور 27 مائیں ایسی بیماریوں اور طبی پیچیدگیوں کی وجہ سے اپنی جان گنوا بیٹھتے ہیں جن کا علاج ممکن ہے۔ اس کے علاوہ ملک میں ہونے والی کل سالانہ اموات میں سے تقریباً 40 فیصد کی بڑی وجہ غیر معیاری اور آلودہ پانی ہے۔ اس وقت ہر پانچواں پاکستانی پانی سے جنم لینے والی کسی نہ کسی بیماری میں مبتلا ہے، جبکہ بچوں میں اسہال (ڈائریا) اموات کی سب سے بڑی وجہ بنا ہوا ہے۔ پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کا عالمی سطح پر سب سے زیادہ بوجھ ہے، جبکہ ایشیا میں چھاتی کے کینسر اور جنوبی ایشیا میں دل کے امراض کی شرح بھی پاکستان ہی میں سب سے زیادہ ہے۔
پینے کا آلودہ پانی اور بیماریوں کا نیا طوفان
پی ایم اے کی رپورٹ میں کراچی اور اندرون سندھ میں ایکس ڈی آر (X-DR) ٹائفائیڈ کے پھیلنے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ سالمونلا ٹائفی بیکٹیریا کی یہ انتہائی مزاحمتی قسم آلودہ پانی اور خوراک کے ذریعے پھیلتی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اینٹی بائیوٹک ادویات کے بے دریغ اور غیر منظم استعمال نے پہلی لائن کے علاج کے خلاف بیکٹیریا کی مزاحمت کو بڑھا دیا ہے، جس سے اس بیماری پر قابو پانا انتہائی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
رپورٹ کا ایک اور تشویشناک پہلو ایچ آئی وی کی صورتحال ہے۔ پاکستان اس وقت عالمی ادارہ صحت کے ایسٹرن میڈیٹیرینین ریجن میں ایچ آئی وی کے سب سے تیز رفتار پھیلاؤ کا شکار ہے۔ گزشتہ 15 سالوں میں ملک میں ایچ آئی وی کے نئے کیسز میں 200 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو 2010 میں 16 ہزار سے بڑھ کر 2024 میں 48 ہزار تک پہنچ گئے۔ اندازے کے مطابق اس وقت پاکستان میں 3 لاکھ 50 ہزار افراد ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، لیکن ان میں سے تقریباً 80 فیصد افراد اپنی اس حالت سے ناواقف ہیں۔ طبی مراکز میں غیر محفوظ سرنجوں کے استعمال اور ناپاک خون منتقل کیے جانے کے باعث بچے بھی اس کا شکار ہو رہے ہیں۔
ادویات کی شدید قلت اور پی ایم اے کے مطالبات
عوامی صحت کا بحران اس وقت مزید سنگین روپ دھار لیتا ہے جب مارکیٹ میں حیات بخش ادویات کی نایابی اور قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ سامنے آتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق انسولین سمیت 80 انتہائی ضروری ادویات کی دستیابی کا بحران پیدا ہو چکا ہے۔
اس موقع پر پی ایم اے سینٹر کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر عبدالغفور شوڑو نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب ایک باپ کو اپنے بچوں کے لیے آٹا خریدنے یا اپنی بیٹی کے لیے انسولین لینے کے درمیان انتخاب کرنا پڑے، تو یہ ریاست اور شہری کے درمیان معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ یہ صرف مہنگائی نہیں بلکہ غریبوں کا معاشی قتل ہے۔
ان حالات کے پیشِ نظر پی ایم اے نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فوری طور پر قومی ہیلتھ ایمرجنسی کا اعلان کرے اور صحت کے بجٹ کو بڑھا کر جی ڈی پی کا کم از کم 3 فیصد مقرر کرے۔ تنظیم نے حیات بخش ادویات کی قیمتوں کو فوری طور پر منجمد کرنے، بلیک مارکیٹ کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے اور ہیپاٹائٹس و ٹائفائیڈ کی وبائی صورتحال کو روکنے کے لیے صاف پانی کی فراہمی کو قومی سلامتی کی ترجیح بنانے پر زور دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہوا کی آلودگی کو بھی محض ماحولیاتی نہیں بلکہ عوامی صحت کی ہنگامی صورتحال قرار دیتے ہوئے ماحولیاتی تحفظ کو قومی ہیلتھ پالیسی کا حصہ بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔





تبصرے