پاکستان میں حکمرانی کے نظام کو عوام کے لیے زیادہ جوابی دہ اور موثر بنانے کی بحث دہائیوں پرانی ہے۔ حال ہی میں نئے اور چھوٹے صوبوں کے قیام کی آوازیں ایک بار پھر ابھری ہیں، لیکن اس پوری بحث میں نظام کا سب سے اہم اور بنیادی پہلو یعنی مقامی حکومتیں بدستور نظر انداز ہو رہی ہیں۔ ملک کی سیاسی تاریخ شاہد ہے کہ بلدیاتی اداروں کو بار بار تشکیل دیا گیا، لیکن ہر بار انہیں یا تو سیاسی مصلحتوں کی نذر کر کے مفلوج کر دیا گیا یا پھر ان کی مدت پوری ہونے سے پہلے ہی تحلیل کر دیا گیا۔ اس مسلسل بے ثباتی کا نتیجہ یہ نکلا کہ سیاسی اور انتظامی اختیارات کا مرکز صرف وفاق اور صوبائی دارالحکومت ہی بنے رہے، جبکہ عوام اپنے بنیادی روزمرہ مسائل کے حل کے لیے کسی بااختیار ادارے سے محروم رہ گئے۔
سال 2010ء میں منظور کی جانے والی اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے مرکز سے صوبوں کو اختیارات کی منتقلی کا ایک بڑا اور اہم قدم اٹھایا گیا تھا۔ تاہم، اختیارات کا یہ سفر صوبائی اسمبلیوں سے آگے نہ بڑھ سکا۔ صوبائی حکومتوں نے مرکزی سطح سے ملنے والے اختیارات اور وسائل کو نچلی سطح پر منتخب نمائندوں تک منتقل کرنے میں شدید ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا۔ اس صورتِ حال کے نتیجے میں حقیقی عدم مرکزیت کے بجائے ایک طرح کا صوبائیت پسندانہ تمرکز وجود میں آ گیا، جہاں فیصلے اسلام آباد سے تو نکلے لیکن لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ سے آگے نہ جا سکے۔
آئینی تحفظ اور مالیاتی خودمختاری کی ضرورت
آئین میں مقامی حکومتوں کا ذکر ضرور موجود ہے، لیکن ان کے مسلسل اور مؤثر فعال رہنے کے لیے واضح آئینی فریم ورک کا فقدان ہے۔ جب تک بلدیاتی انتخابات کی بروقت انجام دہی، اداروں کے تسلسل اور ان کے مالی و انتظامی اختیارات کے لیے قومی سطح پر یکساں اور لازمی آئینی حد مقرر نہیں کی جائے گی، صوبائی حکومتیں اپنی مرضی سے ان اداروں کو معطل کرتی رہیں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ صوبائی فنانس کمیشن کو فعال اور شفاف بنانا ضروری ہے تاکہ فنڈز کی منتقلی محض آبادی کی بنیاد پر نہیں بلکہ خطے کی غربت، بنیادی ڈھانچے کی ضروریات، اور خدمات کی فراہمی پر آنے والے اخراجات کو مدنظر رکھ کر کی جا سکے۔
مالیاتی وسائل کے ساتھ ساتھ بلدیاتی اداروں کی انتظامی صلاحیت میں اضافہ بھی وقت کی ضرورت ہے۔ محض ذمہ داریاں منتقل کر دینے سے مسائل حل نہیں ہوتے جب تک کہ تربیت یافتہ عملہ اور پیشہ ورانہ بیوروکریٹک کیڈر موجود نہ ہو۔ اس مقصد کے لیے مقامی حکومتوں کے لیے ایک الگ اور پیشہ ورانہ ایڈمنسٹریٹو سروس قائم کی جانی چاہیے جس میں منتخب عوامی نمائندوں اور بیوروکریسی کے دائرہ اختیار کو واضح طور پر الگ کیا جائے۔
بڑے شہروں کے مسائل اور جمہوریت کی مضبوطی
یہ بحران خاص طور پر کراچی، لاہور اور دیگر تیزی سے پھیلتے ہوئے بڑے شہری مراکزمیں زیادہ شدید شکل اختیار کر چکا ہے۔ ایسے بڑے شہروں کو سنبھالنے کے لیے بااختیار میٹروپولیٹن حکومتوں کی ضرورت ہے، جن کی قیادت منتخب میئرز کے پاس ہو اور ان کے پاس زمین کے استعمال، ٹرانسپورٹ، پینے کے پانی، نالیوں کی صفائی اور کوڑا کرکٹ کی تلفی کے مکمل اختیارات ہوں۔ جب تک بلدیاتی نمائندوں کو منصوبہ بندی، بجٹ سازی اور عمل درآمد کا پورا اختیار نہیں ملتا، شہری سہولیات کی صورتِ حال بدتر ہی رہے گی۔
حقیقی اور پائیدار جمہوریت کی بنیاد بھی اسی تیسرے درجے کی مضبوطی سے وابستہ ہے۔ مقامی حکومتیں عوام کی سطح پر نئی سیاسی قیادت کی نرسری ثابت ہوتی ہیں اور روایتی نوابی یا صوبائی اشرافیہ کے بجائے عام شہریوں کی سیاسی عمل میں شمولیت کو ممکن بناتی ہیں۔ جدید دور میں ٹیکنالوجی، جی آئی ایس اور پورٹلز کے ذریعے عوامی نگرانی اور شکایات کا نظام قائم کر کے ان اداروں کی شفافیت کو مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔ جب تک اختیارات اور وسائل کو گلی محلوں اور یونین کونسلوں کی سطح تک منتقل نہیں کیا جاتا، عام شہری کے لیے جمہوریت کے ثمرات محض ایک خواب ہی رہیں گے۔





تبصرے