خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں سیکیورٹی فورسز کا اہم آپریشن، 10 دہشت گرد ہلاکحکومت پاک ایران گیس پائپ لائن پر ٹرمپ سے ہم پر عائد پابندی ہٹانے کا کہے: راجہ ناصر عباسنائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز پر حملے کی شدید مذمت، 3 پاکستانیوں کی شہادت پر تعزیتملک بھر میں پیٹرول کی قیمت میں 1.70 روپے فی لیٹر کمی کا اعلاناسٹیٹ بینک آف پاکستان کا شرح سود میں کمی کا امکان
LIVE
Bitcoin rises above $80,000 as soft dollar, debasement fears boost momentumDocumentary NAZA on 'mass killing of Palestinian civilians' vying for Golden Lion at Venice Film Festival
عدالت
[DEV-FRONTEND-DATASET] Temporary Pakistan subcategory for local frontend design testing.
پاکستان کی پارلیمنٹ سے منظور ہونے والے 26ویں آئینی ترمیمی بل 2024 میں کل 27 شقیں شامل ہیں، جن کا بنیادی محور ملک کے عدالتی نظام میں اہم اصلاحات نافذ کرنا ہے。 اس ترمیم کے تحت اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری اور چیف جسٹس کے انتخاب کے طریقہ کار میں پارلیمنٹ کے کردار کو بڑھایا گیا ہے。 جوڈیشل کمیشن کی ازسرِنو تشکیل کے ساتھ ساتھ 12 رکنی خصوصی پارلیمانی کمیٹی کو تین سینئر ترین ججوں میں سے نیا چیف جسٹس منتخب کرنے کا اختیار دیا گیا ہے。 علاوہ ازیں، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں آئینی بنچوں کا قیام، ازخود نوٹس کے اختیارات کی ان بنچوں کو منتقلی، صاف ستھرے ماحول کو بنیادی حق قرار دینا اور الیکشن کمیشن سے متعلق شقیں بھی اس ترمیم کا حصہ ہیں。
پاکستان میں ہیومن رائٹس کمیشن (ایچ آر سی پی) اور انٹرنیشنل فیڈریشن فار ہیومن رائٹس (ایف آئی ڈی ایچ) کی ایک نئی مشترکہ تحقیقی رپورٹ میں عدالتی نظام میں نچلی سطح سے لے کر اعلیٰ عدلیہ تک پھیلی منظم کرپشن کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ 32 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رشوت ستانی، اقربا پروری اور انتظامی کمزوریوں نے منصفانہ ٹرائل کے حق کو شدید متاثر کیا ہے، جس کا سب سے زیادہ خمیازہ غریب طبقات اور اقلیتوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ رپورٹ میں 26ویں اور 27ویں آئینی ترمیمات کو عدالتی خودمختاری کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے ان کی منسوخی، ججوں کے اثاثے عام کرنے اور اصلاحات کے لیے عالمی برادری کی شمولیت کی سفارش کی گئی ہے۔
2007ء سے 2009ء کے دوران پاکستان میں چلنے والی وکلاء تحریک نے ناصرف ججوں کی بحالی بلکہ آمریت کے خاتمے اور جمہوری نظام کی واپسی میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ تاہم آج آئینی تحفظات اور عدلیہ کی آزادی پر بحث کے باوجود ماضی جیسا کوئی عوامی تحرک نظر نہیں آتا۔ میڈیا پر پابندیوں، بار ایسوسی ایشنز کی سیاسی دھڑے بندیوں اور عدالتی نظام میں عوامی اصلاحات کی عدم موجودگی کے باعث عام شہریوں کا اعتماد مجروح ہوا ہے۔ اس تجزیے میں ان اسباب کا احاطہ کیا گیا ہے جن کی وجہ سے آج اجتماعی آئینی مزاحمت غائب ہے اور سیاسی قیادت پر کیا ذمے داریاں عائد ہوتی ہیں۔
سندھ میں گریڈ 16 اور 17 کی ملازمتوں کے لیے لیے گئے 'سی سی ای 24' امتحان کے نتائج جاری ہونے کے بعد صوبہ بھر میں احتجاج کی لہر دوڑ گئی ہے۔ 4,300 سے زائد امیدواروں میں سے صرف 70 کے پاس ہونے اور کرمنالوجی و ماحولیاتی سائنس کے پرچوں کی نمبرنگ میں گڑبڑ نے امیدواروں میں سنگین تحفظات پیدا کر دیے ہیں۔ احتجاجی تحریک حیدرآباد، نواب شاہ، گھوٹکی، اور قمبر سمیت کئی اضلاع تک پھیل چکی ہے۔ سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے نتائج کی معطلی کے بعد معاملہ نئی قائم شدہ وفاقی آئینی عدالت پہنچا، جس نے عبوری احکامات معطل کرتے ہوئے انٹرویوز جاری رکھنے کی اجازت دی۔ امیدوار اب امتحانی مواد کے فارنزک آڈٹ اور شفافیت کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔