پاکستان میں توہین سے متعلق قوانین اور ان کے اطلاق کا معاملہ ہمیشہ سے قانونی اور فکری حلقوں میں زیرِ بحث رہا ہے۔ تاریخی اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ قیامِ پاکستان سے لے کر 1985ء تک کے 38 سالوں میں اس قانون کے تحت محض 14 مقدمات سامنے آئے تھے۔ تاہم، 1986ء میں قانون میں ترمیم کے بعد سے اب تک 1,500 سے زائد افراد کے خلاف مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر 2017ء میں مذہبی آزادی سے متعلق امریکی کمیشن (USCIRF) نے دنیا کے 71 ممالک میں نافذ العمل توہینِ مذہب کے قوانین کا تحقیقی جائزہ لیا، جس میں ایران اور پاکستان کو ان ممالک کی فہرست میں پہلے اور دوسرے نمبر پر رکھا گیا جہاں کے قوانین بین الاقوامی انسانی حقوق کے طے شدہ اصولوں سے نمایاں طور پر مختلف اور سخت تصور کیے جاتے ہیں۔
یورپ کی تاریخ اور نوآبادیاتی دور کا قانون
قوانینِ توہین کی تاریخ کا کھوج لگایا جائے تو یورپی خطے میں اس کی شروعات تیرھویں صدی میں فرانس کے بادشاہ لوئی نہم کے دور سے ملتی ہے، جس نے توہین کا جرم ثابت ہونے پر زبان اور ہونٹ کاٹنے جیسی سزائیں مقرر کی تھیں۔ مورخ نورا بیرینڈ نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ لوئی نہم نے ان قوانین کا استعمال یہودیوں، مسلمانوں اور اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف کیا اور تلمود کے درجنوں نسخے نذرِ آتش کروائے۔ فرید زکریا نے نامور عالم مولانا وحید الدین خان کے حوالے سے واضح کیا ہے کہ قرآنِ پاک میں توہین پر کوڑے، سزائے موت یا کسی بھی قسم کی جسمانی سزا کا تعین نہیں کیا گیا۔
انگلینڈ میں پندرھویں صدی کے دوران بادشاہ ہینری نہم کے عہد میں اس نوعیت کی سخت قانون سازی کی گئی جس کے تحت متعدد افراد کو زندہ جلایا گیا۔ تاہم، فرانس نے انقلاب کے بعد 1791ء میں اس قانون کو ختم کر دیا، جبکہ برطانیہ میں 1949ء میں ایک جج نے اسے غیر فعال قرار دیا۔ مسلم دنیا کی بات کی جائے تو 1932ء میں سعودی عرب وہ پہلا مسلم ملک بنا جس نے توہین کے لیے سزائے موت تجویز کی۔ برصغیر میں برطانوی راج نے 1860ء میں تعزیراتِ ہند کے تحت یہ قانون متعارف کروایا اور 1927ء میں مذہبی کشیدگی کے بعد اس کی شقوں میں وسعت لائی گئی، مگر اس وقت سزا صرف ایک سال قید یا جرمانہ تھی۔ 1947ء میں پاکستان نے اسی قانون کو اپنایا اور یوں پاکستان، سعودی عرب کے بعد ایسا قانون رکھنے والا دوسرا مسلم ملک بنا، جس کے بعد 1953ء میں لیبیا اور 1965ء میں انڈونیشیا نے بھی ایسے قوانین پاس کیے، لیکن ان میں سے کسی میں سزائے موت شامل نہیں تھی۔
ضیاء الحق کا دور اور 1986ء کی قانون سازی
1979ء کے ایرانی انقلاب کے بعد وہاں سخت قوانین کا نفاذ ہوا جس سے ایران سزائے موت دینے والا دوسرا مسلم ملک بنا۔ پاکستان میں جنرل ضیاء الحق کے دورِ حکومت میں 1980ء میں قانون میں دو سال کی مزید سزا بڑھائی گئی اور 1982ء میں مقدس تحریروں کی بے حرمتی پر عمر قید کا اضافہ کیا گیا۔
1985ء کے غیر جماعتی انتخابات کے نتیجے میں بننے والی محمد خان جونیجو کی حکومت کے دوران اس قانون میں حتمی اور سب سے بڑی تبدیلی آئی۔ اسلام آباد میں ویمنز ایکشن فورم (WAF) کے ایک سیمینار میں حقوقِ دان عاصمہ جہانگیر نے علماء کے سیاسی کردار پر تنقید کی، جس پر پارلیمنٹ میں جماعتِ اسلامی کے رکن لیاقت بلوچ اور ایم این اے نثار فاطمہ کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا۔ اگرچہ وفاقی شرعی عدالت کے سابق جج آفتاب حسین نے عاصمہ جہانگیر کے بیان میں کچھ قابلِ اعتراض نہ ہونے کی توثیق کی، لیکن نثار فاطمہ اور ان کے ہم خیال اراکین نے قانون میں سزائے موت کی شق شامل کرنے کے لیے بل پیش کر دیا۔ سینیئر صحافی خالد احمد اور دیگر شواہد کے مطابق، جونیجو حکومت کے بعض وزراء نے اس بل کو روکنے کی کوشش کی اور جھنگ سے تعلق رکھنے والے رکنِ اسمبلی عارف خان نے صبر و تحمّل کی اپیل کی، تاہم ان کی تجاویز کو رد کرتے ہوئے 1986ء میں سزائے موت کا بل پاس کر دیا گیا۔ حالیہ ادوار میں جہاں ملتان کی عدالت کی جانب سے ایک پروفیسر کو سزائے موت سنانے کے واقعات سامنے آئے، وہیں اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے سابق وزیراعظم کے خلاف دائر درخواست کو یہ کہہ کر مسترد کیا گیا کہ مذہب انسان کا 'ذاتی معاملہ' ہے، جو اس قانون کی تشریح اور اطلاق کے مختلف پہلوؤں کو نمایاں کرتا ہے۔





تبصرے