افغانستان کے تاریخی شہر ہرات کی جامع مسجد کے قریب زرنگار روڈ پر ماضی میں نوادرات اور روایتی دستکاریوں کی دکانیں رونق بڑھایا کرتی تھیں۔ اسی بازار میں سلطان احمد حمیدی کی دکان اپنی مثال آپ تھی، جہاں وہ قدیم نوادرات کے ساتھ ساتھ ہرات کی مشہور روایتی شیشہ سازی کے شاہکار بھی فروخت کرتے تھے۔ تاہم 2018 میں ان کے انتقال کے بعد اس ہزاروں سال پرانی صنعت کا بوجھ اب صرف ایک کاریگر، استاد غلام سخی کے کندھوں پر آن پڑا ہے۔ تیموری دور میں بلندیوں کو چھونے والا یہ فن اب ہرات میں قائم صرف ایک بھٹی تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔

ہرات میں شیشہ سازی کی تاریخ انتہائی قدیم ہے۔ آثارِ قدیمہ کے سابق ڈائریکٹر ایام الدین اجمل کے مطابق کھدائی سے ملنے والے شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ ہرات میں شیشہ سازی کی باقاعدہ شروعات تقریباً 1800 سال قبل ہوئی تھی، جبکہ مقامی کاریگر اس کی تاریخ تین ہزار سال پرانی بتاتے ہیں۔ تقریباً 70 برس پہلے تک یہ صنعت اپنے عروج پر تھی اور ہرات کے کاریگر مقامی معدنیات کو پگھلا کر شیشہ تیار کرتے تھے، جس میں لوہے، سیسے اور تانبے کے سفوف سے رنگ بھرے جاتے تھے۔ بعد میں دنیا بھر میں کارخانوں کے قیام اور سستی مصنوعات کی آمد کے بعد کاریگروں نے خام معدنیات کی بجائے ٹوٹے ہوئے شیشوں کو دوبارہ پگھلا کر آرائشی برتن بنانا شروع کر دیے۔

جدید مارکیٹ کا دباؤ اور زوال کی وجوہات

1950 کی دہائی کے بعد سے جہاں جدید فیکٹریوں کا بنا شیشہ عام اور سستا ہوا، وہی ہرات کی روایتی بھٹیاں ایک ایک کر کے بند ہونے لگی۔ دس بھٹیوں سے شروع ہونے والا یہ سفر غیر ملکی سیاحوں کی مرہونِ منت دو بھٹیوں پر آ کر سمٹا، جس میں کاریگروں نے عام استعمال کی اشیاء چھوڑ کر صرف سمارٹ آرائشی سامان بنانا شروع کیا۔ ماضی میں افغان حکومت نے دو کاریگروں کو افریقی ملک کینیا بھی بھیجا تھا تاکہ وہاں کی جدید روایتی تکنیکیں سیکھ کر اس فن کو جلا بخشی جا سکے، مگر اس کے باوجود مقامی منڈی میں وہ پرانی رونق واپس نہ آ سکی۔

ہرات کے محکمہ اطلاعات و ثقافت کے سربراہ نعیم الحق حقانی اور طالبان انتظامیہ نے اس تباہ ہوتے ثقافتی ورثے کو بچانے کے لیے سرکاری سرپرستی میں بھٹی کو دوبارہ فعال کیا ہے۔ اس کے باوجود، ہرات کے آخری شیشہ گر خلیفہ غلام سخی مقامی سطح پر عدم توجہی اور خریداروں کی کمی پر نالاں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اب ان کی تیار کردہ اشیاء صرف چند غیر ملکی سیاح ہی خریدتے ہیں۔ ہرات کلچرل ہیریٹیج سپورٹرز ایسوسی ایشن کے سربراہ عبدالقیوم وزیری کا بھی یہی ماننا ہے کہ اس قسم کے قومی اور ثقافتی ورثے کو زوال سے بچانے کے لیے شہریوں اور حکومت دونوں کو آگے بڑھ کر اس کی خریداری کے ذریعے سرپرستی کرنی ہوگی۔