دنیا کے بیشتر ممالک کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی موسمِ گرما کی شدت اور گرمی کی لہروں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ایسی شدید دھوپ اور گرمی میں معالجین عام طور پر جلد کی حفاظت کے لیے سن اسکرین کے استعمال کا مشورہ دیتے ہیں۔ لیکن دوسری جانب سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایک نئی بحث نے جنم لیا ہے جہاں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ دھوپ سے بچانے والی یہ کریمیں خود جلد کے کینسر، بالخصوص 'میلانوما' کا سبب بن رہی ہیں۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ان تحریروں اور ویڈیوز میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ سن اسکرین جسم کو سورج کی قدرتی روشنی جذب کرنے سے روکتی ہے اور اس کا استعمال فائدے کے بجائے نقصان دہ ہے۔ اس دعوے کے حق میں امریکی نیشنل کینسر انسٹی ٹیوٹ کے حوالے سے یہ کہا گیا کہ 1940ء میں سن اسکرین کے آغاز کے بعد سے میلانوما کے کیسز میں 200 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ تاہم، سائنسی شواہد اور سرکاری طبی اعداد و شمار اس دعوے کی مکمل نفی کرتے ہیں۔

سوشل میڈیا کے ادعاجات اور سائنسی حقائق

امریکی ریاست کنیکٹیکٹ کے ڈیپارٹمنٹ آف پبلک ہیلتھ کی ترجمان بریٹنی شیفر کے مطابق، سن اسکرین کے استعمال اور کینسر کے بڑھتے ہوئے خطرے کے درمیان کوئی سائنسی یا طبی تعلق موجود نہیں۔ یہ بات بھی مکمل طور پر بے بنیاد ہے کہ نیشنل کینسر انسٹی ٹیوٹ نے کبھی سن اسکرین کو کینسر کی وجہ قرار دیا ہو۔

حقیقت یہ ہے کہ میلانوما کے قابلِ اعتماد اعداد و شمار کا ریکارڈ 1975ء سے دستیاب ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 1975ء سے 2023ء کے درمیان اس کینسر سے متاثرہ افراد کی تعداد میں 220 فیصد اضافہ ضرور درج ہوا ہے، لیکن اس اضافے کا دھوپ سے بچاؤ کی کریموں سے کوئی دور کا تعلق بھی ثابت نہیں ہوا، بلکہ سائنسی مطالعات یہ بتاتے ہیں کہ سن اسکرین کا باقاعدہ استعمال جلد کو کینسر سے محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

جلد کے کینسر میں اضافے کی اصل وجوہات

اگر سن اسکرین کینسر کی وجہ نہیں ہے تو پھر میلانوما کے کیسز میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟ اس سوال کا جواب سائنسی تحقیقات میں واضح طور پر ملتا ہے۔ سن 2023ء میں امریکہ، جرمنی، سوئٹزرلینڈ اور ہنگری کے سائنس دانوں کے ایک مشترکہ مطالعے نے اس اضافے کی چند بنیادی وجوہات کی نشاندہی کی تھی۔

تحقیق کے مطابق کیسز کی تعداد بڑھنے کی بڑی وجہ طبی تشخیص کے جدید اور بہتر طریقے ہیں، جن کی بدولت اب ماضی کے مقابلے میں کینسر کے کیسز بروقت رپورٹ ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ، عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے اوزون کی تہہ کو پہنچنے والا نقصان اور الٹرا وائلٹ (UV) شعاعوں کی شدت میں اضافہ بنیادی عوامل ہیں۔ لوگوں کا کھلا ہوا جسم کے ساتھ زیادہ وقت دھوپ میں گزارنا بھی اس خطرے کو بڑھاتا ہے۔

سن اسکرین کے درست استعمال کی ضرورت

ایک اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ اکثر لوگ سن اسکرین کا استعمال درست طریقے سے نہیں کرتے۔ مختلف ممالک میں کیے گئے سروے ظاہر کرتے ہیں کہ لوگ اس کریم کو صرف گرمیوں میں یا شدید دھوپ میں نکلتے وقت لگاتے ہیں، جبکہ طبی ماہرین کے نزدیک اس کا باقاعدہ استعمال ضروری ہے۔

جرمنی میں 2024ء کے ایک سروے سے معلوم ہوا کہ 51 فیصد لوگ صرف گرمیوں میں سن اسکرین استعمال کرتے ہیں جبکہ 17 فیصد افراد اسے کبھی نہیں لگاتے۔ امریکہ میں بھی 33 فیصد بالغ افراد نے اعتراف کیا کہ انہوں نے زندگی میں کبھی سن اسکرین کا استعمال نہیں کیا۔

امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کی ہدایت ہے کہ موسم چاہے ابر آلود ہو یا آپ گھر کے اندر موجود ہوں، سن اسکرین کا استعمال روزانہ کی بنیاد پر کرنا چاہیے۔ ماہرینِ صحت کا متفقہ مؤقف ہے کہ سن اسکرین کے خلاف پھیلائی جانے والی غلط معلومات شہریوں کو ایک اہم حفاظتی تدبیر سے دور کر کے حقیقی طبی خطرات کے سامنے بے یار و مددگار چھوڑ سکتی ہیں۔