موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پر جب بھی بات ہوتی ہے تو زیادہ تر توجہ تباہ شدہ عمارتوں، برباد فصلوں، معاشی نقصانات اور جسمانی امراض تک محدود رہتی ہے۔ تاہم، اس مادی تباہی کی تہہ میں ایک ایسا خاموش بحران جنم لے رہا ہے جو انسانی ذہنوں کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔ انٹر گورنمنٹل پینل آن کلائمٹ چینج (آئی پی سی سی) کی چھٹی جائزہ رپورٹ کے مطابق، موسم کی شدید لہریں انسانی ذہن اور نفسیاتی بہبود پر براہِ راست اثر انداز ہوتی ہیں، جس کے نتیجے میں شدید ذہنی دباؤ، ڈپریشن اور انزائٹی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
عالمی سطح پر صرف فضائی آلودگی کی وجہ سے ہر سال تقریباً 70 لاکھ افراد قبل از وقت لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ اسی طرح عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے تخمینے ظاہر کرتے ہیں کہ 2030 سے 2050 کے درمیان موسمیاتی شدت کی وجہ سے غذائی قلت، ملیریا، ڈائریا اور شدید گرمی کے باعث ہر سال مزید ڈھائی لاکھ اضافی اموات متوقع ہیں۔ لیکن قدرتی آفات کا سب سے اندوہناک پہلو وہ نفسیاتی صدمہ ہے جو متاثرین کے دل و دماغ پر نقوش چھوڑ جاتا ہے، اور جس کا علاج زبانی ہمدردی یا وقتی امدادی راشن سے ممکن نہیں۔
عالمی سطح پر نوجوانوں کی تشویش اور نفسیاتی دباؤ
ماحولیاتی آفات کی سب سے بھاری قیمت غریب اور نامساعد حالات کے شکار ممالک ادا کر رہے ہیں، جہاں کے رہنے والوں کے پاس ان بحرانوں کا مقابلہ کرنے کے لیے بنیادی وسائل کا شدید فقدان ہے۔ دنیا بھر میں موجود 1 ارب 80 کروڑ نوجوانوں میں سے 90 فیصد ایسے ہی ماحولیاتی طور پر حساس ترقی پذیر علاقوں میں مقیم ہیں۔
سال 2021 میں باتھ یونیورسٹی کے ایک مطالعے کے دوران 10 مختلف ممالک کے 10 ہزار نوجوانوں سے معلومات اکٹھی کی گئیں، جس سے معلوم ہوا کہ 60 فیصد نوجوان موسمیاتی بحران کے مستقبل کے اثرات کے بارے میں شدید تشویش کا شکار تھے اور اس مسلسل دباؤ کے باعث ان کی جسمانی اور نفسیاتی صلاحیتیں متاثر ہو رہی تھیں۔ ان چند سالوں کے دوران دنیا بھر میں سامنے آنے والے ماحولیاتی واقعات کے بعد اس تشویش کے گراف میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
پاکستان میں تباہ کن سیلاب اور نفسیاتی اثرات
پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں کے مظاہر سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ یہاں لگاتار آنے والے سیلابوں اور شدید گرمی کی لہروں نے غربت، صحت کے مسائل اور نااہلی کے ایک ایسے الجھے ہوئے بحران کو جنم دیا ہے جس کا ایک اہم رخ ذہنی صحت بھی ہے۔
سال 2010 اور 2022 کے ہولناک سیلابوں میں کروڑوں افراد نہ صرف معاشی طور پر برباد ہوئے بلکہ شدید نفسیاتی صدمے اور ڈپریشن کا شکار بھی ہوئے۔ گھروں کی تباہی، پیاروں کی موت اور بے گھری کا وہ درد جن سے متاثرین گزرے، اسے ناپنے کا کوئی معیار موجود نہیں تھا۔ یونیسف کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2022 کے سیلاب کے بعد چھ ماہ سے زائد عرصے تک تقریباً 1 کروڑ بچے پینے کے صاف پانی اور دیگر ضروری بنیادی سہولیات سے محروم رہے۔ اس تمام عرصے میں زخمیوں کی مرہم پٹی تو کی گئی اور معاشی نقصانات کا کسی حد تک ازالہ ہوا، لیکن ان بچوں اور نوجوانوں کے نفسیاتی زخموں پر توجہ نہیں دی گئی۔
سرکاری انفراسٹرکچر کا فقدان اور پالیسی کی ضرورت
اس غفلت کی ایک بڑی وجہ ملک میں ذہنی صحت کے علاج معالجے کے بنیادی انفراسٹرکچر کا نہ ہونا ہے۔ پاکستان سمیت متعدد ترقی پذیر ممالک میں نفسیاتی معالجین اور علاج گاہوں کی تعداد اتنی کم ہے کہ صحتِ عامہ کی بحث میں یہ شعبہ ہمیشہ پسِ پشت چلا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی اہم ہے کہ قدرتی آفات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ذہنی و نفسیاتی مسائل سے متعلق آگاہی کا شدید فقدان ہے۔
عمومی طور پر ماحولیاتی پالیسیاں بناتے وقت مادی اور جسمانی نقصانات کا حساب تو رکھا جاتا ہے لیکن قدرتی آفات سے جنم لینے والے ذہنی صدمات اور نفسیاتی بیماریوں کے اخراجات کو ان پالیسیوں میں شامل ہی نہیں کیا جاتا۔ مزید برآں، ہمارے معاشرے میں ذہنی امراض پر بات کرنا ایک نامناسب عمل سمجھا جاتا ہے۔ اس ہچکچاہٹ کو ختم کرنے کے لیے تعلیمی اداروں، مقامی حکومتوں اور میڈیا کے ذریعے آگاہی پھیلانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ متاثرین کی نفسیاتی بحالی کو قومی پالیسی کا حصہ بنانا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔





تبصرے