خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں سیکیورٹی فورسز کا اہم آپریشن، 10 دہشت گرد ہلاکحکومت پاک ایران گیس پائپ لائن پر ٹرمپ سے ہم پر عائد پابندی ہٹانے کا کہے: راجہ ناصر عباسنائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز پر حملے کی شدید مذمت، 3 پاکستانیوں کی شہادت پر تعزیتملک بھر میں پیٹرول کی قیمت میں 1.70 روپے فی لیٹر کمی کا اعلاناسٹیٹ بینک آف پاکستان کا شرح سود میں کمی کا امکان
LIVE
Bitcoin rises above $80,000 as soft dollar, debasement fears boost momentumDocumentary NAZA on 'mass killing of Palestinian civilians' vying for Golden Lion at Venice Film Festival
شوبز
[DEV-FRONTEND-DATASET] Temporary category for local frontend design testing.
پاکستان میں 2022 کی کامیاب فلم 'دی لیجنڈ آف مولا جٹ' کے بعد مقامی فلموں کی باقاعدہ اور مسلسل فراہمی رک جانے سے ملک گیر سطح پر سنیما گھر ایک شدید معاشی بحران کی لپیٹ میں ہیں۔ تقریباً 25 کروڑ کی آبادی کے لیے ملک میں محض 150 اسکرینیں اور 60 کے قریب سنیما موجود ہیں، جو زیادہ تر مخصوص جغرافیائی اور معاشی طبقے تک محدود ہیں۔ او ٹی ٹی پلیٹ فارمز کے بڑھتے اثرات، مہنگے ٹکٹ اور عام آبادی کی عدم رسائی نے بڑی اسکرین کے تجربے کو متاثر کیا ہے۔ ماہرین اور فنکاروں کے مطابق فلمی انڈسٹری کی بحالی کے لیے معیاری مواد کی مسلسل پیداوار، طلبہ کے لیے رعایتی ٹکٹ اور غیر ملکی یا بھارتی فلموں کی مشروط نمائش سے متعلق واضح حکمتِ عملی ناگزیر ہے۔
پاکستان میں گزشتہ سات برسوں کے دوران 67 سینما گھروں کی بندش، ملٹی پلیکسز کی مہنگی ٹکٹوں اور سالانہ فلموں کی شدید قلت نے مقامی فلمی صنعت کو گہرے بحران میں مبتلا کر دیا ہے۔ جہاں اسٹریمنگ پلیٹ فارمز (OTT) نے پاکستانی ڈراموں اور ویب سیریز کو بین الاقوامی سطح پر نئی شناخت دی ہے، وہیں سینما کی بحالی کے لیے معیاری کہانیوں، نوجوان فلم سازوں کی حوصلہ افزائی، ٹکٹوں کی قیمتوں میں کمی اور حکومتی سرپرستی پر مبنی ایک منظم نظام کی اشد ضرورت ہے۔
عامر خان اپنی نئی فلم ’ستارے زمین پر‘ کو سینما نمائش کے بعد یوٹیوب پر صرف 100 روپے میں پیش کرنے کا نیا تجربہ کر رہے ہیں تاکہ مہنگے ملٹی پلیکسز اور سہولیات کی کمی کے باعث سینما ہالز سے دور رہنے والے 97 فیصد ناظرین کو دوبارہ فلموں سے جوڑا جا سکے۔ نیٹ فلکس کے محدود دائرے کے مقابلے میں یوٹیوب کے 49 کروڑ سے زائد صارفین تک سستی اور قانونی رسائی کا یہ منصوبہ، سنسرشپ اور سیاسی دباؤ کے شکار بالی ووڈ کے لیے ایک نیا معاشی ماڈل قائم کر سکتا ہے۔