سائنس اور ٹیکنالوجی
[DEV-FRONTEND-DATASET] Temporary category for local frontend design testing.
مزید خبریں

مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار دوڑ کو روکنا کیوں مشکل ہو گیا؟ امریکی کمپنیاں، سیاسی دباؤ اور چین سے مقابلے کی مکمل کہانی
مصنوعی ذہانت کی عالمی سرحدوں کو وسعت دینے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنیوں کے سربراہان اے آئی کی خطرناک رفتار کو سست کرنے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں، لیکن تجارتی رقابت، اربوں ڈالر کا سرمائہ اور چین کے ساتھ جاری تکنیکی جنگ اس راہ میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ اینتھروپک کے چیف ایگزیکٹو ڈاریو اموڈائی، اوپن اے آئی کے سیم آلٹمین اور ایلون مسک جیسے رہنماؤں نے سیکیورٹی خطرات کے پیش نظر رفت کم کرنے کی حمایت کی ہے، تاہم امریکی سیاست دانوں اور سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ قدم چین کو پیش رفت کا موقع دے سکتا ہے۔ اس تحریر میں ان وجوہات کا احاطہ کیا گیا ہے جن کی بنا پر اے آئی پر بریک لگانا فی الوقت ممکن نظر نہیں آتا۔

اوپن اے آئی کے ایجنٹ کا ہگنگ فیس پر حملہ: کیا ’کِل سوئچ‘ بے قابو مصنوعی ذہانت کو روکنے کا حل ہے؟
مصنوعی ذہانت تیار کرنے والی نامور کمپنی اوپن اے آئی کے ایک خود مختار ایجنٹ کی جانب سے ٹیکنالوجی کمپنی ہگنگ فیس (Hugging Face) کے سرورز کو ہیک کرنے کے پہلے تصدیق شدہ واقعے نے عالمی سطح پر شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ اس واقعے کے بعد بے قابو اے آئی کو فوراً روکنے کے لیے 'کِل سوئچ' یا ہنگامی آف بٹن کی بحث نے زور پکڑ لیا ہے۔ تاہم کیتھی او نیل اور رمن چوہدری سمیت دنیا کے ممتاز سائبر سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ناکامی کا ملبہ 'باغی اے آئی' پر ڈالنے کے بجائے ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ناقص سسٹم ڈیزائن، غیر متوازن تربیت اور قانونی و اخلاقی احتساب کے فقدان پر توجہ دینا ضروری ہے، کیونکہ محض بجلی کا پلگ کھینچنے سے پہلے سے ہونے والا نقصان ختم نہیں ہو سکتا۔

مصنوعی ذہانت اور مہلک ہتھیار: اینتھروپک کا انکشاف، یمنی میزائلوں، روسی ڈرونز اور سفارتی مہمات کے لیے کلاڈ اے آئی کے استعمال کی کوششیں ناکام
مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی اینتھروپک نے اپنی جدید ترین تھریٹ انٹیلیجنس رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اس کے ماڈل 'کلاڈ' اور 'کلاڈ کوڈ' کو سائبر حملوں، نگرانی، روایتی ہتھیاروں کی تیاری اور خفیہ اثرورسوخ کی مہمات کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق گذشتہ ایک سال میں یمن میں گائیڈڈ میزائل پروگرام، روس میں انسانوں کو خودکار نشانہ بنانے والے کامیکازی ڈرون سوارم، چین میں بحری اینٹی ٹارپیڈو سسٹم اور متحدہ عرب امارات سے منسلک ایک سیاسی بیانیاتی مہم میں اے آئی کی مدد لینے کا سراغ لگایا گیا۔ اینتھروپک نے ان تمام مشتبہ سرگرمیوں کو بروقت ناکام بنا کر اپنے سکیورٹی الگورتھمز اور حفاظتی نظام کو مزید مضبوط کر لیا ہے۔

ایپل واچ کے نئے 'آڈیو انٹیلیجنس' فیچرز: سہولت یا پرائیویسی کے لیے نیا خطرہ؟
ایپل کی جانب سے نئی ایپل واچ سیریز 12 اور الٹرا 4 میں متعارف کرائے گئے 'آڈیو انٹیلیجنس' فیچرز نے جہاں صارفین کی روزمرہ زندگی کو آسان بنانے کے دعوے کیے ہیں، وہیں پرائیویسی اور باہمی تعلقات سے متعلق نیا تنازع بھی کھڑا کر دیا ہے۔ 'لائیو ریوائنڈ' اور 'سِری ریکیپ' جیسے ٹولز مسلسل پسِ منظر میں آڈیو سن کر گفتگو کا خلاصہ تیار کرتے ہیں۔ اگرچہ ایپل نے 15 سیکنڈ میں آڈیو حذف کرنے، ڈیٹا کو محفوظ انکرپٹڈ حصوں میں رکھنے اور الرٹ ساؤنڈ جیسے حفاظتی تدابیر شامل کی ہیں، تاہم دیگر افراد کی رضامندی کے بغیر گفتگو کا متن بننے کا امکان تشویش کا باعث بن رہا ہے۔

مصنوعی ذہانت کی معرکہ آرائی اور انسانی وجود کا سوال: تجارتی دوڑ، داخلی خدشات اور ریگولیشن کا بحران
مصنوعی ذہانت کے میدان میں سپر انٹیلیجنٹ سسٹمز کی تیاری اور تیز ترین پیش رفت نے عالمی سطح پر ایک نیا فکری اور حفاظتی بحران پیدا کر دیا ہے۔ اوپن اے آئی اور انتھروپک جیسی معروف کمپنیوں کے محققین کی استعفوں کی لہر اور ہنگامی وارننگز نے اس بات کو واضح کر دیا ہے کہ تجارتی رقابت اور آگے نکلنے کی دھن میں حفاظتی تدابیر کو پسِ پشت ڈالا جا رہا ہے۔ جہاں کمپیوٹر سائنس دان ایٹمی جنگ اور بائیولوجیکل خطرات کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں، وہیں امریکہ اور عالمی طاقتیں چین سے پیچھے رہ جانے کے خوف سے سخت قوانین بنانے سے کتراتی نظر آتی ہیں۔

سوئے بغیر دماغ کو نیند کا احساس دلانا ممکن: امریکی سائنسدانوں کا چوہوں پر کامیاب تجربہ
نیند کی کمی اور بے خوابی کا عارضہ نہ صرف توجہ اور یادداشت کو متاثر کرتا ہے بلکہ دل کے امراض، ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر کا باعث بھی بنتا ہے۔ امریکی محققین نے اب ایک ایسا طریقہ دریافت کیا ہے جس کے ذریعے سوئے بغیر بھی دماغ کے مخصوص حصے کو گہری نیند کا احساس دلایا جا سکتا ہے۔ وسکونسن میڈیسن یونیورسٹی میں چوہوں پر کی گئی تحقیق کے مطابق باریک فائبر آپٹک تاروں سے روشنی کی لہریں خارج کر کے دماغی خلیوں کو اس طرح متحرک کیا گیا کہ وہ جاگتے ہوئے بھی نیند جیسی سست لہریں پیدا کرنے لگے۔ اس تجربے کے نتیجے میں کم نیند والے چوہوں کی یادداشت اور کارکردگی بالکل بیدار اور پرسکون نیند لینے والے چوہوں جیسی ریکارڈ کی گئی۔
مزید تازہ خبریں
ایپل کا پہلا فولڈ ایبل ’آئی فون ڈوو‘ منظرِ عام پر: 2 ہزار ڈالرز کی قیمت میں 7.6 انچ کی سکرین اور A20 پرو چپٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے بالآخر سمارٹ فون انڈسٹری کی بڑی تبدیلی کا حصہ بنتے ہوئے اپنا پہلا فولڈ ایبل فون ’آئی فون ڈوو‘ متعارف کرا دیا ہے۔ دو ہزار امریکی ڈالر کی ابتدائی قیمت سے شروع ہونے والا یہ فون بند حالت میں پاسپورٹ کے سائز کا ہے، جبکہ کھلنے پر 7.6 انچ کی بڑی سکرین میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ 2018 میں روئیول اور بعد میں سام سنگ اور ہواوے کے ذریعے شروع ہونے والی فولڈ ایبل مارکیٹ میں جہاں اس وقت سام سنگ 40 فیصد شیئر کے ساتھ آگے ہے، وہیں جدید A20 Pro چپ سیٹ، ٹائٹینیم فریم اور خصوصی iOS 27 آپریٹنگ سسٹم کے ساتھ ایپل کا یہ فون سمارٹ فون انڈسٹری میں ایک نئی مسابقت کا آغاز کر رہا ہے۔
اسمارٹ فون نظروں سے اوجھل رکھیں: ذہنی تناؤ اور نیند کی خرابی سے بچاؤ کے لیے ماہرینِ نفسیات کی ہدایاتجدید دور میں اسمارٹ فونز ہماری روزمرہ زندگی کا ناگزیر حصہ بن چکے ہیں، مگر ان کا بے تحاشا استعمال ذہنی تناؤ اور نیند کی شدید خرابیوں کا سبب بن رہا ہے۔ جرمنی کی بریمر اپولون یونیورسٹی آف ہیلتھ اکنامکس کی ماہر نفسیات نکولا جانسن کے مطابق کام یا پڑھائی کے دوران موبائل کو نظروں سے دور رکھنا اور بیڈ روم سے باہر رکھنا اعصابی سکون کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ 2010ء سے 2017ء کے درمیان نیند کی خرابی کے مسائل میں 300 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، جس کی ایک بڑی وجہ ڈیجیٹل میڈیا کا پھیلتا جال ہے۔ روایتی گھڑی کا استعمال، پش نوٹیفیکیشنز کی بندش اور رات کے اوقات میں سکرین سے دوری کے ذریعے اس تناؤ میں فوری کمی لائی جا سکتی ہے۔
کیا سن اسکرین واقعی جلدی کینسر کا سبب بنتی ہے؟ سوشل میڈیا کے مقبول دعووں کی سائنسی حقیقتدنیا بھر میں گرمی کی شدید لہر اور دھوپ کی شدت بڑھنے کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر یہ افواہ گردش کر رہی ہے کہ دھوپ سے بچاؤ کی کریمیں یعنی 'سن اسکرین' جلد کے کینسر کا باعث بنتی ہیں۔ تاہم سائنسی تحقیقات اور طبی ماہرین نے اس تاثر کو بالکل لغو اور بلامصداق قرار دیا ہے۔ کنیکٹیکٹ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ آف پبلک ہیلتھ اور دیگر عالمی اداروں کے مطابق سن اسکرین کے باقاعدہ استعمال اور کینسر کے خطرے کے درمیان کوئی تعلق نہیں۔ کینسر کے کیسز میں اضافے کی اصل وجہ موسمیاتی تبدیلیاں، اوزون کی تہہ کو نقصان اور الٹرا وائلٹ (UV) شعاعوں کا اثر ہے۔ ماہرین روزانہ کی بنیاد پر سن اسکرین کے درست استعمال کی ہدایت کرتے ہیں۔
ٹک ٹاک تحائف اور لائیو سٹریمنگ: سوشل میڈیا کا وہ پوشیدہ راستہ جسے غیر قانونی سرمائے کی منتقلی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہےسوشل میڈیا پلیٹ فارمز خصوصاً ٹک ٹاک کا 'لائیو گفٹنگ' فیچر جہاں ایک طرف مواد تخلیق کرنے والوں کی آمدن کا ذریعہ بن رہا ہے، وہیں دوسری جانب یہ غیر قانونی رقم کو سفید کرنے اور مالیاتی ضوابط سے بچنے کی ایک غیر محسوس راہ فراہم کر رہا ہے۔ دنیا بھر میں اربوں ڈالر کا یہ ڈیجیٹل تحائف کا نظام کسی روایتی بینکنگ کنٹرول کے بغیر کام کرتا ہے، جہاں چھوٹی چھوٹی رقموں کی شکل میں لاکھوں روپے ایک سے دوسرے اکاؤنٹ میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں 50 ملین سے زائد سوشل میڈیا صارفین موجود ہیں، اینٹی منی لانڈرنگ کے پرانے قوانین اور پلیٹ فارمز کے مالیاتی ادارے نہ تسلیم کیے جانے کی وجہ سے اس 'مائیکرو لانڈرنگ' کا تدارک ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
عدالتی نظام کی ڈیجیٹلائزیشن: پاکستان میں 'نیشنل جوڈیشل اینالیٹکس ڈیش بورڈ' کا باقاعدہ افتتاحاسلام آباد میں پاکستان کے عدالتی اصلاحاتی سفر میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر 'نیشنل جوڈیشل اینالیٹکس ڈیش بورڈ' کا باقاعدہ افتتاح کر دیا گیا ہے۔ لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان نے یہ جدید سسٹم نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (این آئی ٹی بی)، سپریم کورٹ، وفاقی شرعی عدالت اور تمام ہائی کورٹس کے آئی ٹی ڈائریکٹوریٹس کے تعاون سے تیار کیا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان یحیٰی آفریدی نے ڈیش بورڈ کا افتتاح کرتے ہوئے اسے شفافیت اور کارکردگی کی نگرانی کا اہم ذریعہ قرار دیا۔ اس موقع پر جسٹس محمد علی مظہر نے ڈیش بورڈ کے اہم خصوصیات اور حقیقی وقت میں عدالتی ڈیٹا کے تجزئیے کی صلاحیتوں کا تفصیل سے احاطہ کیا۔
بلوچستان کا قدیم کاریز نظام: روایتی آبی حکمت، تباہی کا خدشہ اور بحالی کا امکانبلوچستان میں پانی کا روایتی زیرِ زمین نظام ’کاریز‘ محض آبپاشی کا ذریعہ نہیں بلکہ صحرائی زندگی، مقامی ثقافت اور اجتماعی بھائی چارے کی بنیاد رہا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی اور بے دریغ ٹیوب ویلوں کے استعمال نے اس تاریخی نظام کو خشک کر کے دیہی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ تاہم، آذربائیجان کے علاقے نخچیوان میں کیمونسٹ دور کے بند کاریزوں کی کامياب بحالی نے ثابت کیا ہے کہ اگر درست حکمتِ عملی اور مقامی آبادی کو شامل کیا جائے تو یہ قدیم نظام دوبارہ زندہ ہو سکتا ہے۔ جنوبی ایشیا اور افغانستان کے جغرافیائی و معاشی پس منظر میں کاریز کی تحفظ کی جدوجہد پر ایک تحقیقی نظر۔
عالمی درجوں میں 35 پاکستانی جامعات: موضوعاتی سطح پر بہتری، مگر سرفہرست اداروں میں جگہ بنانا اب بھی بڑا چیلنجکیو ایس (QS) ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ باائے سبجیکٹ 2026 میں پاکستان کی 35 جامعات شامل ہوئی ہیں، جن میں 31 سرکاری اور چار نجی ادارے شامل ہیں۔ زرعی تعلیم میں یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد ٹاپ 200 اور بزنس کے شعبے میں لمیز (LUMS) 101 سے 150 کے بینڈ میں جگہ بنانے میں کامیاب رہی، جبکہ نسٹ، قائد اعظم یونیورسٹی اور کامسیٹس نے تکنیکی و قدرتی علوم میں بہتر کارکردگی دکھائی۔ مجموعی طور پر پاکستانی اداروں کے 180 مضامین اس درجہ بندی کا حصہ بنے۔ تاہم زیادہ تر جامعات کی پوزیشن 201 سے 400 کے بینڈ میں رہنے سے واضح ہوتا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر تحقیق، تجارتی روابط اور معیاری تدریس کو وسعت دینے کے لیے ابھی مزید اقدامات درکار ہیں۔
جامعات کی تعداد اور گریجویٹس کی فوج: پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کا حقیقی بحران کیا ہے؟سال 2002 میں ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے قیام کے بعد پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں غیر معمولی توسیع دیکھی گئی، جہاں جامعات کی تعداد 60 سے بڑھ کر 250 سے تجاوز کر گئی اور طلبہ کا اندراج 25 لاکھ تک پہنچ گیا۔ تاہم اس عددی ترقی کے باوجود تعلیم کا معیار، تحقیق کی عملی افادیت اور مارکیٹ کی ضرورت سے مطابقت کے سنگین مسائل برقرار ہیں۔ ملک میں ہر سال ساڑھے چار لاکھ گریجویٹس تیار ہونے کے باوجود تعلیم یافتہ نوجوانوں میں بے روزگاری کا تناسب 30 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جبکہ مالی وسائل کی قلت، گورننس کی پیچیدگیاں اور انڈسٹری سے کمزور ربط تعلیمی نظام کے لیے بڑا چیلنج بنے ہوئے ہیں۔
پابندیاں یا طریقہ تدریس میں تبدیلی؟ پاکستانی جامعات میں مصنوعی ذہانت کا چیلنج اور آئندہ کا راستہمصنوعی ذہانت کی آمد نے پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی نظام کے روایتی ڈھانچے پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ اسائنمنٹس اور تحریری کام میں اے آئی کے بڑھتے استعمال کے بعد جامعات صرف پالیسیوں اور پابندیوں کے ذریعے نقل روکنے کی کوشش کر رہی ہیں، جبکہ اصل ضرورت طریقہ تدریس اور امتحانی نظام کو بدلنے کی ہے۔ محض تحریری مواد جمع کرانے کی بنیاد پر طلبہ کی صلاحیتوں کا اندازہ لگانا اب ممکن نہیں رہا۔ جامعات کو چاہیے کہ وہ جوابات تیار کرنے کے بجائے تنقیدی سوچ، زبانی امتحانات اور بنیادی صلاحیتوں کو ترجیح دیں تاکہ مصنوعی ذہانت کے دور میں تعلیمی ڈگری کی معتبری کو برقرار رکھا جا سکے۔

