تازہ خبریں
خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں سیکیورٹی فورسز کا اہم آپریشن، 10 دہشت گرد ہلاکحکومت پاک ایران گیس پائپ لائن پر ٹرمپ سے ہم پر عائد پابندی ہٹانے کا کہے: راجہ ناصر عباسنائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز پر حملے کی شدید مذمت، 3 پاکستانیوں کی شہادت پر تعزیتملک بھر میں پیٹرول کی قیمت میں 1.70 روپے فی لیٹر کمی کا اعلاناسٹیٹ بینک آف پاکستان کا شرح سود میں کمی کا امکان
LIVE
Bitcoin rises above $80,000 as soft dollar, debasement fears boost momentumDocumentary NAZA on 'mass killing of Palestinian civilians' vying for Golden Lion at Venice Film Festival

سائنس اور ٹیکنالوجی

[DEV-FRONTEND-DATASET] Temporary category for local frontend design testing.

مزید تازہ خبریں

Silhouette of a professional working on a laptop at a desk with an Artificial Intelligence screen display in the background.چوتھا صنعتی انقلاب اور پاکستان: مصنوعی ذہانت معاشی بحران کا حل یا نیا چیلنج؟

عالمگیر معیشت چوتھے صنعتی انقلاب اور مصنوعی ذہانت کے باعث تیز رفتار تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے، جہاں پیداواری طریقے، عالمی سپلائی چینز اور روزگار کے سانچے یکسر بدل چکے ہیں۔ پاکستان اس وقت بدترین معاشی دباؤ، بڑھتی ہوئی مہنگائی، گردشی قرضوں اور پڑھے لکھے نوجوانوں میں بے روزگاری کے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ ایسے میں روایتی معاشی پالیسیوں پر انحصار جاری رکھنا ممکن نہیں رہا۔ تجزیے کے مطابق پاکستان کو چین کے ساتھ سی پیک کے ذریعے صنعتی شراکت داری بڑھانے، زراعت میں جدید 'پریسیژن ایگریکلچر' اپنانے اور محض ٹیکنالوجی کا صارف بننے کے بجائے مقامی سطح پر اے آئی تحقیق اور ہنرمندی میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے تاکہ روزگار کے تحفظ کے ساتھ معاشی نمو حاصل کی جا سکے۔

An infographic detailing Pakistan's National AI Policy 2025 showing six core pillars, digital inclusion goals, and economic growth targets.پاکستان کی قومی اے آئی پالیسی 2025: 35 لاکھ ملازمتوں کا وژن اور عمل درآمد کے چیلنجز

پاکستان کی 'قومی اے آئی پالیسی 2025' ملک میں تحقیق، ہنرمندی اور محفوظ ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کے قیام کے ذریعے جدید ٹیکنالوجی کا ذمہ دارانہ استعمال یقینی بنانے کی ایک جامع کوشش ہے۔ نجی شعبے، جامعات، ٹیکنالوجی ماہرین اور سول سوسائٹی کے تعاون سے تیار کردہ اس پالیسی میں ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ، کلاؤڈ سسٹمز اور مقامی اے آئی ماڈلز کی تعمیر شامل ہے۔ 2030 تک جی ڈی پی میں 12 فیصد اضافے اور 35 لاکھ نئے روزگار کے اہداف حاصل کرنے کے لیے بنیادی صلاحیتوں کے فروغ، بین الاقوامی شراکت داری اور خواتین و معذور افراد کی مساوی شمولیت پر زور دیا گیا ہے۔ پالیسی کی حتمی کامیابی کا انحصار بجٹ کی فراہمی اور اداروں کی صلاحیت پر منحصر ہے۔

A row of white desktop computer workstations with headphones and keyboards set up in a digital training lab.پاکستان کی قومی اے آئی پالیسی 2025: معاشی و تکنیکی انقلاب کا خاکہ یا صرف کاغذی منصوبہ؟

پاکستان کی قومی اے آئی پالیسی 2025 ملک کی معاشی اور تکنیکی سمت کا تعین کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے، جسے حکومت، جامعات اور سول سوسائٹی کے باہمی تعاون سے تیار کیا گیا ہے۔ چھ بنیادی ستونوں پر مبنی یہ پالیسی بنیادی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، مقامی اے آئی ماڈلز کی تیاری، انسانی وسائل کی تربیت، محفوظ استعمال اور عالمی شراکت داری پر زور دیتی ہے۔ پالیسی کا ہدف 2030 تک جی ڈی پی میں 12 فیصد اضافہ اور 35 لاکھ روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔ اس کے باوجود، شہری و دیہی ڈیجیٹل تفاوت کو ختم کرنا، خواتین اور معذور افراد کو یکساں مواقع فراہم کرنا، اور اخلاقی ضوابط پر عمل درآمد یقینی بنانا اس منصوبے کے لیے بڑے چیلنجز ہیں۔

A young tech professional working on a laptop displaying AI solutions for Pakistan alongside an AI robot assistant and a Pakistani flag.مصنوعی ذہانت اور پاکستان کا مستقبل: معاشی چیلنجز کا جدید حل یا محض نیا عالمی رجحان؟

مصنوعی ذہانت (اے آئی) پاکستان کی معاشی اور انتظامی اصلاحات کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ ملک کی 22 سالہ اوسط عمر پر مشتمل نوجوان آبادی نہ صرف مقامی سطح پر اے آئی کے نئے حل فراہم کر سکتی ہے بلکہ عالمی آؤٹ سورسنگ مارکیٹ اور بالخصوص جرمنی کی درمیانے درجے کی کمپنیوں کے لیے تحقیق و ترقی کا مرکز بن سکتی ہے۔ زراعت، صحت، تعلیم اور حکمرانی جیسے شعبوں میں اے آئی کا استعمال سروسز کی فراہمی میں ڈرامائی بہتری لا سکتا ہے۔ اس کے باوجود، شہری اور دیہی علاقوں میں ڈیجیٹل ڈیوائیڈ، غیر مساوی تعلیمی سہولیات اور جامع اخلاقی ضوابط کی غیر موجودگی وہ رکاوٹیں ہیں جن کا تدارک قومی ترجیحات کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

Pakistani male and female students sitting in front of computer screens studying programming and freelancing at the Bano Qaabil IT training center in Peshawar.پشاور میں نوجوانوں کے لیے نئے آئی ٹی تربیتی مرکز کا افتتاح: 'بنو قابل' پروگرام کے تحت 10 ہزار سے زائد طلبہ پہلے ہی مستفید

خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں مرکز اسلامی سردار گڑھی کے مقام پر الخدمت فاؤنڈیشن اور جماعت اسلامی کے تعاون سے 'بنو قابل' آئی ٹی ٹریننگ سینٹر کا افتتاح کر دیا گیا۔ افتتاح الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے مرکزی صدر پروفیسر حافظ الرحمان اور امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا عبدالواسی نے کیا۔ تقریب کے دوران بتایا گیا کہ الخدمت صوبے بھر میں 85 کیمپسز کے ذریعے اب تک 10 ہزار سے زائد نوجوانوں کو فری لانسنگ اور سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ کی مفت تربیت فراہم کر چکی ہے۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد نوجوانوں کو خود انحصار بنانا اور ملکی معیشت میں ان کا حصہ بڑھانا ہے۔

Young Pakistani professional working on a laptop computer in a workspace representing freelancing and IT exports.10 ماہ میں 95 کروڑ ڈالر: کیا فری لانسنگ پاکستانی معیشت کی نئی شاہراہ بن رہی ہے؟

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کے ابتدائی 10 ماہ میں ملکی فری لانسرز کی برآمدی آمدن 950 ملین ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے، جو پچھلے سال اسی عرصے کے مقابلے میں 49 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔ ملک میں تقریباً 30 لاکھ افراد فری لانسنگ سے وابستہ ہیں جو Upwork اور Fiverr جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر عمران بتادہ کے مطابق آگاہی میں اضافے کے باوجود بینکاری سہولیات، پے منٹ گیٹ ویز اور اے آئی (AI) مہارتوں کی کمی بڑے چیلنجز ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر فری لانسرز کو تربیت اور ادارہ جاتی تعاون فراہم کیا جائے تو یہ شعبہ ملکی معیشت کا اہم ستون بن سکتا ہے۔

Abstract graphic representing the US and China artificial intelligence rivalry over semiconductor chips and global network connectionsٹیکنالوجی کی نئی سرد جنگ: کیا امریکا اور چین کی اے آئی مسابقت دنیا کو بلاک بندی پر مجبور کر رہی ہے؟

امریکا اور چین کے درمیان مصنوعی ذہانت کی مسابقت اب عالمی سپلائی چین اور تزویراتی اتحادوں پر قبضے کی جنگ بن چکی ہے۔ واشنگٹن کا نیا فریم ورک 'پاکس سلیکا' (Pax Silica) اور چین کا 'ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن' دنیا کو دو الگ الگ ٹیکنالوجی ماحولیاتی نظاموں میں تقسیم کرنے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ قازقستان جیسے ممالک، جو دونوں طاقتوں کے ساتھ متوازن روابط قائم رکھنا چاہتے ہیں، اب امریکی دباؤ کی زد میں ہیں۔ اس عالمی کشمکش میں پاکستان سمیت ترقی پذیر ریاستوں کے لیے سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ بیرونی انحصار ختم کیے بغیر توازن برقرار رکھنا ناممکن ہو جائے گا۔

Climate whiplash causing floods and drought risks in major cities including Karachi and Faisalabadموسمیاتی جھٹکوں کا نیا دور: دنیا کے بڑے شہر کبھی سیلاب، کبھی خشک سالی کی زد میں

دنیا کے بڑے شہروں میں موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں خشک سالی اور شدید بارش کے درمیان تیزی سے بدلتے حالات ایک نئے خطرے کی شکل اختیار کررہے ہیں۔ 112 شہروں پر ہونے والی تحقیق کے مطابق بیشتر شہروں کے موسمی رجحانات تبدیل ہوچکے ہیں، جبکہ کراچی اور فیصل آباد جیسے پاکستانی شہر موسمی خطرات اور سماجی کمزوری کے امتزاج کی وجہ سے خاص توجہ چاہتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق مستقبل کی شہری منصوبہ بندی کو صرف سیلاب یا خشک سالی نہیں بلکہ دونوں انتہاؤں سے نمٹنے کے لیے تیار کرنا ہوگا۔

Water pollution and contaminated water sources in Pakistanپاکستان کا آبی بحران صرف قلت نہیں، آلودگی بھی ایک سنگین قومی چیلنج

پاکستان میں پانی کا بحران صرف کمی اور ذخائر کا مسئلہ نہیں رہا، بلکہ آلودگی بھی ایک سنگین خطرہ بنتی جارہی ہے۔ زرعی کھادوں، کیڑے مار ادویات، صنعتی فضلے اور غیر صاف شدہ سیوریج کے باعث زیرِ زمین پانی اور آبی ذخائر متاثر ہورہے ہیں، جس کے اثرات انسانی صحت، خوراک اور ماحول تک پہنچ رہے ہیں۔