سائنس اور ٹیکنالوجی
[DEV-FRONTEND-DATASET] Temporary category for local frontend design testing.
مزید خبریں

عدالتی نظام کی ڈیجیٹلائزیشن: پاکستان میں 'نیشنل جوڈیشل اینالیٹکس ڈیش بورڈ' کا باقاعدہ افتتاح
اسلام آباد میں پاکستان کے عدالتی اصلاحاتی سفر میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر 'نیشنل جوڈیشل اینالیٹکس ڈیش بورڈ' کا باقاعدہ افتتاح کر دیا گیا ہے۔ لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان نے یہ جدید سسٹم نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (این آئی ٹی بی)، سپریم کورٹ، وفاقی شرعی عدالت اور تمام ہائی کورٹس کے آئی ٹی ڈائریکٹوریٹس کے تعاون سے تیار کیا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان یحیٰی آفریدی نے ڈیش بورڈ کا افتتاح کرتے ہوئے اسے شفافیت اور کارکردگی کی نگرانی کا اہم ذریعہ قرار دیا۔ اس موقع پر جسٹس محمد علی مظہر نے ڈیش بورڈ کے اہم خصوصیات اور حقیقی وقت میں عدالتی ڈیٹا کے تجزئیے کی صلاحیتوں کا تفصیل سے احاطہ کیا۔

بلوچستان کا قدیم کاریز نظام: روایتی آبی حکمت، تباہی کا خدشہ اور بحالی کا امکان
بلوچستان میں پانی کا روایتی زیرِ زمین نظام ’کاریز‘ محض آبپاشی کا ذریعہ نہیں بلکہ صحرائی زندگی، مقامی ثقافت اور اجتماعی بھائی چارے کی بنیاد رہا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی اور بے دریغ ٹیوب ویلوں کے استعمال نے اس تاریخی نظام کو خشک کر کے دیہی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ تاہم، آذربائیجان کے علاقے نخچیوان میں کیمونسٹ دور کے بند کاریزوں کی کامياب بحالی نے ثابت کیا ہے کہ اگر درست حکمتِ عملی اور مقامی آبادی کو شامل کیا جائے تو یہ قدیم نظام دوبارہ زندہ ہو سکتا ہے۔ جنوبی ایشیا اور افغانستان کے جغرافیائی و معاشی پس منظر میں کاریز کی تحفظ کی جدوجہد پر ایک تحقیقی نظر۔

عالمی درجوں میں 35 پاکستانی جامعات: موضوعاتی سطح پر بہتری، مگر سرفہرست اداروں میں جگہ بنانا اب بھی بڑا چیلنج
کیو ایس (QS) ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ باائے سبجیکٹ 2026 میں پاکستان کی 35 جامعات شامل ہوئی ہیں، جن میں 31 سرکاری اور چار نجی ادارے شامل ہیں۔ زرعی تعلیم میں یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد ٹاپ 200 اور بزنس کے شعبے میں لمیز (LUMS) 101 سے 150 کے بینڈ میں جگہ بنانے میں کامیاب رہی، جبکہ نسٹ، قائد اعظم یونیورسٹی اور کامسیٹس نے تکنیکی و قدرتی علوم میں بہتر کارکردگی دکھائی۔ مجموعی طور پر پاکستانی اداروں کے 180 مضامین اس درجہ بندی کا حصہ بنے۔ تاہم زیادہ تر جامعات کی پوزیشن 201 سے 400 کے بینڈ میں رہنے سے واضح ہوتا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر تحقیق، تجارتی روابط اور معیاری تدریس کو وسعت دینے کے لیے ابھی مزید اقدامات درکار ہیں۔

جامعات کی تعداد اور گریجویٹس کی فوج: پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کا حقیقی بحران کیا ہے؟
سال 2002 میں ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے قیام کے بعد پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں غیر معمولی توسیع دیکھی گئی، جہاں جامعات کی تعداد 60 سے بڑھ کر 250 سے تجاوز کر گئی اور طلبہ کا اندراج 25 لاکھ تک پہنچ گیا۔ تاہم اس عددی ترقی کے باوجود تعلیم کا معیار، تحقیق کی عملی افادیت اور مارکیٹ کی ضرورت سے مطابقت کے سنگین مسائل برقرار ہیں۔ ملک میں ہر سال ساڑھے چار لاکھ گریجویٹس تیار ہونے کے باوجود تعلیم یافتہ نوجوانوں میں بے روزگاری کا تناسب 30 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جبکہ مالی وسائل کی قلت، گورننس کی پیچیدگیاں اور انڈسٹری سے کمزور ربط تعلیمی نظام کے لیے بڑا چیلنج بنے ہوئے ہیں۔

پابندیاں یا طریقہ تدریس میں تبدیلی؟ پاکستانی جامعات میں مصنوعی ذہانت کا چیلنج اور آئندہ کا راستہ
مصنوعی ذہانت کی آمد نے پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی نظام کے روایتی ڈھانچے پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ اسائنمنٹس اور تحریری کام میں اے آئی کے بڑھتے استعمال کے بعد جامعات صرف پالیسیوں اور پابندیوں کے ذریعے نقل روکنے کی کوشش کر رہی ہیں، جبکہ اصل ضرورت طریقہ تدریس اور امتحانی نظام کو بدلنے کی ہے۔ محض تحریری مواد جمع کرانے کی بنیاد پر طلبہ کی صلاحیتوں کا اندازہ لگانا اب ممکن نہیں رہا۔ جامعات کو چاہیے کہ وہ جوابات تیار کرنے کے بجائے تنقیدی سوچ، زبانی امتحانات اور بنیادی صلاحیتوں کو ترجیح دیں تاکہ مصنوعی ذہانت کے دور میں تعلیمی ڈگری کی معتبری کو برقرار رکھا جا سکے۔

اسلام آباد میں مصنوعی ذہانت پر بین الاقوامی کانفرنس: تعلیمی اداروں، صنعت اور حکومت کے باہمی وژن پر زور
اسلام آباد میں کمپیوٹنگ، مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا سائنس میں جدید پیش رفت کے موضوع پر تیسری بین الاقوامی کانفرنس (CAIDS-2025) کا انعقاد کیا گیا، جس میں ملکی و غیر ملکی ماہرین، محققین اور پالیسی سازوں نے شرکت کی۔ رِفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی کی میزبانی اور یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بنوں، یونیورسٹی آف لکی مروت، گومل یونیورسٹی، کیوی بنوں اور ملائیشیا کی ملٹی میڈیا یونیورسٹی کے اشتراک سے ہونے والی اس کانفرنس میں اے آئی کے اخلاقی استعمال، ڈیٹا پرائیویسی اور سوشل میڈیا پر پھیلاؤ پانے والی کثیر لسانی غلط معلومات کے تدارک کے لیے جدید الگورتھمز کے استعمال پر تفصیلی غور کیا گیا۔
مزید تازہ خبریں
چوتھا صنعتی انقلاب اور پاکستان: مصنوعی ذہانت معاشی بحران کا حل یا نیا چیلنج؟عالمگیر معیشت چوتھے صنعتی انقلاب اور مصنوعی ذہانت کے باعث تیز رفتار تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے، جہاں پیداواری طریقے، عالمی سپلائی چینز اور روزگار کے سانچے یکسر بدل چکے ہیں۔ پاکستان اس وقت بدترین معاشی دباؤ، بڑھتی ہوئی مہنگائی، گردشی قرضوں اور پڑھے لکھے نوجوانوں میں بے روزگاری کے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ ایسے میں روایتی معاشی پالیسیوں پر انحصار جاری رکھنا ممکن نہیں رہا۔ تجزیے کے مطابق پاکستان کو چین کے ساتھ سی پیک کے ذریعے صنعتی شراکت داری بڑھانے، زراعت میں جدید 'پریسیژن ایگریکلچر' اپنانے اور محض ٹیکنالوجی کا صارف بننے کے بجائے مقامی سطح پر اے آئی تحقیق اور ہنرمندی میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے تاکہ روزگار کے تحفظ کے ساتھ معاشی نمو حاصل کی جا سکے۔
پاکستان کی قومی اے آئی پالیسی 2025: 35 لاکھ ملازمتوں کا وژن اور عمل درآمد کے چیلنجزپاکستان کی 'قومی اے آئی پالیسی 2025' ملک میں تحقیق، ہنرمندی اور محفوظ ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کے قیام کے ذریعے جدید ٹیکنالوجی کا ذمہ دارانہ استعمال یقینی بنانے کی ایک جامع کوشش ہے۔ نجی شعبے، جامعات، ٹیکنالوجی ماہرین اور سول سوسائٹی کے تعاون سے تیار کردہ اس پالیسی میں ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ، کلاؤڈ سسٹمز اور مقامی اے آئی ماڈلز کی تعمیر شامل ہے۔ 2030 تک جی ڈی پی میں 12 فیصد اضافے اور 35 لاکھ نئے روزگار کے اہداف حاصل کرنے کے لیے بنیادی صلاحیتوں کے فروغ، بین الاقوامی شراکت داری اور خواتین و معذور افراد کی مساوی شمولیت پر زور دیا گیا ہے۔ پالیسی کی حتمی کامیابی کا انحصار بجٹ کی فراہمی اور اداروں کی صلاحیت پر منحصر ہے۔
پاکستان کی قومی اے آئی پالیسی 2025: معاشی و تکنیکی انقلاب کا خاکہ یا صرف کاغذی منصوبہ؟پاکستان کی قومی اے آئی پالیسی 2025 ملک کی معاشی اور تکنیکی سمت کا تعین کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے، جسے حکومت، جامعات اور سول سوسائٹی کے باہمی تعاون سے تیار کیا گیا ہے۔ چھ بنیادی ستونوں پر مبنی یہ پالیسی بنیادی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، مقامی اے آئی ماڈلز کی تیاری، انسانی وسائل کی تربیت، محفوظ استعمال اور عالمی شراکت داری پر زور دیتی ہے۔ پالیسی کا ہدف 2030 تک جی ڈی پی میں 12 فیصد اضافہ اور 35 لاکھ روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔ اس کے باوجود، شہری و دیہی ڈیجیٹل تفاوت کو ختم کرنا، خواتین اور معذور افراد کو یکساں مواقع فراہم کرنا، اور اخلاقی ضوابط پر عمل درآمد یقینی بنانا اس منصوبے کے لیے بڑے چیلنجز ہیں۔
مصنوعی ذہانت اور پاکستان کا مستقبل: معاشی چیلنجز کا جدید حل یا محض نیا عالمی رجحان؟مصنوعی ذہانت (اے آئی) پاکستان کی معاشی اور انتظامی اصلاحات کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ ملک کی 22 سالہ اوسط عمر پر مشتمل نوجوان آبادی نہ صرف مقامی سطح پر اے آئی کے نئے حل فراہم کر سکتی ہے بلکہ عالمی آؤٹ سورسنگ مارکیٹ اور بالخصوص جرمنی کی درمیانے درجے کی کمپنیوں کے لیے تحقیق و ترقی کا مرکز بن سکتی ہے۔ زراعت، صحت، تعلیم اور حکمرانی جیسے شعبوں میں اے آئی کا استعمال سروسز کی فراہمی میں ڈرامائی بہتری لا سکتا ہے۔ اس کے باوجود، شہری اور دیہی علاقوں میں ڈیجیٹل ڈیوائیڈ، غیر مساوی تعلیمی سہولیات اور جامع اخلاقی ضوابط کی غیر موجودگی وہ رکاوٹیں ہیں جن کا تدارک قومی ترجیحات کے بغیر ممکن نہیں ہے۔
پشاور میں نوجوانوں کے لیے نئے آئی ٹی تربیتی مرکز کا افتتاح: 'بنو قابل' پروگرام کے تحت 10 ہزار سے زائد طلبہ پہلے ہی مستفیدخیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں مرکز اسلامی سردار گڑھی کے مقام پر الخدمت فاؤنڈیشن اور جماعت اسلامی کے تعاون سے 'بنو قابل' آئی ٹی ٹریننگ سینٹر کا افتتاح کر دیا گیا۔ افتتاح الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے مرکزی صدر پروفیسر حافظ الرحمان اور امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا عبدالواسی نے کیا۔ تقریب کے دوران بتایا گیا کہ الخدمت صوبے بھر میں 85 کیمپسز کے ذریعے اب تک 10 ہزار سے زائد نوجوانوں کو فری لانسنگ اور سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ کی مفت تربیت فراہم کر چکی ہے۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد نوجوانوں کو خود انحصار بنانا اور ملکی معیشت میں ان کا حصہ بڑھانا ہے۔
10 ماہ میں 95 کروڑ ڈالر: کیا فری لانسنگ پاکستانی معیشت کی نئی شاہراہ بن رہی ہے؟اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کے ابتدائی 10 ماہ میں ملکی فری لانسرز کی برآمدی آمدن 950 ملین ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے، جو پچھلے سال اسی عرصے کے مقابلے میں 49 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔ ملک میں تقریباً 30 لاکھ افراد فری لانسنگ سے وابستہ ہیں جو Upwork اور Fiverr جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر عمران بتادہ کے مطابق آگاہی میں اضافے کے باوجود بینکاری سہولیات، پے منٹ گیٹ ویز اور اے آئی (AI) مہارتوں کی کمی بڑے چیلنجز ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر فری لانسرز کو تربیت اور ادارہ جاتی تعاون فراہم کیا جائے تو یہ شعبہ ملکی معیشت کا اہم ستون بن سکتا ہے۔
ٹیکنالوجی کی نئی سرد جنگ: کیا امریکا اور چین کی اے آئی مسابقت دنیا کو بلاک بندی پر مجبور کر رہی ہے؟امریکا اور چین کے درمیان مصنوعی ذہانت کی مسابقت اب عالمی سپلائی چین اور تزویراتی اتحادوں پر قبضے کی جنگ بن چکی ہے۔ واشنگٹن کا نیا فریم ورک 'پاکس سلیکا' (Pax Silica) اور چین کا 'ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن' دنیا کو دو الگ الگ ٹیکنالوجی ماحولیاتی نظاموں میں تقسیم کرنے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ قازقستان جیسے ممالک، جو دونوں طاقتوں کے ساتھ متوازن روابط قائم رکھنا چاہتے ہیں، اب امریکی دباؤ کی زد میں ہیں۔ اس عالمی کشمکش میں پاکستان سمیت ترقی پذیر ریاستوں کے لیے سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ بیرونی انحصار ختم کیے بغیر توازن برقرار رکھنا ناممکن ہو جائے گا۔
موسمیاتی جھٹکوں کا نیا دور: دنیا کے بڑے شہر کبھی سیلاب، کبھی خشک سالی کی زد میںدنیا کے بڑے شہروں میں موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں خشک سالی اور شدید بارش کے درمیان تیزی سے بدلتے حالات ایک نئے خطرے کی شکل اختیار کررہے ہیں۔ 112 شہروں پر ہونے والی تحقیق کے مطابق بیشتر شہروں کے موسمی رجحانات تبدیل ہوچکے ہیں، جبکہ کراچی اور فیصل آباد جیسے پاکستانی شہر موسمی خطرات اور سماجی کمزوری کے امتزاج کی وجہ سے خاص توجہ چاہتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق مستقبل کی شہری منصوبہ بندی کو صرف سیلاب یا خشک سالی نہیں بلکہ دونوں انتہاؤں سے نمٹنے کے لیے تیار کرنا ہوگا۔
پاکستان کا آبی بحران صرف قلت نہیں، آلودگی بھی ایک سنگین قومی چیلنجپاکستان میں پانی کا بحران صرف کمی اور ذخائر کا مسئلہ نہیں رہا، بلکہ آلودگی بھی ایک سنگین خطرہ بنتی جارہی ہے۔ زرعی کھادوں، کیڑے مار ادویات، صنعتی فضلے اور غیر صاف شدہ سیوریج کے باعث زیرِ زمین پانی اور آبی ذخائر متاثر ہورہے ہیں، جس کے اثرات انسانی صحت، خوراک اور ماحول تک پہنچ رہے ہیں۔

