تازہ خبریں
خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں سیکیورٹی فورسز کا اہم آپریشن، 10 دہشت گرد ہلاکحکومت پاک ایران گیس پائپ لائن پر ٹرمپ سے ہم پر عائد پابندی ہٹانے کا کہے: راجہ ناصر عباسنائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز پر حملے کی شدید مذمت، 3 پاکستانیوں کی شہادت پر تعزیتملک بھر میں پیٹرول کی قیمت میں 1.70 روپے فی لیٹر کمی کا اعلاناسٹیٹ بینک آف پاکستان کا شرح سود میں کمی کا امکان
LIVE
Bitcoin rises above $80,000 as soft dollar, debasement fears boost momentumDocumentary NAZA on 'mass killing of Palestinian civilians' vying for Golden Lion at Venice Film Festival

نمایاں خبریں

انٹرنیشنل

مزید خبریں
A financial analyst sitting at a workstation in a dark trading room, looking closely at computer monitors displaying red stock market charts and rising government bond yields.

عالمی بانڈ مارکیٹس میں شدید ہیجان: امریکی قرضوں کے بوجھ اور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے معاشی اثرات

امریکہ اور یورپ سمیت دنیا کی بڑی معیشتوں کی بانڈ مارکیٹس میں شدید عدم استحکام دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کے اثرات افراطِ زر، شرحِ سود اور عام شہریوں کی زندگیوں پر مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔ امریکی حکومت کا مجموعی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے جبکہ سالانہ خسارہ جی ڈی پی کے 6 فیصد تک پہنچنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ دوسری جانب، مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والے حملوں اور تیل کی قیمتیں 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرنے کے باعث عالمی مرکزی بینکوں کی جانب سے شرحِ سود میں اضافے کی توقعات بڑھ گئی ہیں۔ اس صورتحال نے برطانیہ اور آسٹریلیا جیسے ترقیافتہ ممالک کے ساتھ ساتھ غریب اور ترقی پذیر معیشتوں کے لیے بھی قرضوں کی بحالی کو انتہائی مہنگا اور مشکل بنا دیا ہے۔

Visitor Reflecting at Memorial Exhibition Wall

نائن الیون کے 25 سال: تین زندگیوں کی داستان اور کھوئے ہوئے پیاروں کی نہ بھولنے والی یادیں

11 ستمبر 2001 کے دہشت گردانہ حملوں کو ربع صدی بیت جانے کے باوجود اس کے اثرات امریکیوں کی زندگیوں اور عالمی منظر نامے پر گہرےنقوش چھوڑے ہوئے ہیں۔ ورلڈ ٹریڈ سینٹر، پینٹاگون اور پنسلوانیا میں ہونے والے ان حملوں میں تقریباً تین ہزار افراد ہلاک ہوئے، جبکہ اس کے بعد عراق اور افغانستان کی جنگوں میں نو لاکھ سے زائد افراد لقمہ اجل بنے۔ تاہم، اس سانحے کی کہانی صرف بین الاقوامی پالیسیوں تک محدود نہیں، بلکہ ان انفرادی زندگیوں سے جڑی ہے جو ہمیشہ کے لیے بدل گئیں۔ فائر فائٹرز کے بچوں کا اپنے والد کے پیشے کو اپنانا ہو، گرائونڈ زیرو کی زہریلی دھول سے بیمار ہونے والے ہزاروں افراد کی طبی دیکھ بھال، یا چیک ان ایجنٹ کا پچھتاوا—یہ کہانیاں اس انسانی المیے کے اس زندہ اثر کو نمایاں کرتی ہیں۔

Journalist workspace with handwritten notes, a political family tree chart, and parliamentary reports on a desk overlooking Islamabad.

موروثی سیاست اور ’نیپو بیبیز‘: پاکستان سمیت دنیا بھر میں سیاسی خاندانوں کا تسلط اور جمہوریت کے لیے درپیش چیلنجز

پاکستان سمیت دنیا کے متعدد ممالک میں سیاسی اقتدار کی باگ ڈور روایتی خاندانوں اور موروثی قیادت کے ہاتھوں میں چلی آ رہی ہے۔ جنوب مشرقی ایشیا، جنوبی ایشیا، لاطینی امریکہ اور مغرب تک پھیلے اس رجحان میں سابق حکمرانوں کی اولاد، شریکِ حیات یا رشتہ دار اپنے خاندانی نام کی بدولت اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوتے ہیں۔ اگرچہ تحریکِ انصاف کے ابھار سے پاکستان میں اس روایت پر دباؤ پڑا، مگر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی صورت میں موروثی سیاست اب بھی مضبوط ہے۔ ماہرین کے مطابق موروثی سیاست نہ صرف میرٹ اور جمہوری اداروں کو کمزور کرتی ہے بلکہ معاشی اصلاحات اور ابھرتے ہوئے شہری وسطی طبقے کی توقعات کی راہ میں بھی بڑی رکاوٹ ہے۔

پاکستان

مزید خبریں
A large platter of Kabli Pulao garnished with tender beef, bone marrow, caramelized carrots, and raisins, served with yogurt and green tea on a wooden table.
Freshly fried Peshawari Chapli kababs topped with tomato slices and pomegranate seeds, served with naan, green chutney, and sliced red onions on a ceramic platter.

تلواروں پر بھنے گوشت سے پختون خوا کی سڑکوں تک: چپلی کباب کی تاریخی داستان اور روایتی ترکیب

چپلی کباب محض ایک لذیذ ڈش نہیں بلکہ خیبر پختونخوا اور مشرقی افغانستان کی ثقافتی اور روایتی پہچان کا اہم حصہ ہے۔ تلواروں پر گوشت بھوننے والے قدیم ترک اور ایرانی سپاہیوں کی روایات سے لے کر پختون خطے کے مخصوص انداز تک، کبابوں کا سفر صدیوں پر محیط ہے۔ پشتو زبان کے لفظ 'چپریخ' یعنی چپلٹے سے نکلنے والا لفظ 'چپلی' اس کباب کی مخصوص ساخت کو ظاہر کرتا ہے۔ انار دانے، ثبوتے دھنیے اور گندم کے آٹے کے متوازن آمیزے سے تیار ہونے والا یہ بیف کباب پورے برصغیر میں بے حد مقبول ہے۔ اس مضمون میں چپلی کباب کے تاریخی پس منظر کے ساتھ ساتھ اسے گھر میں روایتی ذائقے کے ساتھ تیار کرنے کی مکمل ترکیب بھی شامل کی گئی ہے۔

A clay bowl of steaming hot beef nihari garnished with julienned ginger, green chilies, cilantro, and a lemon slice next to a piece of naan on a wooden board.

شاہی مطبخ سے کراچی کی گلیوں تک: نہاری کا تاریخی سفر اور روایتی تیاری کا طریقہ

نہاری صرف ایک لذیذ ڈش نہیں بلکہ برصغیر کی ثقافتی اور معاشی تاریخ کا ایک منفرد باب ہے۔ اٹھارویں صدی میں زوال پذیر مغلیہ سلطنت کے دور میں دہلی اور لکھنؤ کے شاہی مطبخ سے جنم لینے والی یہ ڈش حکمت اور طبِ مشرق سے بھی جڑی ہوئی ہے، جسے شدید سردیوں میں نزلہ اور زکام سے بچاؤ کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ بعد ازاں یہ نوابوں کے ناشتے سے ہوتی ہوئی برصغیر کی تعمیر میں مصروف مزدوروں کی توانائی کا بنیادی ذریعہ بنی۔ کراچی کی صابری نہاری سے لے کر پرانی دہلی کی تاریخی گلیوں تک، نہاری پکانے اور کھانے کی روایت آج بھی اتنی ہی شاندار ہے۔ اس مضمون میں نہاری کے تاریخی پس منظر کے ساتھ اسے گھر میں روایتی انداز سے تیار کرنے کی مکمل ترکیب بھی پیش کی گئی ہے۔

Old leather-bound books and sealed parchment scrolls arranged on a wooden desk inside a classic library setting.

تعزیراتِ ہند سے 1986ء کی ترمیم تک: توہینِ مذہب کے قوانین کا تاریخی ارتقا اور عالمی منظرنامہ

پاکستان میں 1947ء سے 1985ء کے دوران توہینِ مذہب کے قانون کے تحت صرف 14 مقدمات درج ہوئے تھے، جبکہ 1986ء میں سزائے موت کی شق شامل کیے جانے کے بعد سے اب تک 1,500 سے زائد افراد پر یہ الزامات عائد کیے جا چکے ہیں۔ امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (USCIRF) کی 2017ء کی ایک جائزہ رپورٹ میں 71 ممالک کے قوانین کا تقابلی جائزہ لیا گیا، جس میں ایران اور پاکستان کے قوانین کو ان کے سخت اطلاق اور سوءِ استعمال کے خدشات کی بنیاد پر فہرست میں سب سے اوپر رکھا گیا۔ نوآبادیاتی دور میں برطانوی حکومت نے 1860ء میں تعزیراتِ ہند کے تحت جو قانون نافذ کیا تھا، اس میں سزائے موت شامل نہیں تھی۔ اس قانون کی یورپی جڑیں اور بعد ازاں پاکستان میں سزائے موت کی شق شامل کیے جانے کا عمل ایک طویل قانونی اور سیاسی تاریخ رکھتا ہے۔

An open ancient manuscript resting on a wooden desk illuminated by a single beam of sunlight inside a stone hall with arches.

مذہب اور اقتدار کا بندھن: جب عقیدے کو اصلاح کے بجائے اطاعت کا ذریعہ بنا دیا جائے

جدید سیاسی فکر میں کارل مارکس کا یہ قول کہ "مذہب عوام کی افیون ہے" اکثر غلط فہمی کا شکار رہتا ہے۔ مارکس کا مقصد مذہب کی تحقیر کے بجائے یہ خبردار کرنا تھا کہ کس طرح جابرانہ نظام میں عقیدے کو ایک مسکن (سیڈیٹیو) کے طور پر برتا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی اس سوچ کی جھلک دکھائی دیتی ہے، جہاں مذہبی جذبات اور نعروں کو معاشرتی و معاشی ناانصافیوں کے خلاف آواز دبانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ غربت کو تقدیر کا ناگزیر فیصلہ بتانا، عقل اور نقل کے توازن کو ختم کرنا، اجتہاد کے دروازے بند کرنا اور "اسلام خطرے میں ہے" کے نعرے کو ذات اور اقتدار کی ڈھال بنانا ایسے حائل عوامل ہیں جو نوجوان نسل کو فکر سے دور کر رہے ہیں۔

A wooden judge's gavel resting on an open law book with brass scales of justice and atmospheric courtroom lighting in the background.

پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی کا بدلتا روپ: من گھڑت الزامات، قانون کا استعمال اور اکثریت کا بڑھتا خوف

پاکستانی معاشرے میں مذہبی عدم برداشت اور بڑھتے ہوئے خوف نے سماجی تانے بانے کو شدید متاثر کیا ہے۔ شدت پسند گروہوں نے اپنے طریقہ کار میں تبدیلی لاتے ہوئے ہجوم کو بھڑکانے کے بعد قانونی اور انتظامی راہداریوں کے ذریعے ملزمان کو تحفظ فراہم کرنے کا طریقہ اپنا لیا ہے۔ اگست 2023ء میں پی ڈی ایم حکومت کے آخری دنوں میں محض ایک دن کے اندر 48 بل پاس کیے گئے، جن میں مذہبی قوانین میں ترمیم بھی شامل تھی۔ تاہم، ان قوانین کی سختی کا اثر اب خود اکثریت تک پھیلنے لگا ہے، جہاں چترال میں بل پیش کرنے والے رکنِ اسمبلی کا قریبی ساتھی ہی اسی ترمیم کی زد میں آ گیا۔ ہائی کورٹ کی جانب سے بھی ایف آئی اے اور بعض عناصر کے درمیان گٹھ جوڑ کی تحقیقات کے لیے کمیشن بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔

A group of men raising their hands and waving a green flag during an outdoor religious political protest in Pakistan.

تعزیراتِ ہند سے تعزیراتِ پاکستان تک: توہینِ مذہب کے قوانین کا ارتقا اور سیاسی و سماجی اثرات

پاکستان میں توہینِ مذہب کے قوانین اور ان کے عمومی اطلاق کا موضوع دہائیوں سے سیاسی اور سماجی مباحث کا مرکز رہا ہے۔ 1860ء کے برطانوی نوآبادیاتی دور کے تعزیراتِ ہند سے شروع ہونے والا یہ قانونی سفر 1927ء میں شق 295-A اور پھر 1980ء کی دہائی میں جنرل ضیاء الحق کے دور کی ترمیمات، بشمول 1986ء کی شق 295-C پر منتج ہوا۔ 1990ء میں وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے بعد اس شق کے تحت سزائے موت کو واحد اور لازمی سزا قرار دیا گیا۔ 2017ء کے الیکشن ایکٹ تنازع اور فیض آباد دھرنے کے واقعات نے یہ واضح کیا کہ مذہبی جذبات اور قانونی شقیں ملک کے سیاسی و انتظامی نظام کو کس طرح متاثر کرتی ہیں۔

مزید خبریں

سائنس اور ٹیکنالوجی

مزید خبریں
A tired woman lying in bed at night in a dim bedroom looking at a glowing smartphone screen while yawning.
سائنس اور ٹیکنالوجی

اسمارٹ فون نظروں سے اوجھل رکھیں: ذہنی تناؤ اور نیند کی خرابی سے بچاؤ کے لیے ماہرینِ نفسیات کی ہدایات

جدید دور میں اسمارٹ فونز ہماری روزمرہ زندگی کا ناگزیر حصہ بن چکے ہیں، مگر ان کا بے تحاشا استعمال ذہنی تناؤ اور نیند کی شدید خرابیوں کا سبب بن رہا ہے۔ جرمنی کی بریمر اپولون یونیورسٹی آف ہیلتھ اکنامکس کی ماہر نفسیات نکولا جانسن کے مطابق کام یا پڑھائی کے دوران موبائل کو نظروں سے دور رکھنا اور بیڈ روم سے باہر رکھنا اعصابی سکون کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ 2010ء سے 2017ء کے درمیان نیند کی خرابی کے مسائل میں 300 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، جس کی ایک بڑی وجہ ڈیجیٹل میڈیا کا پھیلتا جال ہے۔ روایتی گھڑی کا استعمال، پش نوٹیفیکیشنز کی بندش اور رات کے اوقات میں سکرین سے دوری کے ذریعے اس تناؤ میں فوری کمی لائی جا سکتی ہے۔

مزید پڑھیں

صحت

مزید خبریں
A top-down view of a hand reaching for fried tempeh next to a pink plate of white rice with vegetables and a pink bowl of carrot soup on a colorful table.
صحت

غذائی قلت سے موٹاپے تک: نامکمل خوراک اور پروسیسڈ فوڈز نے ترقی پذیر دنیا کے بچوں کی صحت خطرے میں ڈال دی

دنیا کے غریب اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں بچوں کی صحت ایک نئے اور خطرناک بحران سے دوچار ہو رہی ہے، جہاں غذائی قلت کے ساتھ ساتھ بچوں میں موٹاپا تیزی سے پھیل رہا ہے۔ جریدے 'نیچر' میں شائع ہونے والی 200 ممالک کی بین الاقوامی تحقیق کے مطابق، ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ میں پروسیسڈ خوراک کی فراوانی اور آگاہی کی کمی کی وجہ سے بچوں میں موٹاپے کی شرح ترقی یافتہ ممالک سے زیادہ تیز رفتار ہو چکی ہے۔ انڈونیشیا اور پیرو جیسے ممالک میں بچوں کی ایک بڑی تعداد اس دوہرے بوجھ کا شکار ہے، جبکہ عالمی ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو غیر متعدی بیماریوں کا یہ طوفان بچوں کی صحت کے شعبے میں حاصل کی گئی دہائیوں کی کامیابیوں کو بہا لے جائے گا۔

مزید پڑھیں

افغانستان

مزید خبریں

کالمز

مزید خبریں

جرائم

مزید خبریں

شوبز

مزید خبریں

موسم

تازہ موسمی صورتحال

اسلام آباد

Islamabad
26°C Smoky haze UV 0
لاہورSmoky haze
30°C
کراچیPartly Cloudy
27°C
پشاورSmoky haze
34°C

آج کی جھلکیاں

محسوس درجہ حرارت28°C
موسمی کیفیتSmoky haze
نمی65%
ہوا9 km/h
بارش0 mm
UV انڈیکس0