تازہ خبریں
سوئے بغیر دماغ کو نیند کا احساس دلانا ممکن: امریکی سائنسدانوں کا چوہوں پر کامیاب تجربہایپل کا پہلا فولڈ ایبل ’آئی فون ڈوو‘ منظرِ عام پر: 2 ہزار ڈالرز کی قیمت میں 7.6 انچ کی سکرین اور A20 پرو چپتنگ نظر روایات، شدت پسندی اور ریاستی بے حسی: قبائلی اضلاع کی بیٹیوں کا کھیل کے میدان تک پہنچنے کا دشوار سفرمیاں چنوں سے برمنگھم تک: کٹھن راستوں اور کہنی کی چوٹ کو شکست دے کر 90 میٹر کا سنگِ میل عبور کرنے والے ارشد ندیم کی کہانیہمالیہ کے سبزہ زاروں سے رتی گلی تک: گرمی کی حبس سے نانگا پربت، دیوسائی اور وادیِ نیلم کا سحر انگیز سفربرف میں ڈھکی جھیل سیف الملوک: ناران سے ملکہ پربت کے دامن تک ایک سیاح کا سحر انگیز سفردیوسائی کی سحر انگیز وسعتیں: 'دیوؤں کی سرزمین' اور شیووسر جھیل کا جغرافیائی و انسانی منظرنامہعالمی بانڈ مارکیٹس میں شدید ہیجان: امریکی قرضوں کے بوجھ اور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے معاشی اثراتنائن الیون کے 25 سال: تین زندگیوں کی داستان اور کھوئے ہوئے پیاروں کی نہ بھولنے والی یادیںپاکستان میں مذہبی انتہا پسندی کا بدلتا روپ: من گھڑت الزامات، قانون کا استعمال اور اکثریت کا بڑھتا خوفتعزیراتِ ہند سے تعزیراتِ پاکستان تک: توہینِ مذہب کے قوانین کا ارتقا اور سیاسی و سماجی اثراتتین دہائیوں میں کیسز کی تسلسل سے آمد اور سیاسی استعمال: توہین کے قوانین کی سختیاں اور بڑھتے سوالاتاسمارٹ فون نظروں سے اوجھل رکھیں: ذہنی تناؤ اور نیند کی خرابی سے بچاؤ کے لیے ماہرینِ نفسیات کی ہدایاتکیا سن اسکرین واقعی جلدی کینسر کا سبب بنتی ہے؟ سوشل میڈیا کے مقبول دعووں کی سائنسی حقیقتٹک ٹاک تحائف اور لائیو سٹریمنگ: سوشل میڈیا کا وہ پوشیدہ راستہ جسے غیر قانونی سرمائے کی منتقلی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہےمقامی حکومتیں: صوبائی دارالحکومتوں میں اٹکی ہوئی جمہوریت اور اختیارات کی نچلی سطح پر عدم منتقلیمرکز اور حاشیے کی کشمکش: استعماری طرزِ حکمرانی جو پاکستان کو پیچھے دھکیل رہا ہےموروثی سیاست اور ’نیپو بیبیز‘: پاکستان سمیت دنیا بھر میں سیاسی خاندانوں کا تسلط اور جمہوریت کے لیے درپیش چیلنجزہرات کا روایتی شیشہ: مٹی کی بھٹیوں، صحرائی پودے اور پھونک سے ڈھلتے صدیوں پرانے شاہکارپاک ایران راستوں پر رکاوٹیں: کیا 'لاپس لازولی راہداری' افغانستان کو متبادل تجارتی راستہ فراہم کر سکتی ہے؟ہرات کی 1800 سالہ قدیم شیشہ سازی کی صنعت کا آخری چراغ: ایک شیشہ گر اور دم توڑتا ورثہقوش تیپہ کینال پروجیکٹ: آمو دریا کا رخ موڑنے کا افغان منصوبہ وسطی ایشیا کے لیے نیا آبی بحران؟پاک افغان تجارت میں بڑا بریک ڈاون: 53 فیصد کمی اور سرحد پار معیشت کا خاموش بحرانباری اسٹوڈیوز: لاہور کے فلمی عروج کی ایک بکھرتی ہوئی یادکیا پنجابی سنیما پاکستان میں فلمی صنعت کی بحالی کی چابی ہے؟پردے کے پیچھے چھپا لالی وڈ کا معمار: اقبال رضوی کی ساٹھ سالہ فلمی داستانخالی ہال، مہنگے ٹکٹ اور فلموں کا قحط: پاکستانی سنیما کو درپیش بقا کا بحرانکابل پر اقتدار کے پانچ سال: عسکری فتح سے حکمرانی کے امتحان تکخاموش ہوتے پردے اور خالی سینما ہال: کیا پاکستانی فلمی صنعت اپنی بقا کی جنگ ہار رہی ہے؟
LIVE
US Dollar 278.44 PKREuro 317.69 PKRBritish Pound 368.77 PKRUAE Dirham 75.82 PKRSaudi Riyal 74.25 PKRKuwaiti Dinar 903.05 PKRQatari Riyal 76.49 PKRBahraini Dinar 740.53 PKROmani Rial 724.15 PKRChinese Yuan 41.00 PKRJapanese Yen 1.72 PKRIndian Rupee 2.94 PKRAfghan Afghani 4.39 PKRMalaysian Ringgit 68.41 PKRSingapore Dollar 215.27 PKRTurkish Lira 5.99 PKRCanadian Dollar 196.16 PKRAustralian Dollar 191.83 PKRSwiss Franc 344.45 PKRIslamabad 🌧 26°C Smoky hazeRawalpindi 🌧 29°C Smoky hazeLahore 🌧 30°C Smoky hazeKarachi ⛅ 27°C Partly CloudyQuetta ☀ 22°C ClearPeshawar 🌧 34°C Smoky hazeMultan 🌧 35°C Smoky hazeFaisalabad 🌧 32°C Smoky hazeGujranwala 🌧 30°C Smoky hazeSialkot 🌧 29°C Smoky hazeHyderabad ☀ 28°C ClearSukkur ☀ 34°C ClearBannu 🌧 36°C Smoky hazeDera Ismail Khan 🌧 37°C Smoky hazeAbbottabad 🌧 21°C Smoky hazeMansehra 🌧 21°C Smoky hazeChitral ☀ 16°C ClearMingora / Swat 🌧 19°C Smoky hazeKalam ☀ 8°C ClearMalam Jabba 🌧 19°C Smoky hazeNathia Gali 🌧 21°C Smoky hazeMurree 🌧 26°C Smoky hazeGilgit ☀ 19°C ClearSkardu ☀ 15°C ClearHunza ☀ 12°C ClearChilas ☀ 19°C ClearAstore ☀ 12°C ClearDir ☀ 14°C ClearKumrat Valley ☀ 8°C ClearNaran ⛅ 10°C Partly CloudyKaghan ⛅ 14°C Partly CloudyMuzaffarabad ⛅ 14°C Partly CloudyMirpur 🌧 31°C Patchy rain nearbyRawalakot 🌧 22°C Smoky haze

نمایاں خبریں

انٹرنیشنل

مزید خبریں
A financial analyst sitting at a workstation in a dark trading room, looking closely at computer monitors displaying red stock market charts and rising government bond yields.

عالمی بانڈ مارکیٹس میں شدید ہیجان: امریکی قرضوں کے بوجھ اور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے معاشی اثرات

امریکہ اور یورپ سمیت دنیا کی بڑی معیشتوں کی بانڈ مارکیٹس میں شدید عدم استحکام دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کے اثرات افراطِ زر، شرحِ سود اور عام شہریوں کی زندگیوں پر مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔ امریکی حکومت کا مجموعی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے جبکہ سالانہ خسارہ جی ڈی پی کے 6 فیصد تک پہنچنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ دوسری جانب، مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والے حملوں اور تیل کی قیمتیں 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرنے کے باعث عالمی مرکزی بینکوں کی جانب سے شرحِ سود میں اضافے کی توقعات بڑھ گئی ہیں۔ اس صورتحال نے برطانیہ اور آسٹریلیا جیسے ترقیافتہ ممالک کے ساتھ ساتھ غریب اور ترقی پذیر معیشتوں کے لیے بھی قرضوں کی بحالی کو انتہائی مہنگا اور مشکل بنا دیا ہے۔

Visitor Reflecting at Memorial Exhibition Wall

نائن الیون کے 25 سال: تین زندگیوں کی داستان اور کھوئے ہوئے پیاروں کی نہ بھولنے والی یادیں

11 ستمبر 2001 کے دہشت گردانہ حملوں کو ربع صدی بیت جانے کے باوجود اس کے اثرات امریکیوں کی زندگیوں اور عالمی منظر نامے پر گہرےنقوش چھوڑے ہوئے ہیں۔ ورلڈ ٹریڈ سینٹر، پینٹاگون اور پنسلوانیا میں ہونے والے ان حملوں میں تقریباً تین ہزار افراد ہلاک ہوئے، جبکہ اس کے بعد عراق اور افغانستان کی جنگوں میں نو لاکھ سے زائد افراد لقمہ اجل بنے۔ تاہم، اس سانحے کی کہانی صرف بین الاقوامی پالیسیوں تک محدود نہیں، بلکہ ان انفرادی زندگیوں سے جڑی ہے جو ہمیشہ کے لیے بدل گئیں۔ فائر فائٹرز کے بچوں کا اپنے والد کے پیشے کو اپنانا ہو، گرائونڈ زیرو کی زہریلی دھول سے بیمار ہونے والے ہزاروں افراد کی طبی دیکھ بھال، یا چیک ان ایجنٹ کا پچھتاوا—یہ کہانیاں اس انسانی المیے کے اس زندہ اثر کو نمایاں کرتی ہیں۔

Journalist workspace with handwritten notes, a political family tree chart, and parliamentary reports on a desk overlooking Islamabad.

موروثی سیاست اور ’نیپو بیبیز‘: پاکستان سمیت دنیا بھر میں سیاسی خاندانوں کا تسلط اور جمہوریت کے لیے درپیش چیلنجز

پاکستان سمیت دنیا کے متعدد ممالک میں سیاسی اقتدار کی باگ ڈور روایتی خاندانوں اور موروثی قیادت کے ہاتھوں میں چلی آ رہی ہے۔ جنوب مشرقی ایشیا، جنوبی ایشیا، لاطینی امریکہ اور مغرب تک پھیلے اس رجحان میں سابق حکمرانوں کی اولاد، شریکِ حیات یا رشتہ دار اپنے خاندانی نام کی بدولت اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوتے ہیں۔ اگرچہ تحریکِ انصاف کے ابھار سے پاکستان میں اس روایت پر دباؤ پڑا، مگر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی صورت میں موروثی سیاست اب بھی مضبوط ہے۔ ماہرین کے مطابق موروثی سیاست نہ صرف میرٹ اور جمہوری اداروں کو کمزور کرتی ہے بلکہ معاشی اصلاحات اور ابھرتے ہوئے شہری وسطی طبقے کی توقعات کی راہ میں بھی بڑی رکاوٹ ہے۔

پاکستان

مزید خبریں
Young female sports players wearing white headscarves and face masks sitting on grass alongside male and female coaches in Khyber Pakhtunkhwa.
Pakistani athlete Arshad Nadeem wearing a green Pakistan kit as he prepares to release the javelin during the men's javelin throw final.

میاں چنوں سے برمنگھم تک: کٹھن راستوں اور کہنی کی چوٹ کو شکست دے کر 90 میٹر کا سنگِ میل عبور کرنے والے ارشد ندیم کی کہانی

ٹوکیو اولمپکس میں میڈل کی دوڑ سے محروم رہنے کے بعد برمنگھم کامن ویلتھ گیمز میں 56 سالہ قحط کو ختم کرتے ہوئے ارشد ندیم نے پاکستان کے لیے سونا جیت کر تاریخ رقم کر دی۔ میاں چنوں کی تنگ گلیوں، وسائل کی کمی اور کہنی کی شدید تکلیف کے باوجود 90.18 میٹر کی تاریخی تھرو پھینکنے والے اس جیولن تھروور کا سفر آسان نہیں تھا۔ کرکٹ کے جنون سے اتھلیٹکس کے میدان تک، کوچ رشید ثاقی اور فیض البخاری کی رہنمائی میں تراشے گئے اس ہیرے کی کامیابی صرف ایک تمغے کی نہیں بلکہ غیر متزلزل عزم اور محنت کی جیتی جاگتی داستان ہے۔

Wooden log cabins sitting on lush green lawns at Fairy Meadows with the massive snow-covered peak of Nanga Parbat glowing in warm sunset light in Gilgit-Baltistan, Pakistan.

ہمالیہ کے سبزہ زاروں سے رتی گلی تک: گرمی کی حبس سے نانگا پربت، دیوسائی اور وادیِ نیلم کا سحر انگیز سفر

لاہور کی تپتی گرمی اور حبس زدہ دوپہر سے فرار اختیار کر کے سلسلےِ ہمالیہ کے بلند و بالا پہاڑوں اور قدرتی جھیلوں کی طرف نکلنا کسی خواب سے کم نہیں۔ یہ سفرنامہ بالاکوٹ، بابوسر پاس اور رائے کوٹ برج سے ہوتا ہوا نانگا پربت کے دامن میں واقع فیری میڈوز تک پہنچتا ہے، جہاں قاری رحمت کی آپ بیتی اور جرمن کوہ پیماؤں کی داستانیں بکھری ہیں۔ وہاں سے استور کی تاریخی وادیوں، مینیمرگ اور رینبو لیک سے گزرتے ہوئے، دیوسائی کے پراسرار میدانوں اور بالآخر وادیِ نیلم کی خوبصورت رتی گلی جھیل تک کا سفر قدرتی مناظر، مقامی ثقافت اور سیاحتی زندگی کی جیتی جاگتی تصویر پیش کرتا ہے۔لاہور میں شدید گرمی اور حبس کا زور تھا اور آم کے درخت پر پپیہے کے جوڑے کا گھونسلا بارش کے بعد بکھر رہا تھا، جب ہمالیہ کے سرسبز میدانوں اور قدرتی جھیلوں کی صدا نے سفر پر روانہ ہونے کا اشارہ دیا۔ ہمالیہ کا یہ عظیم الشان پہاڑی سلسلہ مغرب میں افغانستان سے لے کر مشرق میں میانمار تک پھیلا ہوا ہے، جس میں ماؤنٹ ایورسٹ اور نانگا پربت سمیت 8 ہزار میٹر سے بلند کئی چوٹیاں شامل ہیں۔ بالاکوٹ پہنچے تو وادیِ کاغان میں دریائے کنہار پر دھند کی چادر تنی تھی اور لولوسر جھیل صبح کے وقت سیاحوں سے خالی ویران نظر آ رہی تھی۔ بابوسر پاس عبور کرتے ہی سردی کی شدت میں اضافہ ہوا، چلاس کی گرمی اور سڑک کی دھول سے گزر کر دوپہر کے وقت رائے کوٹ برج پہنچے جہاں سے جیپ کے ذریعے تتّو گاؤں اور پھر تین گھنٹے کی پیدل مسافت کے بعد فیری میڈوز کا سبزہ زار سامنے آیا۔ نانگا پربت کا سایہ اور فیری میڈوز کا قاری 8,126 میٹر بلند نانگا پربت کے سامنے رات کے اندھیرے میں فیری میڈوز کاجل جیسا سیاہ دکھائی دے رہا تھا۔ یہاں فیری میڈوز کاٹیجز کے مالک قاری رحمت سے ملاقات ہوئی، جنہوں نے اپنی زندگی کے نشیب و فراز بیان کیے۔ وہ ماضی میں ایک مدرسے میں 1,200 روپے ماہانہ پر پڑھاتے تھے، مگر مہمان نوازی کے اخراجات کی وجہ سے ان کے پاس کچھ نہ بچتا۔ نوکری چھوڑنے کے بعد ایک سال بے روزگار رہے، پھر 1992ء میں گلگت میں ایک شخص کے مشورے پر 800 روپے کی رقم کے ساتھ فیری میڈوز کی شاملاٹ زمین پر پتھر رکھ کر جگہ کی نشان دہی کی اور جنگل کی لکڑی سے ہوٹل بنایا۔ شروع کے پانچ سال تو کوئی مقامی سیاح نہ آیا لیکن آج ان کا ہوٹل ہر سیزن میں مکمل بک رہتا ہے۔ اسی دامن میں 1953ء میں آسٹریا کے کوہ پیما ہرمن بُہل نے پہلی بار نانگا پربت سر کیا تھا، جبکہ اس سے قبل یہ سرکش پہاڑ 31 کوہ پیماؤں کی جانیں لے چکا تھا۔ بُہل نے اپنی کتاب میں لکھا تھا کہ آخری چڑھائی کے دوران انہیں محسوس ہوا کہ کوئی نادیدہ وجود ان کے پیچھے ہے اور رسی اپنے آپ ٹوٹ گئی تھی۔ اس پہاڑ نے جرمن کوہ پیما رائن ہولڈ میسنر کے بھائی سمیت کئی مہم جوؤں کو اپنے آغوش میں سلا رکھا ہے۔ مینیمرگ کے کھلتے پھول اور دیوسائی کی پراسرار خاموشی فیری میڈوز سے رخصت ہو کر شاہراہِ ریشم کے راستے استور کا سفر شروع ہوا۔ 120,000 کی آبادی پر مشتمل ضلع استور چشموں، ندی نالوں اور جھیلوں کی سرزمین ہے۔ تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ فارس سے آنے والے غازی مکپون نے سکردو کے شاہی خاندان میں شادی کی تھی اور ان کی اولاد نے سکردو، استور، روندو اور کھرمُنگ پر طویل عرصے حکومت کی، جس کے بعد یہ علاقہ ڈوگرا راج کے زیرِ نگیں چلا گیا۔ استور کے بازار سے جیپ تبدیل کر کے چلم چوکی میں اندراج کروایا اور مینیمرگ کی طرف بڑھے، جہاں لکڑی کے مکانات، جستی چھتیں اور رنگ برنگے جنگلی پھول سیاحوں کا استقبال کرتے ہیں۔ یہاں سے ڈومیل کی رینبو لیک پہنچے تو مارموٹ (پہاڑی گلہری) کی سیٹیوں نے فضا میں موسیقی گھول دی۔ اس کے بعد سفر دیوسائی کے وسیع و عریض میدانوں اور شیوسر جھیل کی طرف مڑا۔ دیوسائی کا لفظ ’دیو‘ یعنی دیو قامت اور ’سائی‘ یعنی سائے کا مجموعہ ہے۔ شدید سردی اور منفی 30 ڈگری سینٹی گریڈ تک گرنے والے درجہ حرارت کی وجہ سے یہاں مستقل رہائش ناممکن ہے۔ یہ خاموش میدان بھورے ریچھ، سرخ لومڑی اور سنہری عقاب کا مسکن ہے۔ پنجاب کے میدانی علاقوں سے آنے والے چرواہے اپنے مویشیوں کے ساتھ انہی میدانوں سے گزر کر سکردو اور استور جاتے ہیں اور سفر کے دوران فوت ہو جانے والے چرواہوں کی قبریں انہی ویرانوں میں بکھری پڑی ہیں۔ کرن سیکٹر کی للکار اور رتی گلی کا نیلا پانی سلسلہِ ہمالیہ کا گلگت بلتستان کا حصہ ختم ہوا تو کشمیر کی سب سے بڑی جھیل 'رتی گلی' کا سفر شروع ہوا۔ مظفرآباد شہر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کے خلاف یومِ سیاہ کی وجہ سے مکمل بند اور ویران تھا۔ وادیِ نیلم کے کرن سیکٹر کی ملٹری چیک پوسٹ پر فوجی اہلکار نے دو دن قبل ہونے والی فائرنگ اور چار شہادتوں کا حوالہ دیتے ہوئے آگے جانے سے روکا، لیکن جنونِ سفر کے سامنے رکاوٹیں نہ ٹھہر سکیں۔ دوڑیاں سے سنگلاخ راستے پر ڈھائی گھنٹے جیپ کے سفر کے بعد رتی گلی کا بیس کیمپ آیا، جو خیموں کا ایک شہر بن چکا تھا۔ وہاں سے ڈھائی کلومیٹر کی عمودی اور کٹھن چڑھائی کے بعد جب رتی گلی جھیل کا گہرا نیلا پانی اور شام کی سنہری شعاعیں سامنے آئیں تو تمام تھکن کافور ہو گئی۔ اس نیلی جھیل کے کنارے سبز مخملی گھاس پر سجدہ ریز ہو کر خالقِ حقیقی کا شکر ادا کیا۔ لاہور واپسی پر جب کھڑکی کھولی تو آم کا درخت اداس تھا اور پرندوں کا جوڑا جا چکا تھا، مگر ایک سیاح کے لیے سفر کی یادیں اور نئے راستوں کی تلاش ہی اصل اثاثہ ہوتی ہے۔

A wide frozen lake covered in ice and snow under a bright full moon, surrounded by snow-capped mountain peaks and lit wooden cabins in Kaghan Valley, Pakistan.

برف میں ڈھکی جھیل سیف الملوک: ناران سے ملکہ پربت کے دامن تک ایک سیاح کا سحر انگیز سفر

وادیِ کاغان کا شمار پاکستان کے سب سے دلکش قدرتی خطوں میں ہوتا ہے، جہاں دریائے کنہار کے ساتھ ساتھ پھیلی وادی، شوگران، ناران اور جھیل سیف الملوک سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنی رہتی ہیں۔ موسمِ بہار اور سرما کے اختتام پر جب ناران سے جھیل سیف الملوک کا جیپ ٹریک شدید برف باری کے باعث بند ہوتا ہے، تو 4,173 میٹر تک بلند ان پہاڑی سلسلوں کا سفر کٹھن اور دشوار گزار ہو جاتا ہے۔ یہ تحریر پنجاب کے میدانی علاقوں اور ہزارہ ڈویژن سے ہوتے ہوئے ناران، للوسر، لولا زار اور برف سے ڈھکی سیف الملوک جھیل تک کے ایک منفرد سیاحتی سفر، مقامی ثقافت اور قدرتی تنوع کا احاطہ کرتی ہے۔

A dark gray Toyota Land Cruiser with tire chains driving on a narrow snow-covered cliffside track overlooking a deep blue mountain lake surrounded by snow-capped peaks in Gilgit-Baltistan, Pakistan.

دیوسائی کی سحر انگیز وسعتیں: 'دیوؤں کی سرزمین' اور شیووسر جھیل کا جغرافیائی و انسانی منظرنامہ

سطحِ سمندر سے 4 ہزار میٹر سے زائد بلندی پر واقع دیوسائی کا قومی پارک ہندوکش اور ہمالیہ کے سنگم پر 3 ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلا ایک منفرد خطہ ہے۔ 'دیو' اور 'سائی' یعنی دیوؤں کے سائے سے منسوب یہ سطحِ مرتفع سال کے 8 ماہ برف سے ڈھکی رہتی ہے اور یہاں کوئی درخت موجود نہیں ہے۔ یہ علاقہ ہمالین براؤن بیئر، سرخ لومڑیوں اور نایاب پرندوں کا قدرتی مسکن ہے۔ سکردو سے سدپارہ کے راستے شیووسر جھیل تک پھیلا یہ راستہ جہاں قاتل پہاڑ نانگا پربت کے نظارے پیش کرتا ہے، وہیں چلم اور استور کے راستے میں پہاڑی باشندوں کی زندگی کے تلخ حقائق سے بھی پردہ اٹھاتا ہے۔

A paved two-lane highway with an N-10 road marker winding between golden desert rock cliffs and the turquoise ocean waves of the Arabian Sea in Balochistan, Pakistan.

کراچی سے گوادر: مکران کوسٹل ہائی وے اور بلوچستان کی سحر انگیز ساحلی پٹی کا سفر

پاکستان کی جنوبی ساحلی پٹی قدرتی مناظر، نایاب جغرافیائی تنوع اور معاشی امکانات کا ایک انوکھا مرکب ہے۔ کراچی کے تاریخی ساحلوں سے شروع ہو کر بلوچستان کے شہر گوادر تک پھیلا یہ ساحلی راستہ مکران کوسٹل ہائی وے (این-10) کے ذریعے مختلف جغرافیائی شاہکاروں کو آپس میں جوڑتا ہے۔ گدانی میں ناکارہ بحری جہازوں کے قبرستان سے لے کر 300 فٹ بلند چندر گپ کے مٹی کے آتش فشاں، 1,650 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہنگول نیشنل پارک، اور سُپٹ بندر کا نایاب ساحل جہاں رات کو نیلی روشنائیاں (بائیو لیومینسینس) چمکتی ہیں، اس سفر کا اہم حصہ ہیں۔ یہ تحریر پاکستان کے اس حسین مگر کم معروف ساحلی منظرنامے کی عکاسی کرتی ہے۔

Yellow and purple alpine wildflowers blooming on the rocky shoreline of Karomber Lake with snow-capped Hindukush mountain peaks reflecting in pristine blue water.

وادیِ بروغل کی کرومبر جھیل: ہندوکش کے آغوش میں واقع پاکستان کا نایاب قدرتی شاہکار

پاکستان کے دور افتادہ شمالی علاقے چترال کی وادیِ بروغل میں واقع کرومبر جھیل سطحِ سمندر سے 4,300 میٹر کی بلندی پر موجود قدرتی خوبصورتی کا ایک شاہکار ہے۔ خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کی سرحد پر واقع یہ جھیل دنیا کی بلند ترین متحرک جھیلوں میں شمار ہوتی ہے، لیکن یہاں تک پہنچنے کا راستہ لواری ٹنل، ماستوج، اور وادیِ یارخون سے ہوتے ہوئے دشوار گزار پتھریلی سڑکوں اور کلومیٹر طویل پیدل ٹریکنگ پر مشتمل ہے۔ وادیِ بروغل کی مقامی واخی برادری کی ثقافت، یاک کی پرورش اور شدید سردیوں سے قبل کی نقل مکانی اس خطے کو جغرافیائی کے ساتھ ساتھ معاشی اور ثقافتی لحاظ سے بھی منفرد بناتی ہے۔

مزید خبریں

سائنس اور ٹیکنالوجی

مزید خبریں
A young woman sleeping peacefully wrapped in a soft white blanket with her head resting on plush white pillows in a cozy bedroom setting.
سائنس اور ٹیکنالوجی

سوئے بغیر دماغ کو نیند کا احساس دلانا ممکن: امریکی سائنسدانوں کا چوہوں پر کامیاب تجربہ

نیند کی کمی اور بے خوابی کا عارضہ نہ صرف توجہ اور یادداشت کو متاثر کرتا ہے بلکہ دل کے امراض، ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر کا باعث بھی بنتا ہے۔ امریکی محققین نے اب ایک ایسا طریقہ دریافت کیا ہے جس کے ذریعے سوئے بغیر بھی دماغ کے مخصوص حصے کو گہری نیند کا احساس دلایا جا سکتا ہے۔ وسکونسن میڈیسن یونیورسٹی میں چوہوں پر کی گئی تحقیق کے مطابق باریک فائبر آپٹک تاروں سے روشنی کی لہریں خارج کر کے دماغی خلیوں کو اس طرح متحرک کیا گیا کہ وہ جاگتے ہوئے بھی نیند جیسی سست لہریں پیدا کرنے لگے۔ اس تجربے کے نتیجے میں کم نیند والے چوہوں کی یادداشت اور کارکردگی بالکل بیدار اور پرسکون نیند لینے والے چوہوں جیسی ریکارڈ کی گئی۔

مزید پڑھیں

صحت

مزید خبریں
A young woman sleeping peacefully wrapped in a soft white blanket with her head resting on plush white pillows in a cozy bedroom setting.
سائنس اور ٹیکنالوجی

سوئے بغیر دماغ کو نیند کا احساس دلانا ممکن: امریکی سائنسدانوں کا چوہوں پر کامیاب تجربہ

نیند کی کمی اور بے خوابی کا عارضہ نہ صرف توجہ اور یادداشت کو متاثر کرتا ہے بلکہ دل کے امراض، ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر کا باعث بھی بنتا ہے۔ امریکی محققین نے اب ایک ایسا طریقہ دریافت کیا ہے جس کے ذریعے سوئے بغیر بھی دماغ کے مخصوص حصے کو گہری نیند کا احساس دلایا جا سکتا ہے۔ وسکونسن میڈیسن یونیورسٹی میں چوہوں پر کی گئی تحقیق کے مطابق باریک فائبر آپٹک تاروں سے روشنی کی لہریں خارج کر کے دماغی خلیوں کو اس طرح متحرک کیا گیا کہ وہ جاگتے ہوئے بھی نیند جیسی سست لہریں پیدا کرنے لگے۔ اس تجربے کے نتیجے میں کم نیند والے چوہوں کی یادداشت اور کارکردگی بالکل بیدار اور پرسکون نیند لینے والے چوہوں جیسی ریکارڈ کی گئی۔

مزید پڑھیں

افغانستان

مزید خبریں

کالمز

مزید خبریں

جرائم

مزید خبریں

شوبز

مزید خبریں

موسم

تازہ موسمی صورتحال

اسلام آباد

Islamabad
26°C Smoky haze UV 0
لاہورSmoky haze
30°C
کراچیPartly Cloudy
27°C
پشاورSmoky haze
34°C

آج کی جھلکیاں

محسوس درجہ حرارت28°C
موسمی کیفیتSmoky haze
نمی65%
ہوا9 km/h
بارش0 mm
UV انڈیکس0