افغانستان
[DEV-FRONTEND-DATASET] Temporary category for local frontend design testing.
مزید خبریں

قوش تیپہ کینال پروجیکٹ: آمو دریا کا رخ موڑنے کا افغان منصوبہ وسطی ایشیا کے لیے نیا آبی بحران؟
افغانستان میں طالبان حکومت کی جانب سے آمو دریا پر تعمیر کی جانے والی 115 میل طویل ’قوش تیپہ کینال‘ کے منصوبے نے وسطی ایشیا میں پانی کے تحفظ اور علاقائی معیشت پر گہرے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ تقریباً 684 ملین ڈالر کی لاگت سے تیار ہونے والی یہ نہر سالانہ 10 ارب کیوبک میٹر پانی کا رخ موڑے گی، جس سے ازبکستان اور ترکمانستان میں پانی کے بہاؤ میں 15 فیصد تک کمی کا اندیشہ ہے۔ اگرچہ طالبان حکومت اسے بنجر زمینوں کی آبادکاری اور روزگار کے حصول کے لیے ناگزیر قرار دے رہی ہے، تاہم مناسب عالمی معاہدوں کی عدم موجودگی اور ناقص تعمیراتی معیارات کے سبب یہ منصوبہ خطے کی جیو پالیٹکس میں نئی کشیدگی کا سبب بن سکتا ہے۔

پاک افغان تجارت میں بڑا بریک ڈاون: 53 فیصد کمی اور سرحد پار معیشت کا خاموش بحران
اسلام آباد میں بیٹھ کر جب پاک افغان تجارت کی اعداد و شمار کی روشنی میں جائزہ لیا جاتا ہے تو یہ محض چند ارب ڈالر کا اتار چڑھاؤ دکھائی دیتا ہے، لیکن طورخم، چمن اور لنڈی کوتل کے شہریوں کے لیے یہ نفع نقصان نہیں بلکہ بقا کا مسئلہ بن چکا ہے۔ مالی سال 2025-26 کے ابتدائی چھ ماہ میں دوطرفہ تجارت 53 فیصد کم ہو کر 594 ملین ڈالر رہ گئی ہے، جبکہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا حجم تاریخی سطح تک گر چکا ہے۔ اس تالہ بندی کے اثرات صرف سرحد تک محدود نہیں رہے بلکہ پنجاب کے کاشتکاروں سے لے کر چھوٹے کاروباریوں تک کی زندگیوں کو بری طرح متاثر کر چکے ہیں۔

پاکستان افغان سرحد پر لگی باڑ: کٹھن راستوں اور بندشوں میں پسے کوچی خانہ بدوشوں کی داستان
پاکستان اور افغانستان کے درمیان صدیوں سے موسموں کی تبدیلی کے ساتھ ہجرت کرنے والے لاکھوں کوچی خانہ بدوش سرحدی باڑ اور انتظامی سخت یوں کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ سرحد پار کرنے کی قانونی اجازت نہ ملنے کے باعث انہیں انجان اور انتہائی دشوار گزار پہاڑی راستوں سے گزرنا پڑ رہا ہے، جس سے ان کے مال مویشی ہلاک ہو رہے ہیں اور سفر کی تکالیف میں اضافہ ہو چکا ہے۔ پاکستانی شناختی کارڈز رکھنے کے باوجود اپنے آباؤ اجداد کی چراگاہوں اور سرمائی ٹھکانوں تک پہنچنے میں ناکامی نے اس قدیم قبائلی زندگی اور ان کے ذریعہ معاش کو گہرے بحران سے دوچار کر دیا ہے۔

تار و پود میں الجھی جنگی تاریخ: افغان 'وار رگز' کی کہانی اور عالمی تنازعات
افغانستان کے شمالی دیہات اور پناہ گزین کیمپوں میں ہاتھوں سے بنے قالین جہاں اپنی پائیداری اور دستکاری کے لیے مشہور ہیں، وہیں پچھلی چند دہائیوں کے دوران 'وار رگز' یا جنگی قالینوں کا ایک بالکل مختلف سلسلہ سامنے آیا ہے۔ افغان خواتین روایتی پھول بوٹوں کی جگہ بندوقوں، ٹینکوں، 9/11 کے واقعات اور امریکی و طالبان کے ادوار کی تصویریں قالینوں میں بن رہی ہیں۔ یہ قالین جہاں خطے کے بحرانوں کی ایک بصری دستاویز سمجھے جاتے ہیں، وہیں ان پر عالمی سطح پر یہ بحث بھی جاری ہے کہ آیا یہ جنگی المیوں کی تجارت ہے یا عام بنکروں کے صدمات کا اظہار۔

کابل پر اقتدار کے پانچ سال: عسکری فتح سے حکمرانی کے امتحان تک
افغانستان میں طالبان کی حکومت کو پانچ سال مکمل ہونے پر ایک طرف فتح کے جشن اور پریڈز کا اہتمام کیا گیا ہے، تو دوسری جانب عام شہریوں کی زندگیوں میں بڑھتی معاشی و سماجی مشکلات نئی بحث کو جنم دے رہی ہیں۔ جنگ میں کمی کے باوجود خواتین پر سخت پابندیوں، تعلیمی نظام کے زوال اور معاشی تنہائی نے ملک کے مستقبل پر گہرے سوالات اٹھا دیے ہیں۔

دوستانہ تعلقات سے 'کھلی جنگ' تک: پاک افغان بارڈر پر اسٹریٹجک ناطہ کیسے ٹوٹا؟
پاکستان اور افغان طالبان کے تعلقات ماضی کی اسٹریٹجک قربت سے نکل کر ایک شدید سیکیورٹی اور سفارتی بحران میں داخل ہو چکے ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان (TTP) کے افغان سرزمین سے ہونے والے مسلسل حملے، باجوڑ کا حالیہ واقعہ اور سرحدی بندشیں اس بگاڑ کی بنیادی وجہ ہیں۔ اگرچہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان عسکری طاقت میں واضح فرق ہے، لیکن دشوار گزار جغرافیہ اور غیر روایتی جنگ نے معاملے کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ دونوں ممالک کے لیے اب پرانے تعلقات کے بجائے سخت ریاستی مفادات کی بنیاد پر نئے قواعد طے کرنا ناگزیر ہو گیا ہے۔

