افغانستان کے شمالی دیہات، مزارِ شریف کے قصبوں اور ماضی میں سرحد پار پاکستان کے پناہ گزین کیمپوں میں تیار ہونے والے قالین صرف گھروں کی آرائش کا سامان نہیں بلکہ اس خطے کی تاریخ اور لوک داستانوں کا بصرہ اور تحریر ہیں۔ افغان معاشرے میں قالین بافی کی روایت صدیوں پرانی ہے، جہاں خواتین نسل در نسل یہ فن ایک دوسرے کو منتقل کرتی آئی ہیں۔ تاہم، پچھلی سات دہائیوں کے مسلسل بحران، جنگوں اور غیر ملکی مداخلت نے اس روایتی فن کو ایک مختلف اور انوکھے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے، جسے دنیا 'وار رگز' یا 'جنگی قالین' کے نام سے جانتی ہے۔

روایتی طور پر افغان قالینوں میں ترکمن اور بلوچی طرزِ ساخت بہت معروف رہی ہے۔ ترکمن قالین اپنے گہرے سرخ رنگوں اور ہندسی ڈیزائنوں کے لیے پہچانے جاتے ہیں، جبکہ بلوچی قالین نسبتاً چھوٹے اور تاریک رنگوں جیسے نیلے، بھورے اور سیاہ پر مشتمل ہوتے ہیں جو زیادہ تر ذاتی یا قبیلے کے استعمال کے لیے بنائے جاتے تھے۔ ان قالینوں میں عام طور پر قدرتی جڑی بوٹیوں، پودوں اور حشرات سے تیار کردہ رنگوں سے رنگی ہوئی اون کا استعمال ہوتا ہے، جبکہ بعض فاخرہ ٹکڑوں کے لیے ریشم کا دھاگا بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

روایتی نمونوں کی جگہ ہتھیار اور جیٹ طیارے

جنگ اور سیاسی تبدیلیوں نے جب افغان عوام کی روزمرہ زندگی کو متاثر کیا تو اس کا عکس ان کے قالینوں کے ڈیزائن پر بھی نظر آنے لگا۔ پچھلی چند دہائیوں کے دوران سامنے آنے والے جنگی قالینوں میں 1970 کے عشرے کی سوویت مداخلت، 9/11 کے واقعات، 2001 کا امریکی قبضہ اور 2021 میں طالبان کا دوبارہ اقتدار میں آنا جیسے اہم تاریخی واقعات کو قالینوں کا حصہ بنایا گیا ہے۔

ان قالینوں کو تیار کرنے والی زیادہ تر دیہی خواتین اور ترکمن بنکرز کے لیے یہ ڈیزائن کسی روایتی سیاسی بیان سے زیادہ اپنے گرد و پیش کی عکاسی ہیں۔ انہوں نے روایتی نقش و نگار کے بجائے اے کے 47 رائفلوں، فوجی گاڑیوں، جیٹ طیاروں اور قومی سرحدوں کے نقشوں کو قالین کے ڈیزائن میں شامل کر لیا۔ بظاہر خوفناک نظر آنے والے یہ عسکری مناظر اب قالینوں کے بارڈر اور دائروں میں اس طرح باقاعدگی سے دوہرائے جاتے ہیں جیسے وہ کوئی روایتی آرائشی نمونہ ہوں۔

تجربہ، صدمہ یا کاروبار؟

ان جنگی قالینوں نے دنیا بھر میں ایک طرف شائقین کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے تو دوسری جانب ایک گہرا تنازع بھی کھڑا کر دیا ہے۔ انٹرنیٹ پر ان قالینوں کی تصاویر اور ویڈیوز اکثر وائرل ہوتی ہیں، جس پر رائے عامہ دو حصوں میں تقسیم دکھائی دیتی ہے۔ کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ یہ قالین جنگ، موت اور انسانی المیوں کا تجارتی استعمال ہیں، جبکہ دیگر اسے ان خواتین کے دل پر گزرنے والے صدمات اور تاریخی حقائق کی ایک منفرد دستاویزی عکاسی سمجھتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ قالین کے دکانداروں کے مطابق، 9/11 کے مناظر والے قالینوں کے سب سے زیادہ خریدار خود امریکی شہری ہوتے ہیں۔ معاشی پابندیوں اور سخت حالات کے باوجود یہ قالین افغان معیشت کے لیے ایک سہارا بھی ثابت ہو رہے ہیں، کیونکہ دنیا میں ہاتھ سے بنے قالینوں میں یہ نسبتاً مناسب قیمت پر دستیاب ہیں اور براہِ راست افغان خواتین اور کارخانوں کو معاشی امداد فراہم کرتے ہیں۔

افغانستان میں قالین بافی کا بنیادی مرکز مزارِ شریف کو سمجھا جاتا ہے، جہاں 'افغان ترکمن رگز' جیسی دکانیں موجود ہیں جن کے مالکان ماضی میں سوویت یونین کے خلاف لڑنے والے مجاہدین رہ چکے ہیں اور اب ترکمن روایت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ یہ جنگی قالین اب صرف کپڑے کا ایک ٹکڑا نہیں رہے، بلکہ تاریخ کے وہ بنے ہوئے صفحات بن چکے ہیں جن میں ایک قوم نے اپنے گرد بکھرے بارود کو دھاگوں میں پرو دیا ہے۔