پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی کوششوں کا آغاز دو دہائیاں قبل اس وقت ہوا جب یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کو ختم کر کے ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) قائم کیا گیا۔ اس بنیادی تبدیلی کا مقصد اعلیٰ تعلیم تک عوام کی رسائی بڑھانا، تدریس کا معیار بلند کرنا اور تعلیمی تحقیق کو ملکی معاشی ضروریات سے جوڑنا تھا۔ اس منصوبے کے تحت گزشتہ پچیس سالوں کے دوران اعلیٰ تعلیم کے پھیلاؤ میں بے مثال پیش رفت ہوئی، مگر جیسے جیسے اداروں کا دائرہ وسیع ہوتا گیا، معیار، روزگار سے عدم مطابقت اور انتظامی خودمختاری کے درپیش مسائل مزید شدید ہوتے گئے۔

عددی توسّع اور معیار کا بڑھتا ہوا خلا

اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو پاکستان میں جامعات کی تعداد 60 کے قریب سے بڑھ کر 250 سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ ڈگری پروگرامز میں زیرِ تعلیم طلبہ کی تعداد دو لاکھ سے چھلانگ لگا کر 25 لاکھ تک جا پہنچی ہے۔ یہی صورت حال پی ایچ ڈی کی ڈگریوں میں بھی نظر آتی ہے؛ قیامِ پاکستان کے ابتدائی پچاس سالوں میں جہاں محض 3,300 کے قریب پی ایچ ڈی ڈگریاں جاری کی گئی تھیں، وہاں صرف گزشتہ ایک دہائی میں 32 ہزار سے زائد افراد نے ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔

اس تیز رفتار توسیع کا منفی پہلو یہ رہا کہ اداروں کی تعداد کے ساتھ مالی اور انتظامی وسائل اس تناسب سے فراہم نہیں کیے جا سکے۔ مثال کے طور پر مالی سال 2018 میں تقریباً 100 جامعات کے لیے ایچ ای سی کا بجٹ 63 ارب روپے رکھا گیا تھا، جبکہ مالی سال 2025 میں بھی بجٹ کی رقم اسی سطح پر برقرار رہی جبکہ جامعات کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہو چکا تھا۔ مالی دباؤ کے باعث تحقیقی معیار اور اساتذہ کی تربیت کا نظام متاثر ہوا۔ اساتذہ کے لیے محض مقالوں کی تعداد کو ترقی کا معیار بنانے سے ایک ایسی عددی دوڑ شروع ہوئی جس نے تحقیق کے عملی فائدے کے بجائے محض پیپرز کی گنتی کو اہم بنا دیا۔

مارکیٹ کی مانگ، STEM تعلیم اور بے روزگاری

اعلیٰ تعلیم کے موجودہ ماڈل کی سب سے بڑی کمزوری ڈگری اور روزگار کی مارکیٹ کے درمیان بڑھتا ہوا خلیج ہے۔ پاکستان میں ہر سال تقریباً ساڑھے چار لاکھ گریجویٹس یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہوتے ہیں، مگر ان میں سے محض ایک تہائی کا تعلق سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (STEM) سے ہوتا ہے۔ باقی اکثریت سماجی علوم اور دیگر مضامین میں ڈگریاں حاصل کرتی ہے، جس کے نتیجے میں انڈسٹری کی فنی اور ڈیجیٹل ضروریات پوری نہیں ہو پاتیں۔

عالمی سطح پر معاشی دوڑ میں شامل ممالک کے مقابلے میں یہ تناسب خاصا مختلف ہے۔ چین میں سالانہ STEM گریجویٹس کی تعداد 30 لاکھ اور امریکہ میں تقریباً ساڑھے آٹھ لاکھ ہے، جو ان ممالک کی صنعتی پیش رفت کی بنیادی وجہ ہے۔ پاکستان میں یہ عدم توازن اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ مختلف معاشی تجزیوں کے مطابق گریجویٹ بے روزگاری کی شرح 23 سے 30 فیصد کے درمیان پہنچ چکی ہے۔ مقامی صنعتیں مسلسل یہ شکایت کرتی نظر آتی ہیں کہ ڈگری ہولڈرز کے پاس عملی کام، تکنیکی مہارت اور درکار استعداد کی شدید کمی ہے۔

گورننس کی پیچیدگیاں اور جامعات کی نئی درجہ بندی

18ویں آئینی ترمیم کے بعد تعلیمی نظام کی گورننس میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہوئیں۔ وفاقی ایچ ای سی کے علاوہ صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشن، صوبائی محکمہ جات اور چانسلر دفاتر کے درمیان اختیارات کی تقسیم واضح نہ ہونے سے فیصلوں میں تاخیر اور انتظامی تصادم معمول بن گیا۔ کئی صوبوں میں وائس چانسلرز کی تقرریاں طویل عرصے تک التوا کا شکار رہنے سے اداروں کا انتظامی تسلسل متاثر ہوا۔ علاوہ ازیں، وائس چانسلر کے انتخاب میں صرف شائع شدہ مقالوں کو دیکھنا کافی ثابت نہیں ہو رہا، بلکہ ادارے کو چلانے کے لیے انتظامی صلاحیت، مالیاتی نظم اور انڈسٹری سے روابط قائم کرنے کی قابلیت بھی لازمی عنصر ہے۔

اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے تمام جامعات کو ایک ہی ماڈل پر چلانے کے بجائے ان کی واضح درجہ بندی ضروری دکھائی دیتی ہے۔ ایک گروہ محض بنیادی 'تدریسی جامعات' پر مشتمل ہو جو دور دراز علاقوں میں کم لاگت پر اعلیٰ تعلیم اور اسکالرشپس فراہم کرے؛ دوسرا ماڈل 'تدریسی و عملی تحقیقی جامعات' کا ہو جو مقامی انڈسٹری کے مسائل حل کرے، جیسے سیالکوٹ کی یونیورسٹی کو جراحی سامان، کھیلوں اور چمڑے کی مقامی صنعت سے جوڑا جا سکتا ہے؛ اور تیسرا گروہ 'تحقیقی جامعات' کا ہو جو مصنوعی ذہانت اور بایوٹیکنالوجی جیسے جدید شعبوں میں نجی شعبے کے ساتھ مل کر ٹیکنالوجی زونز اور سینٹرز آف ایکسی لینس قائم کرے۔

اعلیٰ تعلیم کو قومی معیشت کا محرک بنانے کے لیے فنڈنگ کو کارکردگی سے مشروط کرنا ہوگا، تاکہ جو ادارے واقعی معیاری تعلیم، جدید پیٹنٹس اور صنعتی حل پیش کر رہے ہیں انہیں ان کے ہدف کے مطابق وسائل مل سکیں۔ محض عمارتیں کھڑی کرنے اور ڈگریاں بانٹنے کا سلسلہ اگر یونہی جاری رہا تو یونیورسٹیوں سے نکلنے والی فوج معاشی ترقی کے بجائے بے روزگاری کے اعداد و شمار میں ہی اضافہ کرتی رہے گی۔