راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید کراچی کے رہائشی فرقان (فرضی نام) کا کیس اس قانونی اور سماجی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے جس میں مبینہ پیغامات یا ناچاقی کی بنیاد پر توہینِ مذہب کے مقدمات کا اندراج ہوتا ہے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے درج کیے گئے اس مقدمے کی تفتیش اور کارروائی کے دوران ملزم کو دارالحکومت منتقل کیا گیا۔ حقوقِ انسانی کے کارکنوں کے مطابق جیلوں میں ایسے درجنوں افراد زیرِ سماعت مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں جن پر اسی نوعیت کے الزامات عائد ہیں۔ جڑانوالہ جیسے ناخوشگوار واقعات کے بعد یہ خدشات مزید گہرے ہوئے ہیں کہ اشتعال انگیز اعلان بازی کے ذریعے بننے والے ہجوم اور ذاتی نوعیت کے تنازعات کو مذہبی رنگ دے کر املاک کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔

سینٹر فار سوشل جسٹس (CSJ) کے ڈیٹا کے مطابق 1980ء کی دہائی کے بعد سے ملک بھر میں توہینِ مذہب کے الزامات کے تحت درج ہونے والے مقدمات کا ایک طویل ریکارڈ موجود ہے۔ 1997ء میں شانتی نگر، 2005ء میں سانگلہ ہل، 2009ء میں گوجرہ اور 2013ء میں لاہور کے بادامی باغ جیسے واقعات میں اکثر معاشی، زمین کے تنازعات یا باہمی تلخ کلامی کے بعد الزامات کے ذریعے ہجوم اکٹھا کرنے کا رجحان دیکھا گیا۔ سی ایس جے کے ڈائریکٹر پیٹر جیکب کے مطابق سال 2023ء تک 16 ہزار سے زائد افراد پر توہین کے الزامات سامنے آئے، جن میں سے 85 فیصد مسلمان، 9 فیصد احمدی اور 4.4 فیصد مسیحی شامل تھے۔

سیاسی ادوار میں اعداد و شمار کا اتار چڑھاؤ

مختلف سیاسی و فوجی ادوار میں ان مقدمات کے اندراج کی تعداد کا جائزہ لیا جائے تو 1987ء سے 1988ء کے درمیان جنرل ضیاء کے آخری دور میں 31 مقدمات ریکارڈ ہوئے۔ اس کے بعد پی پی پی کے پہلے دور (1989-1990) میں 16، ن لیگ کے پہلے دور (1991-1993) میں 98، پی پی پی کے دوسرے دور (1994-1996) میں 76 اور ن لیگ کے دوسرے دور (1997-1999) میں 195 مقدمات درج ہوئے۔

جنرل پرویز مشرف کے دور (2000-2007) میں یہ تعداد 503 تک پہنچ گئی۔ جمہوری حکومتوں کی آمد کے بعد پی پی پی (2008-2013) کے دور میں 441 اور ن لیگ (2014-2018) کے دور میں 261 مقدمات سامنے آئے۔ تحریک انصاف کے تین ساڑھے تین سالہ دور (2018-2022) میں 499 مقدمات رپورٹ کیے گئے، جو مشرف دور کے بعد کسی بھی سیاسی حکومت کا بڑا عدد ہے۔

انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان (HRCP) کے اسد اقبال بٹ اور مختلف سیاسی عمل عملداروں کا ماننا ہے کہ گزشتہ چند سالوں میں مذہبی نعروں کو سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کرنے کا رجحان بڑھا ہے۔ پی ٹی آئی اور ن لیگ کی قیادت ایک دوسرے پر مذہبی کارڈ کھیلنے اور بین الاقوامی قانون دانوں کی خدمات سے متعلق الزامات عائد کرتی رہی ہے۔ دوسری جانب تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے رہنما عامر مفتی قاسم فخری کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کا مؤقف قانون کے تحت ناموسِ رسالت کی پاسداری کا ہے، تاہم جڑانوالہ جیسے پرتشدد واقعات میں اپنے کارکنوں کے ملوث ہونے کے الزامات کی انہوں نے نفی کی۔

قانون سازی میں سختی اور پارلیمانی بحث

اسی تناظر میں اگست 2023ء میں سینیٹ نے مجموعہ تعزیراتِ پاکستان میں ترمیم کا بل پاس کیا جس کے تحت مقدس شخصیات، صحابہ کرام اور اہل بیت کی توہین پر سزا 3 سال سے بڑھا کر کم از کم 10 سال قید کر دی گئی۔ قومی اسمبلی سے جنوری میں محض 15 ارکان کی موجودگی میں منظور ہونے والے اس بل کے مقاصد میں آن لائن اور سوشل میڈیا پر توہین کے واقعات کی روک تھام اور خودساختہ انصاف (ویجیلنٹزم) کا خاتمہ بتایا گیا تھا۔

تاہم، اس قانون سازی پر ایوان کے اندر اور باہر شدید تحفظات بھی سامنے آئے۔ سابق وزیرِ برائے انسانی حقوق ریاض حسین پیرزادہ نے وزیراعظم کو خط لکھ کر نشاندہی کی کہ پارلیمانی قواعد کو پورا کیے بغیر ایسی ترمیم سے اقلیتوں میں خدشات پیدا ہوتے ہیں۔ سینیٹ میں ووٹنگ کے وقت پی پی پی کی سینیٹر شیری رحمان نے بل کو قائمہ کمیٹی کو بھیجنے کی تجویز پیش کی تاکہ جلد بازی کے بجائے باریک بینی سے جائزہ لیا جا سکے، تاہم سینیٹر حافظ عبدالکریم، مشتاق احمد اور سینیٹر طلحہ محمود کی حمایت سے بل کثرتِ رائے سے منظور ہو گیا۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ محض سزائیں بڑھانے سے نظام میں موجود تکنیکی اور تفتیشی نقائص دور نہیں ہوں گے جب تک تفتیش کے عمل کو سیاسی اثر و رسوخ اور دباؤ سے یکسر پاک نہ بنایا جائے۔