پاکستان کی قومی سیاست اور مذہبی منظر نامے میں توہینِ مذہب سے متعلق قوانین کا معاملہ وقتاً فوقتاً شدید بحث کا باعث بنتا رہا ہے۔ نومبر 2017ء میں الیکشن ایکٹ کے نامزدگی فارم میں ختمِ نبوت حلف نامے کی عبارت میں تبدیلی کے بعد پیدا ہونے والا سیاسی بحران ہو، اس وقت کے وزیرِ داخلہ احسن اقبال کی جانب سے فتویٰ سازی پر تنبیہ، زاہد حامد کا استعفیٰ، یا پھر فیض آباد کے مقام پر خادم حسین رضوی کی قیادت میں تحریکِ لبیک کا ہفتوں طویل دھرنا—ان تمام واقعات نے یہ سوال دوبارہ نمایا کر دیا کہ کس طرح مذہبی قوانین کے ارد گرد سیاست دان اور مذہبی گروہ ایک دوسرے کے سامنے آتے ہیں۔ ان سیاسی و سماجی تحرکات کی گہرائی کو سمجھنے کے لیے اس قانون سازی کے سو سے زائد سال پر محیط ارتقائی سفر کو دیکھنا ضروری ہے۔
برطانوی ہند میں 1860ء میں نافذ کیے جانے والے تعزیراتِ ہند (آئی پی سی) میں مذہب سے متعلق جرائم کے لیے ابتدائی شقیں شامل کی گئی تھیں۔ اس قانون سازی کا بنیادی مقصد مختلف مذہبی برادریوں کے درمیان کشیدگی کو روکنا اور عبادت گاہوں یا مذہبی اجتماعات کی حرمت کو برقرار رکھنا تھا۔ اس وقت تعزیراتِ ہند کی شق 295 سے 298 تک کے احکامات کسی کی عبادت گاہ کو نقصان پہنچانے یا کسی کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے پر سزائیں تجویز کرتے تھے۔
1920ء کی دہائی کے واقعات اور شق 295-A کا اضافہ
1920ء کی دہائی میں "رنگیلا رسول" اور "رسالہ ورتُمان" جیسے متنازع کتابچوں کی اشاعت کے بعد پنجاب میں شدید مذہبی تناؤ پیدا ہوا۔ کتابچے کے ناشر راجپال کے عدالت سے باری ہونے اور 1929ء میں غازی علم الدین کے ہاتھوں اس کے قتل کے واقعے نے نوآبادیاتی حکومت کو مزید سخت اقدامات پر مجبور کیا۔ چنانچہ 1927ء میں تعزیراتِ ہند میں شق 295-A کا اضافہ کیا گیا، جس کے تحت کسی بھی برادری کے مذہبی جذبات کو دانستہ اور بدنیتی کے ساتھ مجروح کرنے کو جرم قرار دیا گیا۔
قانون ساز اسمبلی میں اس ترمیمی بل پر مفصل بحث ہوئی تھی۔ اس وقت کے مسلم اراکین، جن میں سر عبدالحئی، میاں سر محمد شاہ نواز، مولوی محمد یعقوب اور ٹی اے کے شیروانی شامل تھے، نے اس قانون کی حد سے زیادہ وسعت اور اس کے ممکنہ سوءِ استعمال پر خدشات کا اظہار کیا تھا اور اس بات پر زور دیا تھا کہ تنقید اور علمی بحث کے حق کو تحفظ حاصل ہونا چاہیے۔
ضیاء الحق کے دور کی ترمیمات اور 1986ء کا قانون
پاکستان کے قیام کے بعد پہلے تین دہائیوں کے دوران توہینِ مذہب کے مقدمات کی تعداد انتہائی کم رہی اور 1986ء سے قبل ایسے بمشکل 10 مقدمات سامنے آئے تھے۔ تاہم جنرل ضیاء الحق کے دورِ حکومت میں اسلامائزیشن کی پالیسی کے تحت ان قوانین کا دائرہ کار تیزی سے وسیع کیا گیا۔ 1980ء میں صدارتی آرڈیننس کے ذریعے تعزیراتِ پاکستان میں شق 298-A شامل کی گئی، جس کا مقصد ازواجِ مطہرات، اہل بیت اور صحابہ کرام کی توہین کو قابلِ تعزیر بنانا تھا۔
اس کے دو سال بعد، 1982ء میں شق 295-B متعارف کروائی گئی، جس کے تحت قرآن پاک کی بے حرمتی پر عمر قید کی سزا مقرر ہوئی۔ اس قانون کے پیچھے میڈیا میں چھپنے والی ایسی خبروں کا ہاتھ تھا جن میں ردی یا کوڑے میں قرآن کے اوراق ملنے کا ذکر ہوتا تھا۔ 1984ء میں قادیانیوں اور احمدیوں کی مذہبی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے لیے شق 298-B اور 298-C کا اضافہ کیا گیا۔
توہینِ مذہب کے فریم ورک میں سب سے بڑی تبدیلی 1986ء میں آئی جب قومی اسمبلی میں ایک نجی بل کے ذریعے تعزیراتِ پاکستان میں شق 295-C شامل کی گئی۔ اس وقت کی رکنِ اسمبلی نثار فاطمہ کی پیش رفت اور مذہبی حلقوں کی جانب سے دباؤ کے بعد، اس وقت کے وزیرِ مملکت برائے قانون و پارلیمانی امور میر نواز خان مروت نے شق میں سزائے موت کا آپشن شامل کرنے کی منظوری دی۔ اس نجی بل کے تحت ابتدا میں سزائے موت یا عمر قید کی متبادل سزا تجویز کی گئی تھی۔
وفاقی شرعی عدالت کا 1990ء کا فیصلہ
1990ء میں محمد اسماعیل قریشی کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر وفاقی شرعی عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ شق 295-C کے تحت پیغمبرِ اسلام کی توہین کی واحد سزا سزائے موت ہے اور اس میں عمر قید کا متبادل غیر اسلامی ہے۔ عدالت نے حکومت کو ہدایت کی کہ وہ قانون میں ترمیم کرے، اور حکومت کی جانب سے اپریل 1991ء کی مقررہ مدت تک اس فیصلے کے خلاف اپیل نہ کیے جانے کی وجہ سے 295-C کے تحت سزائے موت لازمی سزا بن گئی۔
1986ء کے بعد سے ملک میں توہینِ مذہب کے الزام کے تحت درج ہونے والے مقدمات میں سینکڑوں گنا اضافہ دیکھا گیا اور 2017ء تک ایسے 1,500 سے زائد کیسز سامنے آئے۔ قانونی اور دینی تاریخ دان اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ روایتی فقہاء اور مفتیانِ کرام اپنے فتاویٰ کے اختتام پر انسان کی خطا پذیری کو تسلیم کرتے ہوئے ہمیشہ "واللہ اعلم" (اللہ ہی بہتر جانتا ہے) رقم کرتے تھے۔ چونکہ تعزیراتِ پاکستان کی شق 295-C انسانوں کا بنایا ہوا ایک قانونی اور تفتیشی فریم ورک ہے، اس لیے انصاف کی فراہمی اور غلط الزامات کے تدارک کے لیے اس کے اطلاق کا سنجیدہ اور غیر جانبدارانہ جائزہ ہمیشہ اہم تصور کیا جاتا ہے۔





تبصرے