[DEV-FRONTEND-DATASET] Temporary Pakistan subcategory for local frontend design testing.
Sep 22, 2026ڈیجیٹل محاذ پر عسکریت پسندی: پاکستان میں آن لائن شدت پسندی کا پھیلاؤ، جدید ہتھکنڈے اور سدِ باب

لاہور کے علاقے شاہدرہ ٹاؤن میں پولیس نے 'ہنی ٹریپ' کے ذریعے شہریوں کو اغوا، بلیک میل اور بھتہ خوری میں ملوث ایک منظم گینگ کا پردہ چاک کر دیا ہے، جس کا سرغنہ خود ایک پولیس اہلکار منظر نکلے۔ اس گروہ نے شیخوپورہ کے ایک محنت کش دودھ فروش منظور احمد کو لڑکی کے ذریعے جھانسہ دے کر بلایا، تشدد کا نشانہ بنایا اور اس سے گاہکوں سے اکٹھی کی گئی 1 لاکھ 8 ہزار روپے کی رقم چھین لی۔ ایس پی سٹی ڈویژن بلال احمد کی ہدایت پر انکوائری کے بعد ملزم نائیک محرر کو گرفتار کر کے مقدمہ انویسٹی گیشن کے سپرد کر دیا گیا ہے جبکہ دیگر ملزمان کی ضمانت ہو چکی ہے۔

مظفر گڑھ میں ایک فرضی گیمنگ کلب کی آڑ میں بچوں کے جنسی استحصال اور ان کی ویڈیوز ڈارک ویب پر فروخت کرنے والے بین الاقوامی نیٹ ورک کو سیکیورٹی اداروں نے ناکام بنا دیا ہے۔ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے امریکی ادارے این سی ایم ای سی کی فراہم کردہ معلومات پر پانچ گھنٹے طویل آپریشن کے بعد 10 بچوں کو بازیاب کروا کر دو ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ جرمن شہری سمیت چار دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے انٹرپول سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔ اس نیٹ ورک نے 6 سے 10 سال کی عمر کے نادار بچوں کو رقم کا لالچ دے کر بلیک میل کیا۔ واقعے کے بعد پنجاب کابینہ نے پہلی باقاعدہ 'چائلڈ پروٹیکشن پالیسی' کی منظوری دے دی ہے۔

پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے سرحدی کچے کے علاقوں میں سرگرم ڈاکوؤں نے اب اپنے روایتی طریقہ واردات کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کو بھی ہتھیار بنا لیا ہے۔ 10 ملین روپے کے انعام اور 28 مقدمات میں مطلوب شاہد لنڈ بلوچ جیسے مجرمان ٹک ٹاک، فیس بک اور یوٹیوب پر خود کو مظلوم اور ہیرو کے طور پر پیش کر کے ہزاروں فالوورز سمیٹ رہے ہیں۔ دوسری جانب ہنی ٹریپ، ڈکیتی اور تاوان کے لیے اغوا جیسے جرائم نے مقامی آبادی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ سیکیورٹی اداروں کے لیے دشوار گزار جغرافیہ کے ساتھ ساتھ ان ڈاکوؤں کا ڈیجیٹل وجود ایک نیا اور پیچیدہ چیلنج بن چکا ہے۔

پاکستان میں جرائم اور عسکریت پسندی کا ملاپ امن و امان کی صورتحال کو انتہائی پیچیدہ بنا چکا ہے۔ جہاں بڑے شہروں میں خیابانی جرائم، منشیات اور آن لائن فراڈ کا راج ہے، وہیں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں تاوان کے لیے اغوا جبکہ پنجاب اور سندھ کے کچے کے علاقوں میں منظم مجرمانہ گروہ چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ 2026 میں پنجاب میں عادی مجرموں کے خلاف پیش کیے جانے والے مجوزہ قانون نے سخت انتظامی اقدامات اور شہری آزادیوں کے توازن پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ماہرین کے مطابق وقتی پولیس آپریشنز کے بجائے نوآبادیاتی طرزِ پولیسنگ کے خاتمے، سیاسی مداخلت کی روک تھام اور بااختیار عدالتی و انتظامی اصلاحات ہی سے عام شہری کو تحفظ کا احساس دلایا جا سکتا ہے۔

