امریکی خلائی ادارے ناسا نے زمین کی فضا اور سمندری نظام کا مطالعہ کرنے والے اپنے جدید سیٹلائٹ 'پیس' (PACE) کے سائنسی ڈیٹا کو مزید بہتر اور معتبر بنانے کے لیے ایک عالمی مہم کا آغاز کیا ہے، جس میں عام لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے سمارٹ فونز کا استعمال کرتے ہوئے آسمان پر موجود بادلوں کی تصاویر بنا کر بھیجیں۔
یہ سیٹلائٹ، جس کا مکمل نام ’پلینکٹن، ایروسول، کلاؤڈ، اوشن ایکو سسٹم‘ (PACE) ہے، ہر 98 منٹ بعد زمین کا ایک چکر مکمل کرتا ہے۔ خلا میں اپنے سفر کے دوران یہ فضا میں موجود باریک ذرات اور بادلوں کے ذریعے سورج کی روشنی کے جذب اور منعکس ہونے کا باریک بینی سے مشاہدہ کرتا ہے۔
بادلوں کا زمینی مشاہدہ کیوں ضروری ہے؟
خلا سے زمین کی پائیدار نگرانی کے باوجود سائنس دانوں کو زمینی سطح سے کیے جانے والے براہِ راست مشاہدات کی شدید ضرورت ہے۔ پیس مشن کے ماحولیاتی شعبے کے سربراہ ڈاکٹر اینڈریو سیئر کا کہنا ہے کہ شہریوں کی جانب سے لی گئی تصاویر محققین کو خلا سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو زیادہ درست انداز میں سمجھنے میں مدد فراہم کریں گی۔
اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پیس سیٹلائٹ کی کیمرہ ٹیکنالوجی میں ہر ایک پکسل زمین کے تقریباً 1.2 کلومیٹر (0.75 میل) رقبے کی نمائندگی کرتا ہے۔ اتنے بڑے رقبے کی وجہ سے ڈیٹا میں بعض باریک تفصیلات واضح نہیں ہو پاتیں۔ ڈاکٹر سیئر کے مطابق، محققین یہ طے کرنا چاہتے ہیں کہ سیٹلائٹ کی تصویر میں ظاہر ہونے والا ہر پکسل بادل پر مشتمل ہے یا نہیں، اور اگر بادل موجود ہیں تو ان کی ساخت اور قسم کیا ہے۔ اگر بادل نہ ہوں تو زمین اور فضا کی دیگر خصوصیات کا اندازہ لگانا ضروری ہوتا ہے، اور یہی خلا پر کرنے کے لیے زمین پر موجود شہریوں کی مدد درکار ہے۔
عام لوگ اس مہم میں کیسے حصہ لے سکتے ہیں؟
اس سائنسی منصوبے میں شرکت کے لیے ناسا نے انتہائی سادہ طریقہ کار وضع کیا ہے۔ شہری اپنے فون میں 'گلوب آبزرور' (Globe Observer) نامی ایپ ڈاؤن لوڈ کر کے اس میں پیس سیٹلائٹ کے اپنے علاقے کے اوپر سے گزرنے کے اوقات کے لیے الرٹس سیٹ کر سکتے ہیں۔
سائنس دانوں نے ہدایت کی ہے کہ وقت کا پابند ہونا اس عمل میں سب سے اہم عنصر ہے، اس لیے شہریوں کو چاہیے کہ وہ سیٹلائٹ کے گزرنے کے مقررہ وقت سے پانچ منٹ پہلے باہر نکل کر بادلوں کے صاف مشاہدے کے لیے موزوں جگہ کا انتخاب کریں۔ وقت پورا ہونے پر ایپ کے 'کلاؤڈز' (Clouds) ٹول کو کھول کر ہدایات کے مطابق چھ مختلف سمتوں میں بادلوں کی تصاویر لینی ہوتی ہیں۔ محققین نے تاکید کی ہے کہ تصاویر صرف دن کی روشنی میں لی جائیں کیونکہ رات کے وقت لی گئی تصاویر ڈیٹا پروسیسنگ میں کارآمد نہیں ہوتیں۔ یہ مہم 15 اکتوبر تک جاری رہے گی، جس کے دوران شہریوں کے پاس اس عالمی تحقیق کا حصہ بننے کے لیے پورا ایک ماہ کا وقت موجود ہے۔
مستقبل کی موسمی پیشگوئیوں پر اثرات
پیس سیٹلائٹ کو 2024 میں زمین سے تقریباً 676 کلومیٹر (420 میل) کی بلندی پر خلا میں بھیجا گیا تھا تاکہ کرہ ارض کے ماحول اور سمندری حیات کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے۔ مشن کے آغاز پر منصوبے کے سینئر سائنس دان جیریمی ورڈل نے کہا تھا کہ یہ مشن ہماری زمین کا ایک ایسا بے مثال منظر پیش کرے گا جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کو امید ہے کہ خلا سے حاصل کردہ ڈیٹا اور شہریوں کی جانب سے بھیجی گئی زمینی تصاویر کے ملاپ سے عالمی موسمی پیشگوئیوں کا معیار نمایاں طور پر بہتر ہوگا۔ اس سے نہ صرف ساحلی علاقوں میں آنے والے سمندری طوفانوں کے دقیق وقت کا اندازہ لگانے میں مدد ملے گی بلکہ سمندروں میں پھیلنے والی زہریلی کائی (الجی) کے خدشات کی بروقت نشان دہی بھی ممکن ہو سکے گی۔





تبصرے