امریکہ کی جانب سے خلا میں ہتھیار نصب کرنے کے حالیہ انکشاف نے بین الاقوامی سطح پر تشویش کی نئی لہر پیدا کر دی ہے۔ ناقدین اس پیش رفت کو امریکہ کی جانب سے زمین کے بعد کائناتی سطح پر اپنے تسلط کو قائم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ اگرچہ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ قدم چین اور روس کی جانب سے خلائی تسلط حاصل کرنے کی جارحانہ کوششوں کے جواب میں اٹھایا گیا ہے، تاہم واشنگٹن نے اپنے اس دعوے کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کیے، نہ ہی یہ وضاحت کی ہے کہ خلا میں کس قسم کے ہتھیار بھیجے گئے ہیں۔

یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس پالیسی تسلسل کا حصہ نظر آتا ہے جس کا آغاز انہوں نے اپنے پہلے دورِ اقتدار میں خلائی فوج کی تشکیل کے اعلان سے کیا تھا، جس کے لیے 10 ہزار افراد کو تربیت دی جانی تھی۔ اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے گزشتہ ماہ انہوں نے یو ایس سپیس اکیڈمی کے قیام کے حوالے سے ایک ایگزیکٹو حکم نامے پر بھی دستخط کیے۔ اس ابہام اور عملی اقدامات نے عالمی سطح پر بالعموم اور بیجنگ و ماسکو میں بالخصوص شکوک و شبہات کو گہرا کر دیا ہے۔

1967 کا خلائی معاہدہ اور نئی عسکری دوڑ

امریکی اقدام نے 1967 کے خلائی تحفظ کے معاہدے کو پسِ پشت ڈال دیا ہے، جس کے تحت تمام دستخط کنندہ اقوام اس بات کی پابند تھیں کہ خلا کو صرف پرامن اور غیر عسکری مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ اس کا براہِ راست نتیجہ یہ نکل سکتا ہے کہ خلا میں ہتھیاروں کی ہولناک دوڑ شروع ہو جائے گی۔ چین اور روس نے اپنے ابتدائی ردِعمل میں اس پیش رفت کو انتہائی قابلِ تشویش قرار دیتے ہوئے اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خلا کو ہتھیاروں سے پاک رکھنے کے لیے کردار ادا کرے۔ تاہم، ماہرین کا ماننا ہے کہ اقوامِ متحدہ کے پاس اس عمل کو روکنے کے لیے کوئی ٹھوس یا مؤثر طریقہ کار موجود نہیں، جس کے باعث چین اور روس بھی مجبوراََ اپنی خلائی عسکری صلاحیتوں کو تیز تر کریں گے۔

معاملہ صرف چند بڑی طاقتوں تک محدود رہنے کا امکان نہیں۔ ماہرین کے مطابق برطانیہ، فرانس، جرمنی، بھارت اور پاکستان کے علاوہ مشرقِ وسطیٰ سے اسرائیل اور ایران جیسے ممالک بھی وقت کے ساتھ اس مقابلے کا حصہ بن سکتے ہیں۔ گزشتہ برس دنیا بھر کا عالمی دفاعی بجٹ 2.88 کھرب ڈالر تک پہنچ چکا تھا، اور خلا کو میدانِ جنگ بنانے کی اس نادانستہ کوشش کے بعد جنگی اخراجات میں مزید اضافے کا پورا امکان موجود ہے۔

معاشی بوجھ اور نظامِ حیات کو درپیش خطرات

دفاعی بجٹ میں اس ناگزیر اضافے کی سب سے بڑی قیمت دنیا بھر کے عام انسانوں کو چکانی پڑے گی، کیونکہ حکومتوں کو فلاحی، تعلیمی اور صحتی منصوبوں کی رقم کاٹ کر عسکری تیاریوں پر لگانا ہوگی۔ علاوہ ازیں، پاسٹ وار کنٹرول معاہدوں پر ضرب لگنے سے بین الاقوامی لاقانونیت کا راستہ کھلے گا اور باہمی تنازعات کا خطرہ مزید بڑھ جائے گا۔

اس عسکری دوڑ کے ماحولیاتی اور تکنیکی نتائج بھی انتہائی ہولناک ہو سکتے ہیں۔ دنیا میں تقریباً دو کروڑ کی مجموعی فوجی نفری عالمی ماحولیاتی آلودگی میں چار فیصد حصے کی ذمہ دار ہے، جبکہ دوسری طرف دنیا کی آٹھ ارب آبادی کے گائے کا گوشت کھانے سے پیدا ہونے والی آلودگی کا تناسب 14 فیصد بنتا ہے۔ جنگیں تیل کے بے تحاشا استعمال اور آلودگی کے باعث عالمی حدت (گلوبل وارمنگ) کو تیز کرتی ہیں۔ اگر خلا میں موجود ان نظر نہ آنے والے ہتھیاروں کے باعث طاقتوں کے درمیان کوئی تصادم ہوتا ہے تو اس سے نکلنے والا ملبہ انسانی اور حیوانی حیات کے لیے شدید خطرہ بن جائے گا۔ اس سے نہ صرف جی پی ایس (GPS) سسٹم، ایوی ایشن کا نظام اور قدرتی آفات کی پیشگی اطلاع دینے والی بنیادی سہولیات مفلوج ہو سکتی ہیں بلکہ کائنات کے روزمرہ کاروبار اور انسانی صحت پر دور رس تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

عالمی برادری اور امریکی عوام کا کردار

تکبر اور وسائل پر قبضے کی پالیسیوں کے اس ماحول میں، جیسے کہ وینزویلا اور مشرقِ وسطیٰ کے تیل پر تسلط کی کوششوں کے بعد صدر ٹرمپ کو عالمی حکمرانی کا یقین نظر آتا ہے، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری مسلسل کمزور پڑ رہی ہے۔ اس صورتِ حال میں اس مسئلے کو ہر عالمی فورم پر اٹھانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ دنیا بھر کے سائنس دانوں، دانشوروں اور ماہرین کو خطرے کی اس گھنٹی پر یک زبان ہونا پڑے گا۔ اقوامِ متحدہ کو کم از کم ایک ہنگامی اجلاس بلا کر دنیا بھر کے عوام کو اس خلائی پیش رفت کے خوفناک نتائج سے آگاہ کرنا چاہیے۔

تاہم، سب سے اہم ذمہ داری امریکی عوام پر عائد ہوتی ہے۔ چونکہ امریکہ ایک جمہوری ملک ہے جہاں عوامی دباؤ حکومت کی پالیسیوں کو تبدیل کرنے کی طاقت رکھتا ہے، اس لیے امریکہ کے امن پسند شہریوں، ماحول دوست تنظیموں، اساتذہ، طلبہ، سائنس دانوں اور لکھاریوں کو اس غیر دانش مندانہ اقدام کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی۔ اگر اس عسکری جنونیت کو وقت پر نہ روکا گیا تو اس کا خمیازہ صرف چند ممالک نہیں بلکہ پوری انسانی تہذیب و تمدن کو بھگتنا پڑے گا۔