تازہ خبریں
خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں سیکیورٹی فورسز کا اہم آپریشن، 10 دہشت گرد ہلاکحکومت پاک ایران گیس پائپ لائن پر ٹرمپ سے ہم پر عائد پابندی ہٹانے کا کہے: راجہ ناصر عباسنائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز پر حملے کی شدید مذمت، 3 پاکستانیوں کی شہادت پر تعزیتملک بھر میں پیٹرول کی قیمت میں 1.70 روپے فی لیٹر کمی کا اعلاناسٹیٹ بینک آف پاکستان کا شرح سود میں کمی کا امکان
LIVE
Bitcoin rises above $80,000 as soft dollar, debasement fears boost momentumDocumentary NAZA on 'mass killing of Palestinian civilians' vying for Golden Lion at Venice Film Festival

حکومت

[DEV-FRONTEND-DATASET] Temporary Pakistan subcategory for local frontend design testing.

مزید تازہ خبریں

A row of white desktop computer workstations with headphones and keyboards set up in a digital training lab.پاکستان کی قومی اے آئی پالیسی 2025: معاشی و تکنیکی انقلاب کا خاکہ یا صرف کاغذی منصوبہ؟

پاکستان کی قومی اے آئی پالیسی 2025 ملک کی معاشی اور تکنیکی سمت کا تعین کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے، جسے حکومت، جامعات اور سول سوسائٹی کے باہمی تعاون سے تیار کیا گیا ہے۔ چھ بنیادی ستونوں پر مبنی یہ پالیسی بنیادی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، مقامی اے آئی ماڈلز کی تیاری، انسانی وسائل کی تربیت، محفوظ استعمال اور عالمی شراکت داری پر زور دیتی ہے۔ پالیسی کا ہدف 2030 تک جی ڈی پی میں 12 فیصد اضافہ اور 35 لاکھ روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔ اس کے باوجود، شہری و دیہی ڈیجیٹل تفاوت کو ختم کرنا، خواتین اور معذور افراد کو یکساں مواقع فراہم کرنا، اور اخلاقی ضوابط پر عمل درآمد یقینی بنانا اس منصوبے کے لیے بڑے چیلنجز ہیں۔

Insecurity Amid Security Law and Order Crisis in Pakistanدہشت گردی سے خیابانی جرائم تک: پاکستان میں عام شہری کے تحفظ کا بحران اور نوآبادیاتی طرزِ پولیسنگ

پاکستان میں جرائم اور عسکریت پسندی کا ملاپ امن و امان کی صورتحال کو انتہائی پیچیدہ بنا چکا ہے۔ جہاں بڑے شہروں میں خیابانی جرائم، منشیات اور آن لائن فراڈ کا راج ہے، وہیں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں تاوان کے لیے اغوا جبکہ پنجاب اور سندھ کے کچے کے علاقوں میں منظم مجرمانہ گروہ چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ 2026 میں پنجاب میں عادی مجرموں کے خلاف پیش کیے جانے والے مجوزہ قانون نے سخت انتظامی اقدامات اور شہری آزادیوں کے توازن پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ماہرین کے مطابق وقتی پولیس آپریشنز کے بجائے نوآبادیاتی طرزِ پولیسنگ کے خاتمے، سیاسی مداخلت کی روک تھام اور بااختیار عدالتی و انتظامی اصلاحات ہی سے عام شہری کو تحفظ کا احساس دلایا جا سکتا ہے۔

An editorial illustration showing legal scales, financial documents, and institutional governance papers symbolizing economic recovery through structural reforms in Pakistan.معاشی بحالی کا اصل امتحان: محض قرض اور بجٹ خسارہ نہیں، بلکہ ادارہ جاتی اصلاحات اور شفاف حکمرانی لازمی

پاکستان کو درپیش معاشی بحران کی بنیادی وجہ صرف مالیاتی خسارہ یا عالمی معاشی حالات نہیں بلکہ ادارہ جاتی حکمرانی کی کمزوریاں ہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی گورننس اور کرپشن ڈائگناسٹک رپورٹ کے مطابق، سیاسی مداخلت، غیر شفاف ضوابط اور صوابدیدی اختیارات کا بے جا استعمال سرمایہ کاری کے اعتماد کو مجروح کر رہا ہے۔ اگرچہ ٹیکس نظام، سرکاری خریداری اور آڈٹ کے شعبوں میں اصلاحاتی تجاویز پہلے سے موجود ہیں، لیکن ان پر مسلسل عمل درآمد کا فقدان سب سے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ معاشی استحکام کو پائیدار بنانے کے لیے قانون کی بالادستی، ڈیجیٹلائزیشن اور سول سوسائٹی کی مؤثر نگرانی ناگزیر ہے۔

A conceptual shot showing a person's hand refusing an envelope of Pakistani rupee currency notes beside a sign that reads "شفافیت اور اعتماد" and a small Pakistani flag.بدعنوانی کا عمومی تاثر اور حقائق: کیا ریاستی اداروں اور شہریوں کے درمیان اعتماد بحال ہو سکتا ہے؟

پاکستان میں بدعنوانی اور غیر شفافیت کے حوالے سے شہریوں کے تاثرات پر مبنی ایک اہم سروے سامنے آیا ہے جسے تحقیقی ادارے آئیپسوس اور ایف پی سی سی آئی نے مشترکہ طور پر جاری کیا ہے۔ اس انڈیکس (iTAP) کے مطابق 68 فیصد سے زائد افراد کا ماننا ہے کہ انہیں براہِ راست رشوت کا تجربہ نہیں ہوا، مگر اس کے باوجود ایف بی آر، ضلعی انتظامیہ اور عدلیہ جیسے اداروں کے بارے میں منفی تاثر برقرار ہے۔ اس کے برعکس نادرا اور ای چالان کے حامل ٹریفک نظام کو ٹیکنالوجی کے بہتر استعمال کی وجہ سے نسبتاً مثبت درجہ بندی ملی ہے۔ سروے اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ اداروں کی بحالی کے لیے صرف قوانین نہیں بلکہ عملی ڈیجیٹل اصلاحات اور شفافیت ضروری ہیں۔

Young Pakistani students sitting in a modern computer laboratory undergoing IT and digital technology training.اربوں کا تربیتی بجٹ اور سکڑتا ہوا روزگار: کیا یوتھ اسکلز پروگرام نوجوانوں کو معاشی تحفظ دے سکے گا؟

پاکستان کی 67 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے، جسے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب ملکی معیشت کا سب سے بڑا اثاثہ قرار دیتے ہیں۔ رواں مالی سال کے بجٹ میں 'وزیراعظم یوتھ اسکلز ڈیولپمنٹ پروگرام' کے تحت 5,290.49 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں تاکہ 1 لاکھ 20 ہزار نوجوانوں کو آئی ٹی اور دیگر جدید شعبوں کی تربیت فراہم کی جا سکے۔ تاہم، معاشی سست روی، سرکاری اداروں کی نجکاری اور ڈاؤن سائزنگ کے باعث روزگار پیدا کرنے کے مربوط پروگرام کی عدم موجودگی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ اگر تربیتی یافتہ نوجوانوں کو مقامی اور عالمی ڈیجیٹل مارکیٹ سے نہ جوڑا گیا تو یہ سرمایہ کاری معاشی بہتری میں تبدیل نہیں ہو سکے گی۔

A Pakistani farmer standing in an irrigated agricultural field managing water channels under dry conditions.5,260 سے 1,000 مکعب میٹر کا زوال: کیا پاکستان کا زرعی بحران صرف موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ ہے؟

پاکستان کو دنیا میں شدید آبی قلت کے شکار ممالک میں 14 ویں نمبر پر رکھا گیا ہے، جہاں 1951ء کے مقابلے میں فی کس میٹھے پانی کی دستیابی 5,260 مکعب میٹر سے گر کر 1,000 مکعب میٹر سے بھی کم رہ گئی ہے۔ ایک حالیہ تحقیقی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ قومی معیشت میں 24 فیصد حصہ ڈالنے والے زرعی شعبے کو صرف موسمیاتی تبدیلی نہیں بلکہ غیر مؤثر آبپاشی، کیمیائی کھادوں کا بے تحاشا استعمال اور مسلسل ایک ہی فصل اگانے کا رجحان تباہ کر رہا ہے۔ ملک کی 37 فیصد سے زائد افرادی قوت اسی شعبے سے منسلک ہے، مگر قومی کلائمیٹ چینج اور فوڈ سیکیورٹی جیسی پالیسیوں پر عمل درآمد نہ ہونے سے زرعی مستقبل غیر یقینی بن چکا ہے۔

Pakistani youth and candidates marching in a protest rally carrying banners for merit restoration in Sindh.سندھ سی سی ای 24 تنازع: 43 سو امیدوار اور صرف 70 کامیاب، پبلک سروس کمیشن کے پرچوں پر سوالات کیوں اٹھے؟

سندھ میں گریڈ 16 اور 17 کی ملازمتوں کے لیے لیے گئے 'سی سی ای 24' امتحان کے نتائج جاری ہونے کے بعد صوبہ بھر میں احتجاج کی لہر دوڑ گئی ہے۔ 4,300 سے زائد امیدواروں میں سے صرف 70 کے پاس ہونے اور کرمنالوجی و ماحولیاتی سائنس کے پرچوں کی نمبرنگ میں گڑبڑ نے امیدواروں میں سنگین تحفظات پیدا کر دیے ہیں۔ احتجاجی تحریک حیدرآباد، نواب شاہ، گھوٹکی، اور قمبر سمیت کئی اضلاع تک پھیل چکی ہے۔ سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے نتائج کی معطلی کے بعد معاملہ نئی قائم شدہ وفاقی آئینی عدالت پہنچا، جس نے عبوری احکامات معطل کرتے ہوئے انٹرویوز جاری رکھنے کی اجازت دی۔ امیدوار اب امتحانی مواد کے فارنزک آڈٹ اور شفافیت کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

Pakistani primary school students sitting in a classroom listening to their teacher.کلاس روم کا خاموش بحران: بچے اسکول تو جا رہے ہیں، مگر سیکھ کیوں نہیں پاتے؟

پاکستان کے ابتدائی تعلیمی نظام میں اگرچہ داخلوں کی شرح میں اضافہ ہوا ہے، لیکن سیکھنے کا معیار مخدوش صورتحال اختیار کر چکا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تیسری جماعت کے محض چار سے بارہ فیصد بچے ہی انگریزی متن کو رواں پڑھنے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس زوال کی بڑی وجہ تدریسی زبان کا ابہام ہے؛ پنجاب کے نجی انگریزی میڈیم اساتذہ پر کیے گئے برٹش کونسل کے سروے میں 94 فیصد اساتذہ خود انگریزی بولنے سے قاصر پائے گئے۔ ملک میں جہاں 1 فیصد سے بھی کم بچوں کی مادری زبان انگریزی ہے، وہاں مادری زبان کے بجائے نا مانوس زبان میں بنیادی تدریس بچوں کے فہم پر بوجھ بن جاتی ہے۔ 2010 کے بعد تعلیمی بجٹ میں سالانہ 17.5 فیصد اضافے کے باوجود نظام میں ادارہ جاتی خامیوں کی وجہ سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو پا رہے۔

A Pakistani farmer standing in a wheat field discussing agricultural challenges and rising input costs.پیداواری لاگت اور موسمیاتی دباؤ: پاکستانی کسان کی بقا کا بدلتا فارمولا

پاکستان کا زرعی شعبہ اس وقت دوہرے بحران کا شکار ہے جہاں ایک طرف موسمیاتی تبدیلیاں فصلوں کو متاثر کر رہی ہیں تو دوسری جانب کھاد، ڈیزل اور بجلی کی قیمتوں نے کاشت کاری کو ایک مہنگا عمل بنا دیا ہے۔ پنجاب میں 10 لاکھ سے زائد ڈیزل ٹیوب ویل اور زمین کی روایتی تیاری کسان کے بجٹ پر بوجھ ڈال رہی ہے۔ کیمیائی کھادوں کے متبادل، زیرو ٹِلج، شمسی توانائی اور کوآپریٹو مارکیٹنگ جیسے اقدامات کے ذریعے پیداواری لاگت کم کر کے ہی کسان اپنے منافع کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔ یہ تحریر زراعت کو درپیش چیلنجز اور ان کی ممکنہ تدابیر کا احاطہ کرتی ہے۔