پاکستان میں سیکیورٹی کا مجموعی منظرنامہ اب صرف روایتی سیاسی تشدد، فرقہ وارانہ کشیدگی یا سرحدی تنازعات تک محدود نہیں رہا۔ گزشتہ چند دہائیوں کے دوران خطے کے حالات اور معاشی بگاڑ کے باعث جرم کی ساخت میں ایک گہری تبدیلی آئی ہے، جہاں عسکریت پسندی اور منظم جرائم کا آپس میں ملنا ایک سنگین خطرہ بن کر سامنے آیا ہے۔ غیر قانونی مالیاتی نیٹ ورکس، بھتہ خوری، تاوان کے لیے اغوا، منشیات کی خریدو فروخت اور سائبر فراڈ اب ایسے خطرات کا روپ دھار چکے ہیں جنہوں نے ریاست کے روایتی حفاظتی حصار کو کمزور کر دیا ہے۔

جب کسی خطے میں انتظامی کنٹرول ڈھیلا پڑے تو مجرمانہ گینگ وہاں قدم جما لیتے ہیں۔ دوسری جانب اپنے وجود اور وسائل کی فراہمی کے لیے کوشاں عسکریت پسند گروہ بھی ایسے ہی غیر قانونی نیٹ ورکس کا سہارا لیتے ہیں۔ اس صورتحال نے عام پاکستانی کے لیے گلی محلوں اور سڑکوں پر خوف کی ایک نئی فضا قائم کر دی ہے۔

شہری مراکز میں خوف کی فضا اور کچے کے چیلنجز

ملک کے تجارتی اور صنعتی مراکزی شہروں کی صورتحال یہ ہے کہ معاشی سرگرمیوں کا مرکز ہونے کے باوجود وہاں شہریوں کو اپنی جان و مال کا شدید خطرہ رہتا ہے۔ گاڑیوں اور موبائل فونز کی چھین چھاپ، ڈکیتیوں کے دوران فائرنگ، منشیات کی کھلے عام فروخت اور خواتین کے خلاف جرائم نے عام آدمی کو ذہنی دباؤ میں مبتلا کر رکھا ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے بعض اضلاع میں تاوان کی خاطر اغوا ایک باقاعدہ صنعت کا روپ دھار چکا ہے، جبکہ سندھ اور پنجاب کے دریائی علاقوں (کچے) میں سرگرم ڈاکوؤں کے گینگ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک مسلسل چیلنج بنے ہوئے ہیں۔

یہ گینگ صرف قانون توڑنے تک محدود نہیں رہتے، بلکہ مقامی سطح پر نجی معیشت، سماجی تعلقات اور طاقت کے متوازی مراکز قائم کر لیتے ہیں۔ جب ریاست کی مستقل موجودگی کے بجائے محض وقتی آپریشنز پر انحصار کیا جائے تو انتظامی خلا برقرار رہتا ہے، جس سے نجی سرمایہ کاری اور کاروباری اعتماد کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔

نوآبادیاتی نظامِ پولیسنگ اور 2026 کا مجوزہ قانون

اس تمام تر انتظامی بگاڑ کی ایک بڑی وجہ پولیس کا وہ ڈھانچہ ہے جو آج بھی بڑی حد تک نوآبادیاتی دور کی ترجیحات پر کھڑا ہے۔ ماضی میں پولیسنگ کا بنیادی مقصد شہریوں کی خدمت یا جرم کی سائنسی تفتیش کے بجائے آبادی پر کنٹرول برقرار رکھنا تھا۔ وقت کے ساتھ اصلاحات کے بلند بانگ دعوے تو کیے گئے، لیکن سیاسی اثر و رسوخ، وسائل کی غیر مساوی تقسیم اور اہلکاروں کی غیر پیشہ ورانہ تربیت نے اس ادارے کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھلنے نہ دیا۔

امن و امان کے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے ریاست اکثر سخت قوانین اور انتظامی اداروں کو بے پناہ اختیارات دینے کا راستہ اختیار کرتی ہے۔ پنجاب میں عادی مجرموں اور مبینہ سماج دشمن عناصر کی سرکوبی کے لیے 2026 میں سامنے آنے والا مجوزہ قانون اسی سوچ کا عکس ہے۔ اس قانون کے تحت انتظامی حکام کو افراد کی تلاشی، ان کی نقل و حرکت پر پابندیاں اور نگرانی کے وسیع تر صوابدیدی اختیارات دینے کی تجویز دی گئی ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق محض سخت قوانین بنا دینا یا انتظامی افسران کے ہاتھ میں صوابدیدی اختیارات تھما دینا جرم کی بنیادی وجوہات کو ختم نہیں کر سکتا۔ اگر ان اختیارات کے نفاذ کے دوران شہری آزادیوں اور قانونی ضمانتوں کا خیال نہ رکھا جائے تو اس سے ریاست کے خلاف بدظنی مزید بڑھ سکتی ہے۔

قومی سلامتی بمقابلہ عام شہری کا تحفظ

ریاست کو یہ بات سمجھنا ہوگی کہ انسدادِ دہشت گردی اور قومی سلامتی کے اقدامات اپنی جگہ اہم سہی، لیکن عام شہری کا تحفظ ایک بالکل مختلف اور فوری نوعیت کا معاملہ ہے۔ کسی بھی ریاست کا اصل امتحان اس بات سے نہیں ہوتا کہ اس کے پاس کتنی فوج یا سیکیورٹی فورسز ہیں، بلکہ اس سے ہوتا ہے کہ ایک عام شہری بغیر کسی خوف کے اپنے گھر سے نکل کر کام پر جا سکتا ہے یا نہیں۔

پائیدار امن کے قیام کے لیے پولیسنگ کو سیاسی مداخلت سے پاک کرنا، تھانہ کلچر کو تبدیل کرنا، جدید تفتیشی ٹیکنالوجی کو اپنایا جانا اور عدالتی نظام میں زیرِ التوا مقدمات کو فوری نمٹانا لازمی ہو چکا ہے۔ جب تک نوجوانوں کے لیے روزگار اور تعلیمی مواقع پیدا نہیں کیے جاتے اور جرائم کی بیخ کنی کے لیے مستقل ادارہ جاتی حکمتِ عملی نہیں اپنائی جاتی، تب تک محض قوانین کا سہارا لے کر امن کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔