آزاد کشمیر کی معاشی اور سماجی ساخت میں نوجوان طبقہ ایک مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق خطے کی تقریباً 64 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے، مگر اس بڑی افرادی قوت کو پائیدار معاشی سرگرمیوں سے جوڑنا انتظامیہ کے لیے ایک مسلسل چیلنج بنا ہوا ہے۔ اسی پس منظر میں مظفرآباد کے کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ میں دو روزہ 'یوتھ لیڈرشپ ورکشاپ' اور وزیراعظم ہاؤس میں 'جاب فیسٹیول' کا انعقاد کیا گیا، تاکہ نوجوانوں کو روایتی ڈگریوں کے سائے سے نکال کر مارکیٹ کی عملی ضروریات سے روشناس کرایا جا سکے۔

ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم آزاد کشمیر راجا فیصل ممتاز راٹھور نے نشاندہی کی کہ مسئلہ نوجوانوں کی استعداد یا صلاحیت کا نہیں بلکہ صحیح سمت اور مستند معلومات تک ان کی رسائی کا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں سمارٹ فون محض تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک ایسا عالمی ڈائریکٹری پلیٹ فارم بن چکا ہے جس سے علمی اور پیشہ ورانہ مہارتوں میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ موجودہ تعلیمی نظام میں کسی طالب علم کی قابلیت کا اندازہ صرف امتحانی نمبروں سے لگایا جاتا ہے، جبکہ عملی دنیا میں ٹیکنالوجی، کمیونیکیشن اور فنی صلاحیت زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔

جاب فیسٹیول اور عملی رہنمائی

نوجوانوں کو عملی میدان کی ضروریات سمجھانے کے لیے وزیراعظم ہاؤس میں منعقدہ جاب فیسٹیول میں مختلف شعبوں کے نمائندے اکٹھے ہوئے۔ اس دو روزہ میلے میں سرکاری اداروں، بیرونِ ملک تعلیم اور ملازمت کی رہنمائی فراہم کرنے والے کنسلٹنسی فرمز، مسلح افواج کے بھرتی مراکز اور ہنرمندی کو فروغ دینے والے تنظیموں نے اپنے اپنے ڈیسک اور اسٹالز قائم کیے۔

فیسٹیول میں بڑی تعداد میں طلبہ اور حال ہی میں فارغ التحصیل ہونے والے نوجوانوں نے شرکت کی، جہاں انہیں سیاحت، مہمان نوازی (ہاسپیٹلٹی)، آئی ٹی، صحت اور فنی تجارت سے متعلق مواقع کے بارے میں براہِ راست معلومات فراہم کی گئیں۔ انتظامی حکام کے مطابق خطے میں سیاحت اور آئی ٹی کی ترجیحی گنجائش موجود ہے، لیکن اس گنجائش سے فائدہ اٹھانے کے لیے پیشہ ورانہ رہنمائی لازمی عنصر ہے۔

ڈیجیٹل روزگار اور انٹرنیٹ کی فراہمی

آزاد کشمیر کے دور دراز اور پہاڑی علاقوں میں روزگار کے محدود روایتی ذرائع کے باعث ڈیجیٹل معیشت اور فری لانسنگ کو متبادل راستے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تقریب کے دوران وزیراعظم آزاد کشمیر نے تسلیم کیا کہ انٹرنیٹ اور تکنیکی بنیادی ڈھانچے کی بحالی و بہتری کے بغیر ڈیجیٹل روزگار کا تصور ممکن نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت علاقے میں انٹرنیٹ سروسز کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے تاکہ مقیم نوجوان آن لائن کام کر کے عالمی فری لانسنگ مارکیٹ کا حصہ بن سکیں۔

تاہم، ڈیجیٹل مارکیٹ میں جگہ بنانے کے لیے صرف انٹرنیٹ کا ہونا کافی نہیں۔ عالمی سطح پر درکار سخت مقابلے کا مقابلہ کرنے کے لیے نوجوانوں کو آئی ٹی، گرافک ڈیزائننگ، کنٹینٹ رائٹنگ اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ جیسے شعبوں میں اعلیٰ معیار کی تربیت حاصل کرنا ہو گی۔

حکومتی پالیسیوں کے ساتھ ساتھ وزیراعظم نے نوجوانوں کی انفرادی ذمہ داری پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا کام بنیادی وسائل، مواقع اور پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے، مگر ان سہولیات کا مثبت استعمال اور عملی زندگی میں جدوجہد خود نوجوانوں کی ذمہ داری ہے۔ اگر نوجوانوں کی اس اکثریت کو پیداواری کاموں سے نہ جوڑا گیا تو ان کی توانائیوں کا ضیاع خطے کے لیے ایک نیا بحران بن سکتا ہے۔