ضم شدہ اضلاع میں طویل عرصے سے درپیش معاشی محرومیوں اور روزگار کے محدود ذرائع کے خاتمے کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ جنوبی وزیرستان میں جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (جائیکا) نے حکومتِ خیبر پختونخوا کے اشتراک سے نوجوانوں اور خواتین کی پیشہ ورانہ تربیت کا نیا پروگرام شروع کیا ہے۔ یہ اقدام قبائلی اضلاع میں مقامی حکومتوں کی صلاحیت کار بڑھانے کے ایک وسیع تر منصوبے کا حصہ ہے، جس کا مقصد سرحد پار یا دور دراز علاقوں کی جغرافیائی رکاوٹوں کو ختم کر کے مقامی آبادی کو بااختیار بنانا ہے۔

وانا تحصیل کے چیئرمین مولانا صالح وزیر کے تعاون سے شروع کیے جانے والے اس پروگرام میں تکنیکی اور عملی تربیت پر توجہ دی گئی ہے۔ منصوبے کے ڈیزائن میں صرف کورسز کی تدریس ہی شامل نہیں، بلکہ شرکا کو فوری کام شروع کرنے کے لیے ضروری بنیادی آلات بھی فراہم کیے جا رہے ہیں۔ تربیت حاصل کرنے والے مردوں کو مفت لیپ ٹاپ دیے جائیں گے تاکہ وہ آن لائن مارکیٹ میں داخل ہو سکیں، جبکہ خواتین کو خیاطی اور کڑھائی کا کورس مکمل کرنے پر سلائی مشینیں دی جا رہی ہیں تاکہ وہ گھر بیٹھے اپنے روزگار کا آغاز کر سکیں۔

ڈیجیٹل معیشت اور گھریلو صنعت کے ذریعے خودکفالت

قبائلی اضلاع کی روایتی ساخت میں مقامی سطح پر صنعتوں اور کارخانوں کی عدم موجودگی کے باعث روزگار کی تلاش ہمیشہ ایک بڑا مسئلہ رہی ہے۔ اس تناظر میں فری لانسنگ، ای کامرس اور آن لائن بزنس مینجمنٹ جیسے جدید شعبوں کی تربیت نوجوانوں کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ آن لائن کام کی بدولت کسی بھی نوجوان کو ملازمت کی تلاش میں اپنے علاقے سے نقل مکانی نہیں کرنی پڑے گی، بلکہ وہ مقامی سطح پر موجود رہ کر ملکی اور غیر ملکی کلائنٹس کے ساتھ کام کر کے زرمبادلہ کما سکیں گے۔

اسی طرح خطے کی خواتین کے لیے سلائی اور ہاتھ کے کام کی تربیت کو معاشی سرگرمیوں کا حصہ بنانے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ قبائلی معاشرت کی اقدار کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے گھریلو سطح پر چھوٹے پیمانے کا کاروبار خواتین کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ کسی رکاوٹ کے بغیر اپنے خاندان کی کفالت میں حصہ ڈال سکیں۔

ترقی اور سیکیورٹی: ایک ہی خطے کے دو اہم پہلو

جنوبی وزیرستان میں ایک طرف جب نوجوانوں اور خواتین کے لیے معاشی خودکفالت کے یہ در کھلے ہیں، تو دوسری جانب خطے پر چھائے بدامنی کے بادل بھی سچائی کے طور پر موجود ہیں۔ پیر کے روز وانا پولیس لائنز میں شہید پولیس اہلکار زاہد اللہ وزیر کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی، جنہیں بویا کے علاقے میں فائرنگ کر کے شہید کر دیا گیا تھا، جبکہ اس واقعے میں ان کے والد اور بھائی بھی شدید زخمی ہوئے۔ جنازے میں سول و ملٹری حکام اور مقامی افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور شہید کو گارڈ آف آنر پیش کر کے مٹی کے سپرد کیا گیا۔

یہ صورتحال اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ قبائلی اضلاع کی بحالی صرف تربیتی پروگراموں تک محدود نہیں رہ سکتی۔ ہنر مندی کے یہ منصوبے اسی وقت اپنے متوقع نتائج حاصل کر سکتے ہیں جب علاقے میں مستقل امن و امان قائم ہو اور نوجوانوں کو بلا تعطل انٹرنیٹ سروسز اور مارکیٹ تک رسائی میسر ہو۔ معاشی سرگرمیوں کو سیکیورٹی کے استحکام کے ساتھ جوڑنا ہی اس خطے کی پائیدار ترقی کی واحد ضمانت ہے۔