خیبر پختونخوا میں روایتی ملازمتوں کے محدود ہوتے مواقع اور اقتصادی چیلنجز کے پیشِ نظر نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی کی طرف راغب کرنے کے لیے پشاور میں ایک نئے آئی ٹی تربیتی مرکز کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ سردار گڑھی کے علاقے میں واقع جماعت اسلامی کے صوبائی مرکز 'مرکز اسلامی' میں قائم کیا جانے والا یہ سینٹر الخدمت فاؤنڈیشن کے 'بنو قابل' پروگرام کا حصہ ہے، جس کا مقصد علاقے کے نوجوانوں کو فری لانسنگ اور ڈیجیٹل مہارتیں سکھا کر خود کفالت کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔

نئے تربیتی مرکز کی افتتاحی تقریب میں الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے مرکزی صدر پروفیسر حافظ الرحمان اور جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے امیر عبدالواسی نے شرکت کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پروفیسر حافظ الرحمان کا کہنا تھا کہ بنو قابل منصوبے کی بنیاد صرف شارٹ کورسز یا اسناد کی تقسیم پر نہیں، بلکہ اس کا اصل مقصد نوجوانوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ جب نوجوان جدید ترین تکنیکی مہارت حاصل کر کے آن لائن مارکیٹ میں قدم رکھیں گے تو وہ نہ صرف اپنے اور اپنے خاندان کے لیے باوقار روزگار حاصل کریں گے بلکہ قومی معیشت میں بھی اہم کردار ادا کرنے کے اہل ہوں گے۔

تقریب سے خطاب کے دوران جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے امیر عبدالواسی نے موجودہ دور کو علم اور ٹیکنالوجی سے تعبیر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید دنیا میں ٹیکنالوجی ہی معاشی طاقت کی ضمانت ہے، اور اگر ہم اپنی نوجوان نسل کو آگے بڑھنے کے مساوی مواقع فراہم نہیں کریں گے تو ملکی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

85 کیمپسز اور مفت تربیتی نیٹ ورک

صوبے میں اس پروگرام کے دائرہ کار پر روشنی ڈالتے ہوئے الخدمت فاؤنڈیشن خیبر پختونخوا کے صدر خالد وقاص نے بتایا کہ تنظیم نے اب تک صوبے بھر میں 85 مختلف کیمپسز قائم کیے ہیں۔ ان مراکز کے ذریعے 10 ہزار سے زیادہ نوجوانوں کو مکمل طور پر مفت آئی ٹی تعلیم دی جا چکی ہے۔

ان تربیتی کورسز کے تحت طلبہ کو سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ، فری لانسنگ اور مارکیٹ کی طلب کے مطابق مختلف ڈیجیٹل مہارتوں میں عملی تدریس فراہم کی جا رہی ہے۔ خالد وقاص کے مطابق الخدمت کا ارادہ اس نیٹ ورک کو مزید وسعت دینے کا ہے تاکہ خیبر پختونخوا کے دور دراز اضلاع سے تعلق رکھنے والے نوجوان بھی اس ڈیجیٹل معیشت کا حصہ بن سکیں۔

روایتی ملازمتوں کا متبادل اور آن لائن مارکیٹ

پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے اس موڑ پر کھڑا ہے جہاں روزگار کے روایتی شعبے اور سرکاری ملازمتیں آبادی کے تناسب سے انتہائی کم ہو چکی ہیں۔ ایسے معاشی حالات میں آن لائن کام اور فری لانسنگ نوجوانوں کے لیے ایک پائیدار اور باوقار متبادل بن کر ابھرے ہیں۔

پشاور کے سردار گڑھی سینٹر جیسے اقدامات کا بنیادی ہدف یہ ہے کہ مقامی سطح پر ایسی مہارتیں فراہم کی جائیں جن کی بین الاقوامی مارکیٹ میں مانگ موجود ہے۔ اس سے نہ صرف نوجوان اپنے مقامی علاقوں میں رہتے ہوئے عالمی فری لانسنگ پلیٹ فارمز سے زرمبادلہ کما سکتے ہیں بلکہ ملکی معیشت پر چھائے غیر یقینی کے بادل چھاٹنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔