کسی گھر میں جب کینسر یا سرطان جیسی بیماری دستک دیتی ہے تو صرف مریض ہی نہیں بلکہ پورا خاندان ایک عجیب غیر یقینی اور ذہنی تناؤ کی کیفیت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اس مرض کی تشخیص کے بعد علاج کی شروعات ایک ایسا طویل اور تھکا دینے والا مرحلہ ہے جس میں ادویات، ریڈی ایشن کے متعدد سیشنز اور جراحی مریض کی قوتِ برداشت کا امتحان لیتے ہیں۔ اکثر اوقات بیماری سے زیادہ علاج کے دوران ظاہر ہونے والے اثرات مریض کو اعصابی طور پر توڑ کر رکھ دیتے ہیں۔
اسلام آباد کے شفاء انٹرنیشنل ہسپتال کے شعبہ انکولوجی میں آنے والے بیشتر مریض مثانے، گلے اور خواتین میں چھاتی کے کینسر کی تلخ حقیقت سے نبرد آزما نظر آتے ہیں۔ علاج کے عمل میں شامل کیموتھراپی اور ریڈی ایشن کا بنیادی مقصد تو کینسر کے خلیات کو ختم کرنا ہوتا ہے، مگر اس دوران صحت مند اعصاب اور جسمانی نظام بھی شدید متاثر ہوتے ہیں۔ بعض اوقات ہارمون تھیراپی کے بعد مریضوں کو بار بار شدید بھوک محسوس ہوتی ہے، جبکہ مخصوص سہ ماہی انجیکشنز کے اثرات سے مسلسل زکام یا الرجی جیسے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں جن سے نمٹنے کے لیے مریض کو روزمرہ بنیادوں پر اضافی جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔
طبی اثرات اور معالج کی بنیادی ذمہ داری
کنسلٹنٹ اونکولوجسٹ ڈاکٹر علی واجد کا کہنا ہے کہ کیموتھراپی اور ریڈیو تھراپی کروانے والے تقریباً 70 فیصد مریضوں کو دل خراب ہونے، متلی اور بال گرنے کی شکایت ہوتی ہے۔ ریڈی ایشن کے باعث متاثرہ جلد کا رنگ گہرا ہو جاتا ہے اور مریضوں کو شدید گرمی کے فلیشز محسوس ہوتے ہیں۔ حالت یہ ہو جاتی ہے کہ سخت سردی کے مہینوں میں بھی مریض پنکھے کے نیچے بیٹھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ جراحی یا سرجری کے بعد ریکوری میں تین سے چار ہفتے کا وقت لگتا ہے، جس کے دوران بھوک اور نیند کی کمی کے ساتھ ساتھ جلد کے مسائل بھی سامنے آتے ہیں۔
ڈاکٹر علی واجد کے مطابق علاج شروع کرنے سے پہلے مریض اور اس کے لواحقین کو بیماری کی نوعیت، متوقع وقت اور درپیش اثرات کے بارے میں مکمل آگاہی دینا انتہائی ضروری ہوتا ہے۔ علاج کی کامیابی کے لیے مریض کی رضامندی، فرٹیلیٹی پر پڑنے والے ممکنہ اثرات، اور صفائی ستھرائی کے بنیادی اصولوں سے آگاہ کرنا معالج کے پیشہ ورانہ کردار کا حصہ ہے۔ اب ایسی جدید ادویات بھی دستیاب ہیں جن کے مضر اثرات ماضی کی ادویات کی نسبت کم ہوتے ہیں۔
غذائی نگہداشت اور ذہنی کونسلنگ کی اہمیت
علاج کی اس مشقت میں مریض کی جسمانی طاقت برقرار رکھنے کے لیے خوراک کی ترتیب بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ پبلک ہیلتھ کے ماہر اور غذائی ماہر شاہد فضل کے مطابق کینسر کے مریضوں کے لیے ہمیشہ تازہ اور باسی اثرات سے پاک غذا تیار کی جانی چاہیے۔ علاج کے اثرات کے باعث چونکہ بھوک شدید متاثر ہوتی ہے، اس لیے مریض کو ایک ساتھ بڑی مقدار میں کھلانے کے بجائے وقفے وقفے سے تھوڑی تھوڑی خوراک دینی چاہیے۔ اگر جسم میں ضروری عناصر کی شدید کمی ہو تو ماہرین کی ہدایت کے مطابق مائیکرو نیوٹریئنٹس پر مبنی لکوئڈ سپلیمنٹس کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔
جسمانی تکالیف کے ساتھ ساتھ مریض کا ذہنی طور پر مضبوط رہنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھنے والی مریضہ جمشید پروین کی مثال سامنے ہے، جنہوں نے چھاتی کے کینسر کے علاج کے دوران 27 ریڈی ایشن سیشنز جھیلے۔ دس فیصد ٹیومر باقی رہ جانے پر انہیں کیموتھراپی اور سرجری کے کٹھن مراحل سے بھی گزرنا پڑا۔ بے خوابی اور شدید کمزوری کے باوجود انہوں نے اپنے ڈاکٹر اور اہلخانہ کے تعاون سے اس بیماری کا مقابلہ کیا۔
کینسر کا علاج طویل اور انتہائی مہنگا ہونے کی وجہ سے پاکستانی معاشرے میں ایک عام خاندان کے لیے معاشی تناؤ کا باعث بنتا ہے۔ اکثر اوقات مریض اگلی کیمو یا ریڈی ایشن کی مالی ترتیب کے بارے میں سوچتے ہوئے ذہنی طور پر نڈھال ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں محض دوا دینا کافی نہیں ہوتا بلکہ خاندانی سپورٹ اور معالج کا ہمدردانہ رویہ مریض کے اندر جینے اور صحت یاب ہونے کی امید قائم رکھتا ہے۔





تبصرے