لاہور کی ملتان روڈ پر واقع باری اسٹوڈیوز کبھی پاکستانی فلمی صنعت کے اہم مراکز میں شمار ہوتا تھا، جہاں فلمیں بنتی، فنکار جمع ہوتے اور تکنیکی عملہ اپنی روزی کماتا تھا۔ آج اس کی خستہ دیواروں کے درمیان چند ایسے لوگ موجود ہیں جو اس دور کی کہانیاں سناتے ہیں جب ایک فلمی سیٹ پر ’’لائٹس، کیمرا، ایکشن‘‘ کی آواز معمول کی بات ہوا کرتی تھی۔

جہاں ایک زمانے میں فلمیں سانس لیتی تھیں: ملتان روڈ پر باری اسٹوڈیوز کا احاطہ آج پہلی نظر میں کسی پرانے صنعتی مقام جیسا محسوس ہوتا ہے۔ دیواریں وقت کے اثرات سے کمزور ہوچکی ہیں، عمارتوں پر زوال کے آثار نمایاں ہیں اور وہ رونق کہیں دکھائی نہیں دیتی جس نے اس جگہ کو لاہور کی فلمی تاریخ میں ایک خاص مقام دیا تھا۔

لیکن یہ خاموشی دھوکا دیتی ہے۔ اسٹوڈیو کی شکستہ دیواروں کے پیچھے پاکستانی سنیما کے کئی ادوار محفوظ ہیں۔ یہاں وہ فلمیں بنیں جنہیں کبھی بڑی تعداد میں ناظرین دیکھا کرتے تھے، فنکاروں نے اپنے کیریئر کے اہم مناظر فلمائے اور درجنوں ایسے لوگوں نے روزگار حاصل کیا جن کے نام پردے پر شاید کبھی دکھائی نہیں دیے۔

باری اسٹوڈیوز 1950 کی دہائی کے اوائل میں فلم پروڈیوسر ملک باری نے قائم کیا تھا۔ یہاں متعدد ہال، اسٹوڈیو رومز، فلمی سیٹ، لیبارٹری اور فلم کی تیاری و بعد از تکمیل کے لیے ضروری سامان موجود تھا۔

ایک وقت میں یہ محض عمارت نہیں بلکہ ایک مکمل فلمی دنیا تھی۔

اس دنیا کے اصل کردار ستارے نہیں تھے: فلمی تاریخ اکثر بڑے اداکاروں، ہدایت کاروں اور پروڈیوسروں کے نام یاد رکھتی ہے۔ لیکن کسی فلم کو مکمل کرنے کے لیے ایسے بے شمار لوگ بھی درکار ہوتے ہیں جن کا نام کبھی پوسٹر پر نہیں آتا۔

ملک اکبر انہی لوگوں میں شامل ہیں۔

وہ خود کو ’’ایکسٹرا سپلائر‘‘ کہتے ہیں، یعنی ایسے افراد جو فلموں کے لیے پس منظر میں نظر آنے والے اضافی اداکار یا کردار فراہم کرتے ہیں۔ ان کے مطابق انہیں مختلف عمروں اور جسامت کے مرد و خواتین فنکار دستیاب کرانے کا تجربہ ہے۔

اکبر خود بھی کئی فلموں میں ایکسٹرا کے طور پر کام کرچکے ہیں۔

وہ 1965 کی فلم ملنگی میں اپنے ایک مختصر کردار کو خاص جوش سے یاد کرتے ہیں، جس میں انہیں سر پر ضرب لگنے کا منظر ادا کرنا تھا۔

وہ آج بھی اس واقعے کو جسمانی انداز میں بیان کرتے ہیں، جیسے برسوں پرانا فلمی منظر ان کے سامنے دوبارہ زندہ ہوگیا ہو۔

مگر ان کی اپنی زندگی میں فلمی دنیا کی چمک کافی پیچھے رہ چکی ہے۔

پردے کے پیچھے رہ جانے والوں کا زوال: اکبر اب ان دنوں کو بھی یاد کرتے ہیں جب فلمی دنیا کے بڑے نام ان کے ساتھ کام کرتے تھے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ان کا معاشی سہارا بھی کم ہوتا گیا۔

اپنی بیٹیوں کی شادیوں کے موقع پر مالی مدد کی ضرورت پڑی تو ان کے بقول ان بڑے ستاروں میں سے کسی نے ان کی مدد نہ کی جن کے ساتھ وہ کام کرچکے تھے۔

یہ واقعہ صرف ایک فرد کی پریشانی نہیں بلکہ اس پورے غیر رسمی روزگار کی ناپائیداری کی عکاسی کرتا ہے جو کبھی فلمی صنعت سے وابستہ ہزاروں افراد کا ذریعہ معاش تھا۔

فلم کی کامیابی میں سب نظر آنے والے چہرے نہیں ہوتے۔

کچھ لوگوں کا کام صرف اتنا ہوتا ہے کہ وہ کیمرے کے سامنے چند سیکنڈ نظر آئیں یا پردے کے پیچھے کسی مخصوص کام کو بروقت مکمل کردیں۔ جب صنعت سکڑتی ہے تو سب سے پہلے یہی غیر نمایاں کردار متاثر ہوتے ہیں۔

باری اسٹوڈیوز پہلے گاؤں تھا: باری اسٹوڈیوز کے بارے میں ایک دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ فلمی سیٹ بننے سے پہلے یہ علاقہ ایک گاؤں تھا۔ اس جگہ کی مقامی یادداشتوں میں اسٹوڈیو کے قیام اور اس کے بعد پیش آنے والے عجیب واقعات کی کہانیاں بھی محفوظ ہیں۔

ملک اکبر سلطان راہی سے متعلق ایک واقعہ سناتے ہیں کہ ایک فلم کی شوٹنگ کے دوران انہیں درخت سے باندھا گیا تھا، لیکن منظر مکمل ہونے کے بعد بھی وہ کافی دیر تک نیچے نہ اتر سکے۔

کچھ مقامی روایات میں ایک اور واقعے کا ذکر ملتا ہے جس میں ایک شادی کے جلوس کی فلم بندی کے دوران دلہن کا کردار ادا کرنے والی لڑکی پالکی سے گر کر زخمی ہوگئی۔ سیٹ پر آگ لگنے کے واقعات کا بھی ذکر کیا جاتا ہے۔

یہ سب واقعات حقیقت میں کسی مافوق الفطرت وجہ سے جڑے تھے یا محض اتفاقات تھے، اس کا کوئی قابلِ اعتماد ثبوت نہیں۔ لیکن مقامی لوگوں نے ان حادثات کو اسٹوڈیو کی جگہ سے جڑی ایک پرانی روحانی روایت کے ساتھ جوڑ دیا۔

ایک مزار، ایک روایت: لوگوں نے بتایا کہ اسٹوڈیو کی تعمیر کے بعد مسلسل حادثات سے پریشان انتظامیہ نے مقامی آبادی سے وجہ دریافت کی تو یہ بات سامنے آئی کہ اس جگہ ایک بزرگ دفن تھے اور شاید وہ نئی ہلچل سے خوش نہیں۔

بعد میں، 1990 کی دہائی میں، ان کے نام سے ایک چھوٹا سا مزار تعمیر کیا گیا۔

اس مزار سے منسوب نام حضرت جناب غیب شاہ ولی حیدری قلندری بتایا جاتا ہے۔

آج اس کی حدود میں خاموشی ہے اور دروازہ بند رہتا ہے، اگرچہ کم اونچی دیوار کے باعث اندر جانا مشکل نہیں۔

یوں باری اسٹوڈیوز میں فلمی تاریخ اور مقامی لوک روایت ایک ہی جگہ پر جمع دکھائی دیتی ہے۔

خواب ہیرو بننے کا تھا: بابا گلزار احمد بھی اسی ماضی کی ایک زندہ یاد ہیں۔

وہ جوانی میں گوجرانوالہ سے لاہور آئے تھے۔ مقصد بڑا تھا: فلمی دنیا میں ہیرو بننا۔

لیکن بڑے پردے نے انہیں وہ موقع نہیں دیا جس کا انہوں نے خواب دیکھا تھا۔

کچھ معمولی کردار اور پس منظر میں رقص کے بعد انہوں نے فلمی دنیا کے دوسرے کام اختیار کیے۔ بعد میں وہ ایکسٹرا فنکار فراہم کرنے لگے اور پروڈکشن کے چھوٹے بڑے کاموں سے وابستہ ہوگئے۔

وقت گزرا تو ان کے دو بیٹے بھی اسی شعبے میں آگئے۔ اب وہ فلموں اور ڈراموں کے لیے مقامات اور اداکار فراہم کرنے کا کام کرتے ہیں۔

یعنی جس خواب نے ایک نوجوان کو دہائیوں پہلے لاہور کھینچا تھا، وہ خواب مکمل نہ سہی، اگلی نسل کے روزگار کا ذریعہ ضرور بن گیا۔

لباس بنانے والا جو فلموں کے نام بھول گیا: غلام عباس باری اسٹوڈیوز کے ان کرداروں میں شامل ہیں جنہوں نے کیمرے کے سامنے نہیں بلکہ فلمی پردے کے پیچھے اپنا حصہ ڈالا۔

وہ تقریباً تین دہائیوں سے اسٹوڈیو سے وابستہ ہیں اور متعدد فلموں کے ملبوسات تیار کرچکے ہیں۔

تعداد اتنی زیادہ ہے کہ انہیں سب کے نام بھی یاد نہیں رہے۔

البتہ جب پرانے پوسٹر سامنے آتے ہیں تو ماضی کی ایک پوری فہرست واپس آجاتی ہے: بندیـش، جیوا گجر، بغاوت اور خان کھیلا۔

ان پوسٹروں میں محض فلموں کے نام نہیں بلکہ ایک پورے معاشی نظام کی جھلک بھی ہے جس میں درزی، میک اپ آرٹسٹ، ایکسٹرا، اسٹنٹ مین، فائٹ ڈائریکٹر، لوکیشن فراہم کرنے والے، سپلائر اور درجنوں دوسرے ماہرین اپنا روزگار پاتے تھے۔

ایک اسٹنٹ مین کی شناخت: رئیس احمد کی عمر 59 برس ہے اور وہ خود کو صرف اسٹنٹ مین کہنا پسند نہیں کرتے۔

وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ان کی شناخت میں تین الگ ذمہ داریاں شامل ہیں: اسٹنٹ مین، فائٹ ڈائریکٹر اور پروڈکشن مینیجر۔

یہ اصرار معمولی معلوم ہوسکتا ہے، مگر دراصل فلمی صنعت کے اندر موجود پیشہ ورانہ تقسیم کی اہمیت ظاہر کرتا ہے۔

فلم بنانا صرف اداکاروں کی کارکردگی نہیں۔ اس کے پیچھے مختلف مہارتوں کا ایک بڑا نظام ہوتا ہے، اور اس نظام کے سکڑنے کا مطلب ان پیشوں کے مواقع بھی کم ہونا ہے۔

باری اسٹوڈیوز میں آج بھی کہانیاں موجود ہیں: ہدایت کار وحید اعوان بھی اس جگہ سے وابستہ رہنے والے لوگوں میں شامل ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ان کی 1996 کی فلم فوجا باری اسٹوڈیوز میں بنائی گئی تھی، جبکہ ان کی بعد کی فلم لاہوری شہزادے 2006 میں پڑوس کے ایورنیو اسٹوڈیوز میں فلمائی گئی۔ وہ اب بھی ایک نئی پروڈکشن ہتھیار پر کام کررہے ہیں۔ یہ شاید اس جگہ کی سب سے دلچسپ خصوصیت ہے کہ مکمل زوال کے باوجود یہاں فلم بنانے کا خواب پوری طرح ختم نہیں ہوا۔

پرانی عمارتیں اپنی جگہ موجود ہیں، پرانے لوگ اپنی یادیں لیے گھومتے ہیں، اور کہیں کہیں نئی فلم کا خیال بھی جنم لیتا رہتا ہے۔

جب فلمی صنعت تھی تو اسٹوڈیو بھی زندہ تھا: باری اسٹوڈیوز کا زوال دراصل کسی ایک عمارت کی کہانی نہیں۔

جب مقامی فلمی پیداوار کم ہوئی، سینما گھروں کی تعداد گھٹی، سرمایہ کاری کم ہوئی اور فلم بنانے کے روایتی نظام بکھرنے لگے تو بڑے اسٹوڈیوز کا معاشی جواز بھی کم ہوتا گیا۔

ایک وقت میں جہاں شوٹنگ کے لیے مسلسل سرگرمیاں جاری رہتی تھیں، اب وہی جگہیں فلمی ماضی کے آثار میں تبدیل ہورہی ہیں۔

اس تبدیلی کا اثر صرف اداکاروں پر نہیں پڑا۔ سیٹ بنانے والے، لباس تیار کرنے والے، تکنیکی عملہ، ایکسٹرا فراہم کرنے والے اور پروڈکشن سے وابستہ چھوٹے کاروبار بھی اس سکڑتی ہوئی صنعت کے ساتھ پیچھے چلے گئے۔

سینما کا زوال صرف فلم کا زوال نہیں: پاکستانی فلمی صنعت کے بحران کو اکثر اس سوال تک محدود کردیا جاتا ہے کہ اچھی فلمیں کیوں نہیں بن رہیں۔ لیکن باری اسٹوڈیوز جیسی جگہیں ایک وسیع حقیقت سامنے لاتی ہیں۔

فلمی صنعت ایک مکمل ماحولیاتی نظام ہوتی ہے۔ ایک فلم کم بنتی ہے تو صرف ایک پروڈیوسر متاثر نہیں ہوتا۔ اس کے ساتھ درجنوں یا بعض اوقات سیکڑوں افراد کی آمدنی، مہارت اور روزگار کے مواقع بھی متاثر ہوتے ہیں۔

اس لیے فلمی صنعت کی بحالی کا مطلب صرف نئی فلمیں ریلیز کرنا نہیں بلکہ ان لوگوں کے لیے دوبارہ جگہ بنانا بھی ہے جو فلم کو ممکن بناتے ہیں۔

شاید باری اسٹوڈیوز کا اصل المیہ یہی ہے: آج باری اسٹوڈیوز کی خستہ دیواریں ماضی کی ایک ایسی صنعت کی گواہی دیتی ہیں جو کبھی لاہور کی ثقافتی شناخت کا حصہ تھی۔

وہاں موجود بوڑھے ایکسٹرا، لباس ڈیزائنر، اسٹنٹ مین، لوکیشن سپلائر اور ہدایت کار کسی میوزیم میں رکھے ہوئے کردار نہیں۔

وہ ایک زندہ صنعت کے آخری گواہ ہیں۔ ان کی گفتگو میں ماضی کی شہرت کا فخر بھی ہے، حال کی معاشی مشکل بھی اور مستقبل کے بارے میں ایک ہلکی سی امید بھی۔ وہ کسی خاص چیز کے منتظر نہیں۔ وہ صرف دوبارہ کام چاہتے ہیں۔

ایک سیٹ بنے، فنکار آئیں، لائٹس روشن ہوں، کیمرا آن ہو اور پھر کوئی بلند آواز میں کہے:

"لائٹس، کیمرا، ایکشن!"

شاید باری اسٹوڈیوز کے لیے یہی تین الفاظ کسی فلمی منظر سے زیادہ، ایک پوری صنعت کی دوبارہ واپسی کا خواب ہیں۔