دنیا بھر کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کی کارکردگی پر نظر رکھنے والے ادارے کیو ایس (QS) کی جانب سے جاری کردہ سبجیکٹ رینکنگ 2026 نے پاکستان کے تعلیمی منظرنامے کی ایک اہم تصویر پیش کی ہے۔ عالمی سطح پر مختلف مضامین کی درجہ بندی میں پاکستان کی 35 جامعات نے جگہ بنائی ہے، جن میں 31 سرکاری اور چار نجی تعلیمی ادارے شامل ہیں۔ مجموعی طور پر ان اداروں کے 180 شعبہ جات یا مضامین اس درجہ بندی کے دائرے میں آئے ہیں، جو ظاہر کرتا ہے کہ ملکی جامعات کے متعدد شعبے بین الاقوامی جانچ کے معیار پر پورا اتر رہے ہیں۔ تاہم اس موجودگی کے باوجود زیادہ تر ادارے 201 سے 400 کے بینڈز میں موجود ہیں، جو اس امر کی نشان دھی کرتا ہے کہ عالمی سطح پر اولین صفوں میں شامل ہونے کے لیے ابھی کافی سفر باقی ہے۔

ٹیکنالوجی، سائنس اور زراعت میں پیش رفت

مختلف مضامین کی بنیاد پر اداروں کی کارکردگی پر نظر ڈالی جائے تو چند اداروں نے تکنیکی اور سائنسی علوم میں نمایاں پوزیشنز حاصل کی ہیں۔ زرعی علوم اور جنگلات کے میدان میں یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد نے دنیا کے بہترین 200 اداروں کی فہرست میں مقام بنایا، جو پاکستان کی زراعت پر مبنی معاشی ساخت کے لحاظ سے اہم پیش رفت ہے۔ ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ کے میدان میں اسلام آباد کی نسٹ (NUST) 201 سے 250 کی عالمی بریکٹ میں رہی، جبکہ کمپیوٹر سائنس میں اس کا نمبر 201 سے 300 کے درمیان رہا۔ اسی طرح کامسیٹس یونیورسٹی نے بھی ڈیجیٹل علوم میں 201 سے 250 کا بینڈ حاصل کیا، جبکہ یو ای ٹی لاہور انجینئرنگ کے شعبوں میں 251 سے 400 کے درمیان جگہ بنانے میں کامیاب ہوئی۔

قدرتی علوم کے شعبے میں قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد نے 201 سے 250 کے گروپ میں جگہ بنائی، جبکہ فزکس اور ماحولیاتی علوم میں یہ جامعہ 250 سے 400 کے درمیان رہی۔ پنجاب یونیورسٹی لاہور نے ایک سے زائد شعبوں، جیسے کہ بزنس، سوشل سائنسز اور زراعت میں اپنی پوزیشن زیادہ تر 201 سے 400 کے درمیان برقرار رکھی۔ جامعہ کراچی نے کیمسٹری اور بائیولوجیکل سائنسز میں 301 سے 400 کا بینڈ حاصل کیا۔ اس کے علاوہ جی سی یونیورسٹی لاہور، بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور، یونیورسٹی آف پشاور، یونیورسٹی آف سندھ، یونیورسٹی آف بلوچستان اور یوواس لاہور جیسے صوبائی و وفاقی سرکاری اداروں نے بھی مختلف شعبہ جات میں درجہ بندی کی فہرست میں اینٹری کی ہے۔

نجی شعبے کا کردار اور عالمی معیار کے تقاضے

نجی جامعات میں لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (LUMS) نے بزنس اینڈ مینجمنٹ اسٹڈیز میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 101 سے 150 کے بینڈ میں پوزیشن حاصل کی، جو کہ پاکستانی اداروں کی موضوعاتی فہرست میں سب سے مضبوط پوزیشنز میں سے ایک ہے۔ کراچی کے انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (IBA) نے بزنس اور اکنامکس میں 151 سے 250 کا درجہ حاصل کیا۔ دوسری جانب طبی تعلیم اور لائف سائنسز کے میدان میں آغا خان یونیورسٹی (AKU) 201 سے 250 کی عالمی بریکٹ میں شامل رہی، جس کا براہِ راست اثر ملک میں میڈیکل ریسرچ اور صحت کی تعلیم کے معیار پر پڑتا ہے۔

کیو ایس رینکنگ کی ساخت پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ درجہ بندی تعلیمی شہرت، آجروں کی رائے، فی مقالہ تحقیقی حوالہ جات (Research Citations) اور بین الاقوامی تحقیقاتی شراکت داری جیسے سخت معیارات پر مبنی ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی جامعہ کی بہتر رینکنگ کا تعلق اس بات سے بھی ہے کہ وہاں کے اساتذہ کا کام دنیا بھر کی دیگر لیبارٹریوں اور تحقیقی مجلوں میں کتنا استعمال ہو رہا ہے۔ پاکستان کی 35 جامعات کی اس عالمی فہرست میں موجودگی بتاتی ہے کہ ملک کا تعلیمی ڈھانچہ عالمی منظرنامے سے یکسر کٹا ہوا نہیں ہے، لیکن محض درجہ بندی میں نام آ جانا تعلیمی بحران کا کامل حل نہیں ہے۔ اصل چیلنج یہ ہے کہ ان اداروں میں ہونے والی تحقیق مقامی مسائل کا حل پیش کرے اور طلبہ کو ان عملی مہارتوں سے آراستہ کرے جن کی عالمی اور مقامی مارکیٹ میں واقعی ضرورت ہے۔