امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ فوجی تصادم اور مشرقِ وسطیٰ میں تشویشناک حد تک بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران تہران نے اسلام آباد اور ریاض کے ساتھ اعلیٰ سطحی سفارتی رابطہ قائم کیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور اپنے سعودی ہم منصب فیصل بن فرحان سے ٹیلی فون پر بات چیت کی، جس کا بنیادی مقصد خطے میں مزید بحران کو روکنے کے لیے سفارتی راستے تلاش کرنا ہے۔
ایک پاکستانی سکیورٹی عہدیدار نے غیر ملکی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ایرانی وزیر خارجہ کے درمیان گفتگو میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان تنازع کی شدت کم کرنے کے طریقوں پر مفصل بات ہوئی۔ گفتگو کے دوران امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ، مذاکرات کی میز پر واپسی کے امکانات اور حال ہی میں سعودی عرب پر ہونے والے حوثی حملوں کے اثرات بھی زیرِ بحث آئے۔
یمن بحران اور علاقائی دفاعی معاہدہ
رواں ہفتے یمن کے حوثی جنگجوؤں نے سعودی عرب کے جنوبی شہروں ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران میں شہری آبادی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا، جن میں بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے استعمال کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 70 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ حوثی جنگجوؤں نے بحیرہ احمر کے سٹریٹیجک بندرگاہی شہر مخا پر بھی قبضہ کر لیا ہے اور وہ باب المندب کی سمت پیش قدمی کر رہے ہیں، جبکہ تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے بعد عالمی تجارتی راستوں پر دباؤ شدید ہو چکا ہے۔
پاکستان کے لیے یہ صورتحال تزویراتی لحاظ سے انتہائی اہم ہے، کیونکہ اسلام آباد، ریاض اور انقرہ کے درمیان سات اگست 2026 کو ایک مشترکہ دفاعی معاہدہ طے پایا تھا، جس کی شقوں کے تحت کسی بھی ایک رکن ملک پر مسلح حملہ تمام فریقین پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس معاہدے کے تناظر میں تہران کا اسلام آباد سے رابطہ خطے میں توازن قائم رکھنے کی سفارتی کوششوں کا حصّہ دکھائی دیتا ہے۔
سفارتی کوششوں کی بحالی پر زور
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے سعودی ہم منصب سے گفتگو کے دوران خطے میں عدم استحکام کے پھیلاؤ کو روکنے اور سفارتی اقدامات جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ اگرچہ تہران نے یمن میں ملٹری آپریشنز کے ذریعے حل تلاش کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے سیاسی مذاکرات کو ترجیح دینے پر زور دیا ہے، لیکن ریاض اور تہران کے درمیان یہ رابطہ مشرقِ وسطیٰ کی وسیع تر جنگ کو قابو میں رکھنے کی کوششوں کو ظاہر کرتا ہے۔





تبصرے