گزشتہ سات برسوں میں درجنوں سینما گھروں کی بندش، ملٹی پلیکسز کی مہنگی ٹکٹیں اور فلموں کی مسلسل کم ہوتی تعداد نے مقامی سنیما کو ایک گہرے بحران میں دھکیل دیا ہے۔ جہاں اسٹریمنگ پلیٹ فارمز نے پاکستانی مواد کو عالمی پہچان دی، وہی اب بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا مقامی فلمی صنعت اپنے بکھرے ہوئے نظام کو دوبارہ فعال کر پائے گی؟
گزشتہ سات سال کے دوران ملک بھر میں 67 سینما گھروں پر تالے لگ چکے ہیں، جبکہ صرف پنجاب میں 37 اسکرینیں بند ہونے کے بعد اب محض 39 سینما ہال باقی بچے ہیں۔ یہ ارقام محض عمارتوں کے گرنے یا تجارتی مراکز میں تبدیل ہونے کی داستان نہیں، بلکہ اس عوامی تفریح کے زوال کی علامت ہیں جو کبھی ہر طبقے کو ایک پردے کے سامنے اکٹھا کرتی تھی۔ اس عید کے موقع پر بھی صرف دو مقامی فلموں کی ممکنہ ریلیز اس گہرے خلا کی نشاندہی کرتی ہے جو فلم سازوں، سینما مالکان اور تماشائیوں کے درمیان پیدا ہو چکا ہے۔
سینما ہالز کا مسئلہ اب محض تماشائیوں کی غیر موجودگی نہیں بلکہ نمائش کے لیے فلموں کی شدید قلت بھی ہے۔ باکس آفس کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2018 میں جہاں چار پاکستانی فلمیں نمایاں کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی تھیں، 2022 میں یہ تعداد گھٹ کر دو رہ گئی اور اس کے بعد سے اب تک کوئی نئی مقامی فلم اس فہرست میں جگہ نہیں بنا سکی۔ اداکار شان شاہد کے مطابق ملک میں سینما گھروں کی کمی سے بڑا مسئلہ وہاں چلانے کے لیے معیاری فلموں کی عدم دستیابی ہے۔ ہدایت کار ندیم بیگ اس نظام کی بحالی کے لیے سالانہ کم از کم 12 فلموں کی مسلسل پیداوار کو لازمی قرار دیتے ہیں، کیونکہ ایک یا دو ہٹ فلمیں وقتی طور پر تو مارکیٹ کو سہارا دے سکتی ہیں لیکن پوری صنعت کی معیشت کا پہیہ مستقل بنیادوں پر نہیں چلا سکتیں۔
عوامی تفریح سے اشرافیہ کے ملٹی پلیکسز تک کا سفر
فلموں کی اس قلت کے ساتھ ساتھ سینما کا بدلتا ہوا معاشی ڈھانچہ بھی عام ناظرین کی دوری کی بڑی وجہ ہے۔ پروڈیوسر کنول کھوسٹ کے مطابق جدید ملٹی پلیکس کلچر نے اگرچہ فلم دیکھنے کے ماحول کو بہتر بنایا، لیکن ساتھ ہی ٹکٹ کی قیمتوں کو عام آدمی کی پہنچ سے باہر کر دیا۔ جب ایک خاندان کو فلم دیکھنے کے لیے بھاری رقم، سفر اور کھانے پینے کے اخراجات برداشت کرنے پڑیں تو سینما ایک عوامی تفریح رہنے کے بجائے محدود طبقے کا مشغلہ بن جاتا ہے۔ ہدایت کار یاسر نواز کا کہنا ہے کہ جب تک ٹکٹ کی قیمتوں اور نمائش کنندگان کی فیسوں میں کمی نہیں کی جاتی اور حکومت واضح پالیسی کے ساتھ آگے نہیں آتی، تب تک عام تماشائی کو واپس لانا ممکن نہیں ہوگا۔
حکومتی سرپرستی کے فقدان اور سپلائی چین کے بکھراؤ نے اس بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ اداکاد ہمایوں سعید کے مطابق فلمی بحالی کے لیے صرف فلم بنانا کافی نہیں بلکہ فکری خیال، اسکرپٹ، پروڈکشن، تقسیم اور نمائش پر مشتمل پورے نظام کو مضبوط کرنا ہوگا۔ اگر اس سلسلے کی ایک کڑی بھی کمزور رہ جائے تو اچھی فلم بھی اپنا پورا معاشی فائدہ حاصل نہیں کر پاتی۔
اسٹریمنگ پلیٹ فارمز: خطرہ یا عالمی شناخت کا موقع؟
سنیما کے زوال پر ہونے والی بحث میں او ٹی ٹی (OTT) پلیٹ فارمز سب سے زیادہ زیرِ بحث آتے ہیں۔ نیٹ فلکس (Netflix)، ایمیزون پرائم (Amazon Prime)، زی فائیو (Zee5) اور افلکس (iflix) جیسے ڈیجیٹل ذرائع نے ناظرین کو گھر بیٹھے سستا اور متنوع مواد دیکھنے کی سہولت دی ہے۔ تاہم، اس ڈیجیٹل تبدیلی نے صرف سینما ہالز کے ناظرین کو متاثر نہیں کیا بلکہ پاکستانی ڈراموں اور ویب سیریز کو عالمی سرحدوں سے پار بھی پہنچایا ہے۔
’سُن میرے دل‘، ’دلِ نادان‘، ’چُڑیلز‘، ’رخسار‘، ’ایک جھوٹی لو اسٹوری‘ اور ’برزخ‘ جیسے منصوبوں نے مشرقِ وسطیٰ، بھارت اور عالمی سطح پر توجہ حاصل کی، جبکہ فواد خان اور صنم سعید کی ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کی متوقع ریلیز اس رسائی کی ایک اور مثال ہے۔ یعنی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے مقامی تخلیق کاروں کے لیے ایک نیا عالمی در کھولا ہے، مگر اس کا خمیازہ سینما ہالز کو بھگتنا پڑا ہے۔
نئے ٹیلنٹ کی حوصلہ افزائی اور نظام کی اصلاح
ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت (AI) یا اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کو تمام مسائل کا ذمہ دار قرار دینا حقیقت سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہے۔ اداکار وہاج علی اور واسے چودھری کے مطابق کوئی بھی ڈیجیٹل پلیٹ فارم سینما کے حقیقی تجربے کو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتا، بشرطیکہ پروڈکشن کا معیار بہتر ہو۔ اصل چیلنج مواد کے معیار اور نوجوان تخلیق کاروں کی تربیت کا ہے۔
اداکار نیر اعجاز اور پرویز کلیم کے مطابق اسکرپٹ رائٹنگ کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے سینئر فنکاروں کو نوجوان لکھنے والوں کی رہنمائی کرنا ہوگی۔ اسی طرح شان شاہد کا ماننا ہے کہ نوجوان فلم سازوں کو مالی وسائل اور مواقع فراہم کرنا انڈسٹری کی ترجیح ہونی چاہیے۔ اگر نئے لکھنے والوں، ہدایت کاروں اور تکنیکی ماہرین کے لیے راستے بند رہیں تو نئی نسل کے ناظرین کو سینما کی طرف مائل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔
پاکستان میں ڈراما انڈسٹری کی مقبولیت یہ ثابت کرتی ہے کہ مقامی کہانیوں میں ناظرین کو متوجہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا فلمی صنعت سے وابستہ افراد، نمائش کنندگان اور حکومت مل کر اس بکھرے ہوئے نظام کو ایک منظم شکل دے سکتے ہیں، یا پھر سینما کا پردہ یوٹیوب اور اسٹریمنگ اسکرینوں کے سامنے خاموشی سے جھک جائے گا۔





تبصرے