اربوں لوگوں کے دلوں پر راج کرنے والے بھارتی سینما کا تلخ سچ یہ ہے کہ اس کا صرف دو سے تین فیصد ناظر سینما ہال تک پہنچ پاتا ہے۔ ملٹی پلیکس کی مہنگی ٹکٹوں اور بائیکاٹ کی سیاست کے درمیان عامر خان اپنی نئی فلم ’ستارے زمین پر‘ کو 100 روپے میں یوٹیوب پر لا کر فلمی معیشت کا ایک بالکل نیا ماڈل آزما رہے ہیں۔


بھارتی سینما کا سحر پورے جنوبی ایشیائی خطے پر طاری رہتا ہے، لیکن اس کی چمک دمک کے پیچھے ایک ایسا عدد چھپا ہے جو اس صنعت کے دائرہ کار کی اصل حقیقت بیان کرتا ہے۔ ایک ارب چالیس کروڑ آبادی کے ملک میں، جہاں فلمی ستاروں کو غیر معمولی شہرت حاصل ہے، بمشکل دو سے تین فیصد لوگ باقاعدگی سے سینما ہال کا رخ کرتے ہیں۔ یہ تناسب یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ بالی ووڈ جس وسیع ثقافتی اثر و رسوخ کا دعویٰ کرتا ہے، اس کا ایک بہت بڑا حصہ پردہ سیمیں کے بجائے ٹیلی ویژن، پائریٹڈ ویڈیوز اور اب موبائل فون کی چھوٹی اسکرینوں پر سانس لے رہا ہے۔


عامر خان گزشتہ ایک دہائی سے اس بنیادی تضاد کو حل کرنے کی فکر میں ہیں۔ ان کی پہلی فلم کے دور میں جب ٹکٹ محض دس روپے کا ہوا کرتا تھا، تو سینما کا دورہ ایک خاندانی اور عوامی تفریح کی حیثیت رکھتا تھا۔ لیکن ملٹی پلیکس کلچر کی آمد نے جہاں فلم بینوں کو جدید ماحول اور صوتی نظام دیا، وہیں ٹکٹ کی قیمتوں کو 500 روپے اور اس سے بھی اوپر پہنچا دیا۔ جب ایک متوسط طبقے کے خاندان کو ایک فلم دیکھنے کے لیے سفر اور کھانے پینے سمیت اپنی جیب پر بڑا بوجھ ڈالنا پڑے، تو سینما خود بخود عوام کی تفریح رہنے کے بجائے ایک مخصوص طبقے کا مشغلہ بن جاتا ہے۔


ملٹی پلیکس کلچر اور بچھڑتا ہوا عام تماشائی

مسئلہ صرف ٹکٹ کی گراں قدر قیمت کا نہیں بلکہ دیہی اور دور دراز علاقوں میں سینما گھروں کی عدم موجودگی بھی ہے۔ عامر خان نے برسوں پہلے ایک ایسا منصوبہ تجویز کیا تھا جس کے تحت سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے چھوٹے شہروں اور دیہاتوں میں ہزاروں کم لاگت سینما قائم کیے جا سکتے تھے۔ مگر بیوروکریسی کے روایتی سرخ فیتے اور انتظامی الجھنوں نے اس خیال کو کاغذوں سے باہر نکلنے نہ دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہ تماشائی جو سینما کی بھاری فیس ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا تھا، وہ آہستہ آہستہ فلمی صنعت کے معاشی دائرے سے باہر ہو گیا۔


جب قانونی اور مناسب ذرائع بند ہو جائیں تو ناظرین اپنا راستہ خود تلاش کر لیتے ہیں۔ عوام نے ٹی وی نشریات کا انتظار کرنا شروع کیا یا پھر انٹرنیٹ پر موجود غیر قانونی اور ناقص معیار کی فلموں کا سہارا لیا۔ اس تبدیلی نے فلم سازوں، تقسیم کاروں اور سنیما مالکان کو ایک معاشی بحران میں مبتلا کر دیا، کیونکہ جو رقم فلم کی تیاری اور بہتری پر خرچ ہونی چاہیے تھی، وہ تماشائی کی جیب سے نکل کر فلمی معیشت میں داخل ہی نہیں ہو پا رہی تھی۔


49 کروڑ جیبوں میں بند سینما کا نیا تجربہ

اسی معاشی خلا کو پُر کرنے کے لیے عامر خان اپنی آنے والی فلم ’ستارے زمین پر‘ کے ذریعے ایک نیا تجربہ کرنے جا رہے ہیں۔ منصوبہ یہ ہے کہ فلم کی روایتی سینما نمائش مکمل ہونے کے بعد اسے یوٹیوب پر محض 100 بھارتی روپے میں قانونی طور پر دستیاب کرایا جائے گا۔ اس ماڈل کی منطق سادہ مگر عمیق ہے: 100 روپے کا ٹکٹ کسی ایک فرد کے لیے نہیں بلکہ پورے خاندان کے لیے ہوگا۔ دیہی علاقوں یا متوسط گھرانوں میں چار پانچ افراد یا پڑوسی مل کر اگر یہ رقم ادا کریں تو فی کس لاگت اتنی کم رہ جاتی ہے کہ یہ موبائل ریچارج سے بھی سستا سودا بن جاتا ہے۔


اس تجربے کے لیے روایتی اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کے بجائے یوٹیوب کا انتخاب اتفاقی نہیں ہے۔ بھارت میں نیٹ فلکس کے صارفین کی تعداد محض ایک کروڑ بیس لاکھ کے قریب ہے، جبکہ یوٹیوب 49 کروڑ سے زائد افراد کی پہنچ میں ہے۔ نیا سینما ہال بنانے کے لیے زمین، عمارت اور درجنوں سرکاری اجازت ناموں کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم پہلے ہی ملک کی نصف آبادی کی جیب میں موجود ہے۔ عامر خان اس ماڈل سے سینما کا متبادل تلاش نہیں کر رہے، بلکہ وہ اس 97 فیصد ناظرین تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں جنہیں موجودہ سینما نظام نے بالکل فراموش کر دیا ہے۔


او ٹی ٹی کی محدودیت اور سیاسی دباؤ کی لہر

تجارتی اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کے حوالے سے عامر خان کے تحفظات بھی بے جا نہیں ہیں۔ ان کے نزدیک او ٹی ٹی نے بھارتی فلم کو وہ استحکام نہیں دیا جس کا وعدہ کیا گیا تھا۔ اکثر فلمیں سبسکرپشن ماڈل میں داخل ہوتے ہی مواد کے بے انتہا ہجوم میں گم ہو جاتی ہیں اور ان کی انفرادیت ختم ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس، یوٹیوب پر ایک مخصوص فلم کا براہ راست ادائیگی کے تحت الگ سے دستیاب ہونا اس کو ایک خاص ترجیح اور توجہ فراہم کرتا ہے۔


لیکن بالی ووڈ کا موجودہ بحران صرف مالیاتی نہیں ہے؛ اس کے پیچھے تخلیقی پابندیاں اور سیاسی کھینچ تان بھی شامل ہے۔ حالیہ برسوں میں سنسرشپ کے سخت ضوابط اور سیاسی دباؤ نے حساس یا معروضی موضوعات پر فلم سازی کو بے حد مشکل بنا دیا ہے۔ عامر خان، شاہ رخ خان اور سلمان خان پر مشتمل ’خانس‘ کی مثلث، جسے کبھی ہندوستانی سینما کی بلا شرکت غیرے پہچان سمجھا جاتا تھا، اب ہندو قوم پرست حلقوں کی جانب سے مسلسل تنقید اور بائیکاٹ مہمات کی زد میں رہی ہے۔ عامر خان کے عدم برداشت کے حوالے سے دیے گئے پرانے بیانات آج بھی ان کا پیچھا کر رہے ہیں، جس نے ان کے تخلیقی سفر کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔


کورونا وبا کے دوران خاموشی سے کام چھوڑنے اور ریٹائرمنٹ کے خیالات پر غور کرنے کے باوجود عامر خان نے فلم سازی سے رشتہ نہیں توڑا۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر بنیادی ڈھانچہ عام ناظرین کو دور دھکیل رہا ہے تو محض ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنے کے بجائے نئے راستے بنانا ضروری ہے۔ اگر 100 روپے کی یہ حکمت عملی کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ نہ صرف فلم سازوں کو معاشی تحفظ دے گی بلکہ بالی ووڈ کو ان کے اصل ناظرین سے دوبارہ جوڑ دے گی۔ اور اگر یہ تجربہ ناکام ہوتا ہے تو سوال پھر بھی قائم رہے گا کہ کیا مسئلہ صرف قیمت کا تھا، یا کہانیاں خود اپنا اثر کھو چکی ہیں۔


سینما کا مستقبل شاید اب بڑے ہالز کی تعمير کے بجائے اس بات پر منحصر ہے کہ فلم ساز اپنے تماشائی کو کہاں اور کس قیمت پر تلاش کرتے ہیں۔