خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں سیکیورٹی فورسز کا اہم آپریشن، 10 دہشت گرد ہلاکحکومت پاک ایران گیس پائپ لائن پر ٹرمپ سے ہم پر عائد پابندی ہٹانے کا کہے: راجہ ناصر عباسنائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز پر حملے کی شدید مذمت، 3 پاکستانیوں کی شہادت پر تعزیتملک بھر میں پیٹرول کی قیمت میں 1.70 روپے فی لیٹر کمی کا اعلاناسٹیٹ بینک آف پاکستان کا شرح سود میں کمی کا امکان
LIVE
Bitcoin rises above $80,000 as soft dollar, debasement fears boost momentumDocumentary NAZA on 'mass killing of Palestinian civilians' vying for Golden Lion at Venice Film Festival
مذہب
[DEV-FRONTEND-DATASET] Temporary category for local frontend design testing.
پاکستان میں توہینِ مذہب کے قوانین اور ان کے عمومی اطلاق کا موضوع دہائیوں سے سیاسی اور سماجی مباحث کا مرکز رہا ہے۔ 1860ء کے برطانوی نوآبادیاتی دور کے تعزیراتِ ہند سے شروع ہونے والا یہ قانونی سفر 1927ء میں شق 295-A اور پھر 1980ء کی دہائی میں جنرل ضیاء الحق کے دور کی ترمیمات، بشمول 1986ء کی شق 295-C پر منتج ہوا۔ 1990ء میں وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے بعد اس شق کے تحت سزائے موت کو واحد اور لازمی سزا قرار دیا گیا۔ 2017ء کے الیکشن ایکٹ تنازع اور فیض آباد دھرنے کے واقعات نے یہ واضح کیا کہ مذہبی جذبات اور قانونی شقیں ملک کے سیاسی و انتظامی نظام کو کس طرح متاثر کرتی ہیں۔
پاکستان میں توہین سے متعلق قوانین اور ان کے اطلاق کا معاملہ ایک بار پھر زیرِ بحث ہے۔ سینٹر فار سوشل جسٹس (CSJ) کے اعداد و شمار کے مطابق 1980ء کی دہائی میں جنرل ضیاء الحق کے دورِ حکومت میں تعزیراتِ پاکستان کی شق 295 کی توسیع کے بعد سے مقدمات میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سال 2023ء تک ہزاروں افراد پر الزامات عائد کیے جا چکے ہیں، جن میں اکثریت مسلمانوں کی ہے جبکہ اقلیتی برادریاں بھی شدید متاثر ہوئی ہیں۔ ایک طرف جہاں ان قوانین کو ذاتی و سیاسی مخاصمتوں میں استعمال کرنے کے خدشات ظاہر کیے جاتے ہیں، وہیں دوسری جانب پارلیمان نے سزاؤں میں مزید اضافے کا بل پاس کیا ہے، جس پر متعدد حلقوں کی جانب سے قانونی اور انسانی حقوق کے تحفظات اٹھائے جا رہے ہیں۔
خیبر پختونخوا کے ضلع کرک میں واقع شری پرمہنس جی مہاراج کے آستانے پر ہجوم کا حملہ اس تلخ حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد کی ایک بڑی وجہ نجی تنازعات ہیں۔ دہائیوں کی قانونی جدوجہد اور 2015 میں سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد بحال ہونے والے اس مندر کو ایک توسیع پسندانہ ٹھیکے کے جھگڑے پر اشتعال انگیز نعروں کے ذریعے نذرِ آتش کر دیا گیا۔ آسیہ بی بی کیس، بادامی باغ لاہور اور جھنگ میں پولیس اور وکلاء کے تصادم جیسے واقعات یہ ثابت کرتے ہیں کہ نجی مخاصمتوں کا حساب برابر کرنے کے لیے مذہب کو اکثر ایک آسان اور مہلک ہتھیار کے طور پر برتا جاتا ہے۔
5 جولائی 1977ء کو جنرل ضیاء الحق کے فوجی تاخت نے پاکستان کو نہ صرف اس کے تیسرے اور طویل ترین مارشل لا کے سپرد کیا بلکہ ملک کی آئینی و سیاسی سمت کو بھی مستقل طور پر بدل دیا۔ قائدِ اعظم محمد علی جناح کے جمہوری تصور کے برعکس، جنرل ضیاء نے ریاست کو ایک ایسے مذہبی اور آئینی ڈھانچے میں ڈھال دیا جو تین دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد بھی ملکی نظام پر نافذ ہے۔ اس تبدیلی کی جڑیں قیامِ پاکستان کے ابتدائی سالوں میں جمہوری اور مذہبی گروہوں کے درمیان جاری کشمکش سے ملتی ہیں۔ اس تجزیے میں 1940ء کی قراردادِ لاہور سے لے کر قیامِ پاکستان کے بعد کے واقعات، ذوالفقار علی بھٹو کے اقدامات اور ضیاء الحق کے نو سالہ دورِ حکومت میں کی جانے والی ان آئینی و سماجی تبدیلیوں کا احاطہ کیا گیا ہے جنہوں نے آج کے پاکستان کی شکل تعين کی ہے۔