خیبر پختونخوا کے ضلع کرک میں واقع شری پرمہنس جی مہاراج کے آستانے کی کہانی پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کی مسلسل جدوجہد اور بے بسی کا ایک واضح اشاریہ ہے۔ ہندو برادری نے دہائیوں کی قانونی و انتظامی جنگ کے بعد، مقامی جرگوں، متروکہ وقف املاک بورڈ اور وزارتِ مذہبی امور کی راہداریوں سے ہوتے ہوئے، 2015 میں سپریم کورٹ کے تاریخی حکم پر اس مندر کی بحالی کے حقوق حاصل کیے تھے۔ تاہم، برسوں کی محنت پر اُس وقت پانی پھیر دیا گیا جب ایک مقامی مذہبی رہنما نے ہجوم کو بھڑکا کر اس مندر کو نذرِ آتش کر دیا۔

پولیس کی درج کردہ ایف آئی آر کے مطابق، ہزار سے زائد افراد پر مشتمل اس ہجوم کو اشتعال دلاتے ہوئے مظاہرین سے یہ کہا گیا کہ مندر مسمار کرنے کے دوران مرنے والا شہید کہلائے گا۔ اس تحریض کے بعد ہجوم نے مندر پر حملہ کر کے اسے شدید نقصان پہنچایا۔ تاہم اس واقعے کا سب سے اہم پہلو اس کے پس منظر میں چھپا وہ تنازع تھا جو مذہبی سے زیادہ مکمل طور پر ذاتی اور مالی نوعیت کا تھا—یعنی مندر کی توسیع کے ایک ٹھیکے پر پیدا ہونے والا جھگڑا۔

ذاتی تنازعات اور عقیدے کا بطور ہتھیار استعمال

پاکستان میں اقلیتوں کے خلاف متشدد واقعات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے تو اکثر معاملات کے پیچھے مذہب کے بجائے نجی اور معاشی تنازعات نظر آتے ہیں، جنہیں نمٹانے کے لیے مذہبی جذبات کو ایک آسان اور مہلک ہتھیار کے طور پر برتا جاتا ہے۔ کرک کا واقعہ اس سلسلۃ الذهب کی اکیلی کڑی نہیں ہے۔

اس کی واضح مثالوں میں آسیہ بی بی کا کیس شامل ہے، جس کی بنیاد دراصل پانی پینے کے ایک پیالے پر ہونے والی بحث سے پڑی تھی اور بعد میں اسے مذہبی رنگ دیا گیا۔ اسی طرح 2013 میں لاہور میں ایک مقامی حجام اور مسیحی صفائی کے اہلکار کے درمیان جھگڑے کے بعد جذبات کو اشتعال دے کر 150 مکانات اور دو گرجا گھروں کو آگ لگا دی گئی۔ 2014 میں جھنگ میں وکلاء اور پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپ کے بعد پولیس نے اپنا حساب برابر کرنے کے لیے 68 وکلاء کے خلاف توہینِ مذہب کے الزامات عائد کر دیے۔

کالم نگار اور انسانی حقوق کے رہنما آئی اے رحمان نے ایک بار نیویارک ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے نشاندہی کی تھی کہ 'بلاسبھیمی' اب محض ایک قانون یا جنائی مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ ایک سیاسی اور معاشرتی حربہ بن چکا ہے جسے آوازیں دبانے اور خوف کا ماحول قائم کرنے کے لیے برتا جاتا ہے۔ قانون کی سخت نوعیت اور اکثریت کے جذباتی ردِعمل کی وجہ سے نجی مخاصمتوں کا رخ اقلیتوں کی طرف موڑنا انتہائی آسان ہو گیا ہے۔

تعلیمی نصاب، معاشی ناہمواری اور سیاسی نااہلی

کسی بھی ناخوشگوار واقعے کے بعد حکومت کی جانب سے گرفتاریوں اور انکوائری کے احکامات محض اضطراری تدابیر ہوتے ہیں، جب کہ اصل مسئلہ ان گہری معاشرتی اور معاشی ناہمواریوں میں ہے جنہیں حل کرنے کی سنجیدہ کوششیں کبھی نہیں کی گئیں۔

پاکستان میں اقلیتی برادریاں صرف تشدد ہی نہیں بلکہ روزمرہ کی سطح پر امتیازی سلوک اور تحقیر کا بھی سامنا کرتی ہیں۔ معاشی طور پر انہیں اکثر ان شعبوں یا ملازمتوں تک محدود کر دیا جاتا ہے جنہیں دیگر لوگ اختیار نہیں کرنا چاہتے۔ سندھ میں جبری تبدیلیِ مذہب کے اکثر واقعات بھی ان غریب اقلیتی خاندانوں کے ساتھ پیش آتے ہیں جو زمینداروں یا معاشی نظام کی بیگار میں پھنسے ہوتے ہیں۔ نظامِ عدل بھی اس وقت بے بس دکھائی دیتا ہے جب متاثرہ فریق کے پاس معاشی یا سیاسی اثر و رسوخ موجود نہ ہو۔

اس تعصب کا ایک بڑا ماخذ ہمارا تعلیمی نصاب بھی ہے، جہاں بچوں کی تربیت میں دیگر مذاہب کے پیروکاروں کو تاریخی دشمن کے طور پر پیش کیا جاتا رہا۔ سیاسی قیادت کا رویہ بھی اس تعصب کو روکنے میں ناکام رہا ہے۔ مثال کے طور پر فیاض الحسن چوہان کی جانب سے ہندو برادری کے خلاف توہین آمیز الفاظ کے استعمال پر محض برائے نام کارروائی کی گئی اور جلد ہی انہیں دوبارہ پنجاب کابینہ کا حصہ بنا لیا گیا۔

حکومتی سطح پر محض بیانات اور ہنگامی گرفتاریوں سے اقلیتوں کے دلوں میں پھیلا ہوا خوف ختم نہیں ہو سکتا۔ اس صورتحال کو بدلنے کے لیے سیاسی عزم، تعلیمی نصاب میں رواداری کی شمولیت اور اقلیتوں کو معاشی و قانونی تحفظ فراہم کرنے کے لیے طویل المدتی اور بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے۔