ٹک ٹاک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جب کوئی صارف اپنے پسندیدہ اینکر یا انفلوئنسر کو لائیو سٹریمنگ کے دوران ورچوئل 'دل'، 'گلاب' یا دیگر تحائف بھیجتا ہے، تو بظاہر یہ محض پسندیدگی کا ایک بے ضرر اظہار دکھائی دیتا ہے۔ لیکن اس پردے کے پیچھے ایک ایسا پیچیدہ اور تیز رفتار مالیاتی نیٹ ورک متحرک ہے جو روایتی بینکنگ قوانین کی نظروں سے بچ کر اربوں روپے کے غیر قانونی سرمائے کی منتقلی کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔

اس نظام کا طریقہ کار انتہائی سادہ لیکن اثر انگیز ہے۔ صارفین اپنے کریڈٹ کارڈز، موبائل والٹس یا بینک اکاؤنٹس کے ذریعے ورچوئل کرنسی خریدتے ہیں اور سٹریمنگ کے دوران کری ایٹرز کو تحائف کی صورت میں منتقل کرتے ہیں۔ پلیٹ فارم اپنا کمیشن کاٹنے کے بعد باقی رقم کری ایٹر کے داخلی والٹ میں بھیج دیتا ہے، جسے بعد میں مختلف پیمنٹ پروسیسرز کی مدد سے مقامی کرنسی میں کیش کرا لیا جاتا ہے۔ ظاہری طور پر ایک معصومانہ پسندیدگی کا یہ عمل ورچوئل ٹوکنز، داخلی والٹس اور بین الاقوامی پیمنٹ پروسیسرز کے مختلف مراحلی نظام سے گزر کر بینک اکاؤنٹ میں جائز رقم بن کر سامنے آتا ہے۔


بین الاقوامی خدشات اور بلیک ہول

سنہ 2025 میں امریکی ریاست یوٹاہ کے ڈیپارٹمنٹ آف کنزیومر پروٹیکشن کے ایک مقدمے کے دوران بے نقاب ہونے والی دستاویزات نے ٹک ٹاک کے اندرونی ’پراجیکٹ جوپیٹر‘ کا راز فاش کیا۔ سنہ 2021 میں کی جانے والی اس اندرونی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ کمپنی کو خود اپنے لائیو گفٹنگ فیچر کے ذریعے منظم جرائم اور منی لانڈرنگ کا شدید خطرہ لاحق تھا، تاہم اس پر مناسب اقدامات نہیں کیے گئے۔ ترکیہ میں مالیاتی حکام نے ٹک ٹاک اکاؤنٹس کے ذریعے 82 ملین ڈالر کی مشکوک منتقلی پر تحقیقات شروع کیں جن کا تعلق دہشت گردی کی مالی اعانت سے بتایا گیا۔ آسٹریلیا اور برطانیہ کے ریگولیٹرز نے سوال اٹھائے کہ آیا ٹک ٹاک کا ٹوکن سسٹم بغیر لائسنس کے ایک شیڈو بینکنگ سروس کے طور پر کام کر رہا ہے۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) اور اقوام متحدہ کے انسدادِ دہشت گردی کے شعبے نے بھی متنبہ کیا ہے کہ کراؤڈ فنڈنگ اور مائیکرو ڈونیٹنز کے اس انداز کو عسکریت پسند اور مجرمانہ نیٹ ورکس سیکیورٹی اداروں کی نظروں سے اوجھل رہنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

سوشل میڈیا کے ذریعے رقم کی غیر قانونی منتقلی کے اثرات پاکستان پر بھی دکھائی دے رہے ہیں۔ سنہ 2025 میں دی آبزرور کی ایک تحقیقاتی رپورٹ نے پاکستان، انڈونیشیا، افغانستان، شام، مصر اور کینیا میں بچوں سے آن لائن بھیک منگوانے کے گروہوں کو بے نقاب کیا، جہاں پسِ پردہ متحرک ہینڈلرز بچوں کو کیمرے کے سامنے لا کر عالمی ناظرین سے ورچوئل تحائف حاصل کرتے اور رقم سمیٹتے تھے۔ اس سے قبل سنہ 2022 میں سوشل میڈیا شخصیت حریم شاہ کا برطانیہ میں پاؤنڈز کی گڈیاں دکھانے اور نقد رقم لے جانے کا کیس بھی سامنے آیا، جس پر سندھ ہائی کورٹ نے ایف آئی اے کو اقدام سے روکا، مگر اس معاملے نے یہ واضح کر دیا کہ انفلوئنسرز کی برانڈ ڈیلز اور پلیٹ فارم گفٹس سے حاصل ہونے والی آمدن کا کوئی شفاف اور دستاویزی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔

پاکستان میں سنہ 2025 کے اختتام تک سوشل میڈیا صارفین کی تعداد 50 ملین سے تجاوز کر چکی تھی، جبکہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق ملک کی ریٹیل ٹرانزیکشنز کا 88 فیصد حصہ ڈیجیٹل ذرائع سے ہوا جس کا حجم تقریباً 612 کھرب روپے تھا- اتنے بڑے مالیاتی حجم والے ماحول میں غیر منظم پلیٹ فارمز کے ذریعے چھوٹی چھوٹی رقموں کا اخراج ایک بڑا مالیاتی خطرہ بن چکا ہے۔

'مائیکرو لانڈرنگ' اور قوانین کی حدود

اس طریقے کو سمجھنے کے لیے اگر ایک مثال دیکھی جائے: ایک انفلوئنسر مہینے بھر کی سٹریمنگ کے دوران بیسیوں اکاؤنٹس سے 500، 1000 یا 2000 روپے کے چھوٹے چھوٹے تحائف وصول کرتا ہے۔ انفرادی طور پر یہ رقم معمولی لگتی ہے لیکن مجموعی طور پر یہ 20 لاکھ روپے بن جاتی ہے۔ یہ رقم پلیٹ فارم کے ذرائع سے قانونی طور پر کیش کرا لی جاتی ہے اور کوئی سیکیورٹی الارم نہیں بجتا۔

پاکستان کا اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 (AMLA) بڑی اور ساخت یافتہ مالیاتی منتقلیوں اور روایتی بینکنگ راستوں کی نگرانی کے لیے بنایا گیا تھا۔ یہ قوانین کسی ایک اکاؤنٹ میں ہزاروں گمنام ذرائع سے آنے والے چھوٹے چھوٹے تحائف کے ذریعے ہونے والی 'مائیکرو لانڈرنگ' کا احاطہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز مالیاتی خدمات تو فراہم کر رہے ہیں لیکن انہیں 'مالیاتی ادارے' تسلیم نہیں کیا جاتا، جس کی وجہ سے یہ روایتی بینکنگ ضوابط، کسٹمر کی تصدیق (KYC) اور مشکوک ٹرانزیکشن رپورٹس (STR) سے استثنیٰ حاصل کر لیتے ہیں۔ چین نے کئی سال پہلے اس خامی کو بھانپتے ہوئے لائیو سٹریمنگ پلیٹ فارمز کے لیے حقیقی نام کی تصدیق اور ٹرانزیکشن مانیٹرنگ لازمی قرار دی تھی، مگر پاکستان میں اس حوالے سے قانونی بحث کا آغاز ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔

سائبر کرائم کی روک تھام اور قانون کا توازن

صرف انفرادی ٹرانزیکشنز کی تلاش سے اس منظم جرم کو نہیں روکا جا سکتا۔ اس کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) اور پیٹرن اینالیسس پر مبنی نگرانی کا جدید نظام درکار ہے جو مشکوک اکاؤنٹس، گفٹ بھیجنے کے غیر معمولی رجحانات اور مالیاتی ڈیٹا کا آپس میں موازنہ کر سکے۔ ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ، فنانشل مانیٹرنگ یونٹ (FMU)، پی ٹی اے اور صوبائی پولیس کے درمیان ایک مرکزی ڈیجیٹل فنانشل کرائم ڈیش بورڈ کا قیام اس سلسلے میں پہلا عملی قدم ہو سکتا ہے۔

تاہم، اس قانون سازی اور مانیٹرنگ میں اس بات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے کہ پاکستان میں لائیو سٹریمنگ اور یوٹیوب کے ذریعے قانونی روزگار کمانے والے عام کری ایٹرز متاثر نہ ہوں۔ سخت ترین پابندیاں ڈیجیٹل شعبے کی ترقی کو متاثر کر سکتی ہیں اور لوگوں کو دوبارہ غیر رسمی نقد معیشت کی طرف دھکیل سکتی ہیں۔ اس لیے ایک متوازن حکمتِ عملی کی ضرورت ہے جس میں صرف زیادہ خطرے والے یا غیر معمولی رقوم کی منتقلی والے اکاؤنٹس کی جانچ پرتھال کی جائے۔ ہدف ڈیجیٹل روزگار پر قدغن لگانا نہیں بلکہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ تفریحی پلیٹ فارمز غیر قانونی رقم کی منتقلی کا شیڈو چینل نہ بنیں۔