پاکستانی معاشرے میں غیر یقینی صورتحال اور باہمی عدمِ اعتماد نے اس حد تک جڑیں پکڑ لی ہیں کہ شہری نہ صرف ریاست کے انتظامی نظام بلکہ ایک دوسرے پر بھی بھروسہ کھو رہے ہیں۔ فرقہ وارانہ اور مذہبی کشیدگی اب صرف اقلیتوں تک محدود نہیں رہی بلکہ قانون اپنے ہاتھ میں لینے والے ہجوم اور افراد کا رویہ اس سطح پر پہنچ چکا ہے جہاں ذرا سی بات پر تشدد اور نجی زندگی میں مداخلت کو جائز سمجھا جانے لگا ہے۔ اس صورتحال کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ مذہبی شدت پسندی کا دائرہ اب خود اکثریت کو بھی لپیٹ میں لے رہا ہے۔
شدت پسند گروہوں کے بدلے ہوئے طریقے اور انتظامیہ کا کردار
منظم متشدد گروہوں نے حالیہ سالوں میں اپنی حکمتِ عملی میں واضح تبدیلی کی ہے۔ اب ایک متعین طریقہ کار دیکھنے میں آتا ہے جہاں قیادت پہلے ہجوم کو قانون ہاتھ میں لینے پر اکساتی ہے اور اقلیتوں یا مخالفین کو نشانہ بنائے جانے کے بعد منظرِ عام پر آ کر مقامی انتظامیہ اور قانونی برادری کے ساتھ مذاکرات شروع کر دیتی ہے۔ پولیس اور مقامی انتظامیہ امن و امان قائم رکھنے کی مجبوری یا خود مذہبی خیالات سے متاثر ہونے کی وجہ سے اکثر ان عناصر سے تعاون کرتی ہے، جس کا نتیجہ سنگین جرائم میں ملوث افراد کی بظاہر بچت کی صورت میں نکلتا ہے۔
اس کے ساتھ ہی ان گروہوں کی سوشل میڈیا ٹیمیں متحرک ہو کر عام لوگوں میں ہمدردیاں پیدا کرتی ہیں اور ریاستی اداروں پر یہ تاثر قائم کرتی ہیں کہ کارروائی کی صورت میں حالات خراب ہو سکتے ہیں۔ ایوانوں اور سیاسی جماعتوں میں موجود رابطوں کو بھی ملزمان کو تحفظ دینے کے لیے برتا جاتا ہے۔ دائرہ اس حد تک تنگ ہو چکا ہے کہ وکلاء برادری کی جانب سے بھی بسا اوقات ان اقدامات کے لیے قانونی جواز تراشے جاتے ہیں، جبکہ ضیاء الحق کے دور اور اس کے بعد کی حکومتوں میں بننے والی قانونی شقوں کو مخالفین کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔
قانون سازی کا جلد بازی میں عمل اور کثرتِ رائے کا دباؤ
اگست 2023ء میں پی ڈی ایم حکومت (پی ڈی ایم میں شامل ن لیگ اور پی پی پی) نے اپنے آخری دنوں میں ایک ہی دن میں 48 قانون ساز بل منظور کر کے عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ ان میں تعزیراتِ پاکستان 1860ء اور ضابطہ فوجداری 1898ء میں ایسی ترمیمات شامل تھیں جن کا مقصد اہل بیت اور صحابہ کرام کی توہین پر سزاؤں میں اضافہ کرنا تھا۔ جماعتِ اسلامی کے چترال سے تعلق رکھنے والے ایک پارلیمنٹرین کی جانب سے پیش کیا گیا یہ بل بغیر کسی مفصل بحث کے منظور کر لیا گیا۔
تاہم، اس قانون سازی کا فوری اور دلچسپ نتیجہ اس وقت سامنے آیا جب خود بل پیش کرنے والے رکنِ اسمبلی کے ایک انتہائی قریبی ساتھی کے خلاف چترال میں اسی ترمیم شدہ قانون کے تحت مقدمہ درج ہو گیا۔ اگرچہ مذہبی جماعتوں کے دباؤ اور تحریری معذرت کے بعد معاملہ حل ہو گیا، لیکن اس واقعے نے یہ واضح کر دیا کہ مذہبی قوانین کا بے دریغ توسیع پسندانہ استعمال اب خود اکثریت کے لیے بھی خطرہ بن رہا ہے۔
ہائی کورٹ کی جانب سے حکومت کو ایک ایسے کمیشن کے قیام کا مشورہ بھی دیا جا چکا ہے جو ایف آئی اے اور بعض مذہبی عناصر کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ اور جھوٹے مقدمات میں شہریوں کو پھنسانے (انٹریپمنٹ) کے الزامات کی تحقیقات کرے۔ روزمرہ کی زندگی میں اب عام شہری بھی مذہبی موضوعات پر گفتگو کرتے ہوئے خوف محسوس کرتے ہیں۔ ریاستی اداروں اور سول سوسائٹی کے درمیان جمہوریت اور آئینی حقوق پر بنیادی اختلافات موجود ہیں، جبکہ کئی موقعوں پر انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997ء کی شق 11B(1) کے تحت قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیے گئے گروہ بھی ریاستی بیانیے کی حمایت میں پیش پیش نظر آتے ہیں۔ قانون سازی کا یہ جلد بازانہ انداز اور احتساب کا فقدان معاشرتی تانے بانے کو مسلسل زوال کی طرف دھکیل رہا ہے۔





تبصرے