صبح بیدار ہوتے ہی موبائل سکرین پر نظریں ڈالنے سے لے کر رات دیر گئے نوٹیفیکیشنز کی گھنٹی پر چونکنے تک، اسمارٹ فون خاموشی سے ہماری زندگیوں کے معمولات کو ترتیب دے رہا ہے۔ دوستوں سے رابطے، خبروں کی اپ ڈیٹس اور اپائنٹمنٹس یاد رکھنے کا یہ ذریعہ اب انسانی دماغ اور اعصاب پر غیر محسوس دباؤ بڑھانے لگا ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں اسمارٹ فون کے بڑھتے ہوئے استعمال نے نیند کی کمی اور ذہنی تناؤ کی ایک نئی لہر کو جنم دیا ہے، جسے طبی ماہرین ایک خاموش بحران قرار دے رہے ہیں۔

جرمنی کی بریمر اپولون یونیورسٹی آف ہیلتھ اکنامکس میں لیکچر دیتے ہوئے ماہرِ نفسیات نکولا جانسن نے اس بات پر زور دیا ہے کہ جب بھی توجہ اور ارتقاز کے ساتھ کام یا پڑھائی کی ضرورت ہو، اسمارٹ فون کو اپنی نظروں کے سامنے سے ہٹا کر جیب، دراز یا کسی کاغذ کے نیچے رکھ دینا چاہیے۔ مختلف سائنسی مطالعات سے ثابت ہوا ہے کہ موبائل کی سکرین پر کوئی نوٹیفیکیشن آنے پر جب انسان صرف کنکھیوں سے بھی اسے دیکھتا ہے، تو اس کا دماغ تناؤ پیدا کرنے والے ہارمونز خارج کرنا شروع کر دیتا ہے۔ یہ عمل کام کی صلاحیت کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ ذہنی تھکاوٹ کا باعث بنتا ہے۔

نیند کی خرابی اور ڈیجیٹل میڈیا کا اثر

نیند کی خرابی پر تحقیق کرنے والے سائنسدانوں کا متفقہ مشورہ ہے کہ سیل فون کو بیڈ روم کی حد سے دور رکھا جائے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2010ء سے 2017ء کے دوران نیند کی خرابی سے جڑے مسائل میں 300 فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور محققین اس کی بڑی وجہ ڈیجیٹل میڈیا کی تیز رفتار توسیع کو قرار دیتے ہیں۔ رات کو ناکافی یا بوجھل نیند کے بعد جب انسان کم توانائی کے ساتھ دن کا آغاز کرتا ہے، تو جسم میں اسٹریس ہارمونز کی مقدار بڑھ جاتی ہے، جو آگے چل کر مختلف نفسیاتی اور ذہنی بیماریاں پیدا کرنے کا بنیادی سبب بنتی ہے۔

موبائل اور ٹیبلٹ سے نکلنے والی نیلی روشنی نیند کے قدرتی عمل کو شدید متاثر کرتی ہے۔ بالخصوص نوجوان نسل بیڈ سائیڈ ٹیبل پر رکھے فون کی موجودگی سے ایک غیر محسوس بے چینی اور خوف کا شکار رہتی ہے۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر دوسروں کے ساتھ مسلسل موازنہ نوجوانوں کے اعتماد کو مجروح کرتا ہے اور اس نفسیاتی دباؤ سے نکلنا آسان ثابت نہیں ہوتا۔

ذہنی تناؤ کم کرنے کے عملی طریقے

ماہرِ نفسیات نکولا جانسن کی تحقیق کا مقصد ڈیجیٹل میڈیا کی اہمیت کو مسترد کرنا نہیں بلکہ اس کے استعمال سے پیدا ہونے والے تناؤ کو بہتر انداز میں کنٹرول کرنا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے چند انتہائی سادہ مگر مؤثر اقدامات کی تجویز دی ہے:

  1. کمرے میں موبائل کی جگہ روایتی الارم کلاک رکھیں اور وقت دیکھنے کے لیے بازو والی گھڑی کا استعمال کریں۔
  2. رات آٹھ بجے کے بعد اسمارٹ فون استعمال نہ کرنے کا سخت وقت مقرر کریں۔
  3. موبائل کی پُش نوٹیفیکیشنز کو بند رکھیں اور سکرین کو 'بلیک اینڈ وائٹ' موڈ پر منتقل کریں۔
  4. موبائل کے زیادہ استعمال سے بچنے کے لیے کتاب خوانی، چہل قدمی یا ورزش کا سہارا لیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ان بنیادی تبدیلیوں پر عمل کرنے سے جسم میں تناؤ کی سطح فوری طور پر کم ہونے لگتی ہے، جس سے ذہنی اور جسمانی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔