دنیا کے غریب اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں بچوں کی صحت کو ایک خاموش لیکن شدید نوعیت کے بحران کا سامنا ہے۔ جن علاقوں میں کئی دہائیوں سے فاقہ کشی اور غذائی قلت سب سے بڑا چیلنج سمجھی جاتی تھی، وہاں اب پروسیسڈ خوراک کی یلغار اور روزمرہ معمولات کی تبدیلی کے باعث بچوں میں موٹاپا خطرناک حد تک بڑھ رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی معاونت سے سامنے آنے والی ایک وسيع سائنسی تحقیق نے خبردار کیا ہے کہ بچوں میں وزن کے غیر متوازن اضافے کا مرکز اب ترقی یافتہ دنیا سے منتقل ہو کر ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے ممالک میں بن چکا ہے، جہاں کے شعبہ صحت کے پاس اس بحران سے نمٹنے کے لیے ناکافی وسائل موجود ہیں۔

نامور سائنسی جریدے 'نیچر' میں شائع ہونے والی اس رپورٹ میں 200 ممالک کے 5 سے 19 سال کے بچوں اور نوجوانوں کا جائزہ لیا گیا، جس میں 1000 سے زائد دانشوروں اور سائنسدانوں نے حصہ لیا۔ اعداد و شمار کے مطابق پیرو میں لڑکوں میں موٹاپے کی شرح جو 2010ء میں 8 فیصد سے کم تھی، اب بڑھ کر 19 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جبکہ انڈونیشیا میں اسکول جانے والے بچوں میں موٹاپے کا تناسب غذائی قلت کے شکار بچوں سے تجاوز کر گیا ہے۔ چین اور امریکہ کے بعد انڈونیشیا دنیا کا تیسرا بڑا ملک بن چکا ہے جہاں اسکول کے بچوں میں غذائی کمی کے مقابلے میں موٹاپا زیادہ دیکھا جا رہا ہے۔

غیر متعدی بیماریوں کا ابھرتا طوفان

عالمی سطح پر بچوں کی صحت کے معروف ماہر اور ٹورنٹو کے ہسپتال برائے بیمار بچوں کے پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار بھٹا کا کہنا ہے کہ موٹاپے اور غیر متوازن خوراک سے پیدا ہونے والے مسائل اس قدر شدید ہیں کہ وہ گزشتہ چند دہائیوں میں حاصل کی گئی طبی کامیابیوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیو، ایچ آئی وی اور دیگر متعدی بیماریوں کے خلاف ویکسینیشن کے ذریعے بچائی جانے والی لاکھوں جانوں کی کامیابیوں کو غیر متعدی بیماریوں، جیسے ذیابیطس، بلڈ پریشر اور دل کے عارضے کا یہ نیا طوفان بہا کر لے جائے گا۔

طبی ماہرین کے مطابق درمیانی آمدنی والے ممالک میں صدیوں پرانی غذائی قلت کے فوری بعد سستی اور غیر معیاری خوراک کی فراوانی نے صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ہند کے نامور ذیابیطس ریسرچ سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر چترنجن یاج نک کا کہنا ہے کہ تاریخی طور پر غذائی کمی کا شکار رہنے والی آبادی جب اچانک چکنائی اور شکر سے بھرپور پروسیسڈ فوڈز کی طرف منتقل ہوتی ہے، تو یہ جسمانی ساخت اور جینیاتی صحت کے لیے تباہ کن ثابت ہوتا ہے۔ ماہرین اسے ایک ایسا بم قرار دے رہے ہیں جو کسی بھی وقت معاشی و طبی نظام کو مفلوج کر سکتا ہے۔

سستی خوراک، سکرین ٹائم اور سماجی رویے

اس بحران کی ایک دردناک تصویر انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتا کی 15 سالہ انتان پرماتا ساری کی زندگی میں نظر آتی ہے۔ محض چار سال کی عمر میں 35 کلوگرام وزن رکھنے والی انتان کا وزن تلی ہوئی اشیاء، ڈبہ بند کھانوں اور شکر والے مشروبات کے مسلسل استعمال کی وجہ سے 148 کلوگرام تک پہنچ گیا۔ اسکول میں ساتھی بچوں کی تضحیک کے باعث اس نے 12 سال کی عمر میں تعلیم چھوڑ دی اور خود کو گھر کے ایک کمرے میں محدود کر لیا۔ ماہرینِ نفسیات اور ماہرینِ غذائیت کی کوششوں کی ناکامی کے بعد بالآخر اسے جدید اینٹی اوبیسٹی ادویات کے علاج سے گزارا گیا، جس کے بعد اس کا وزن 40 کلوگرام کم ہوا اور وہ دوبارہ اسکول جانے کے قابل ہوئی۔

تاہم دنیا بھر میں انتان جیسے لاکھوں بچوں کے لیے ایسی مہنگی ادویات تک رسائی ناممکن ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے اندازے کے مطابق 2030ء تک دنیا میں صرف 10 فیصد متاثرہ افراد ہی ان جدید ادویات کو حاصل کر سکیں گے۔ اس کی بڑی وجہ ادویات کی بلند قیمتیں اور محدود پیداوار ہے، جبکہ زیادہ تر ممالک میں 12 سال سے کم عمر بچوں کے لیے ان ادویات کے استعمال کی قانونی اجازت بھی موجود نہیں۔

معاشی تباہ کاری اور پالیسی سازی کا فقدان

بچوں میں بڑھتے ہوئے موٹاپے کا مسئلہ محض انفرادی صحت تک محدود نہیں بلکہ اس کے سنگین معاشی نتائج بھی سامنے آ رہے ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کا تخمینہ ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو 2030ء تک اوور ویٹ اور موٹاپے کے باعث عالمی معیشت کو طبی اخراجات، کم ہوتی پیداواری صلاحیت اور قبل از وقت اموات کی صورت میں 3 ٹریلین ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔ انڈونیشیا میں یہ معاشی بوجھ 2019ء کے 17.5 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2030ء میں 47 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔

بحران کے باوجود ترقی پذیر ممالک میں حکومتی سطح پر اس مسئلے کی سنگینی کا احساس کم ہے۔ انڈونیشیا میں مارکیٹ کی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ سپر مارکیٹوں میں فروخت ہونے والی خوراک میں سے صرف 21 فیصد عالمی صحتی معیار پر پوری اترتی ہے، جبکہ میٹھے مشروبات پر ٹیکس اور غیر معیاری اشیاء کی تشہیر پر پابندی جیسے قوانین کو انڈسٹری کے دباؤ کے باعث مؤخر کیا جا رہا ہے۔ طبی ماہرین کا متفقہ طور پر ماننا ہے کہ جب تک حکومتیں جنک فوڈ انڈسٹری پر سخت ضوابط لاگو نہیں کریں گی اور اسکولوں کی سطح پر صحتمند خوراک کی فراہمی یقینی نہیں بنائیں گی، تب تک نئی نسل کو اس خطرناک المیے سے بچانا ممکن نہیں ہوگا۔