پنجاب کے میدانی علاقوں اور پوٹھوہار کے پلیٹو کو پیچھے چھوڑتے ہوئے جب سڑک ہزارہ ڈویژن کی بالائی وادیوں کی طرف مڑتی ہے، تو پاکستان کی قدرتی خوبصورتی کا ایک نیا باب کھلتا ہے۔ دریائے چناب کے پل اور پوٹھوہار کی پہاڑیوں سے گزر کر کاکول، مانسہرہ اور بالاکوٹ کے راستے ناران اور وادیِ کاغان تک کا سفر محض جغرافیائی تبدیلی نہیں بلکہ خطے کی ماحولیاتی اور ثقافتی تنوع کی عکاسی کرتا ہے۔ دریائے کنہار کے ساتھ ساتھ بل کھاتی سڑک سیاحوں کو 155 کلومیٹر پر پھیلی اس وادی کے ان گوشوں تک لے جاتی ہے جہاں 17 ہزار فٹ بلند ملکہ پربت اور مکرہ پیک جیسے پہاڑ ایستادہ ہیں۔

وادیِ کاغان کا سلسلہ بابوسر پاس کے پاس 2,134 میٹر سے شروع ہو کر 4,173 میٹر کی بلندی تک جاتا ہے۔ اس وادی کے مرکزی راستے پر شوگران اور سری پائے کے سرسبز میدان واقع ہیں جہاں سے مکرہ پیک کا نظارہ ہوتا ہے۔ ناران کا بازار سیاحتی سرگرمیوں کا مرکز ہے، جہاں سے آگے لالہ زار کا دشوار گزار جیپ ٹریک اور جلکھڈ کے راستے بائسل کا علاقہ آتا ہے۔ بائسل سے ایک پیدل ٹریک دودپت سر جھیل کی طرف جاتا ہے، جبکہ مرکزی سڑک ڈھائی کلومیٹر طویل پراسرار للوسر جھیل سے ہوتی ہوئی بابوسر پاس تک پہنچتی ہے۔ بابوسر کے پار گیٹی داس کے میدان موجود ہیں جہاں چلاس کی ٹیموں کے درمیان روایتی پولو کے مقابلے منعقد ہوتے ہیں اور آگے تھک نالہ قراقرم ہائی وے کے ذریعے چلاس کو جوڑتا ہے۔

برفانی راستے اور جھیل سیف الملوک کا دشوار گزار ٹریک

موسمِ سرما اور اوائلِ بہار میں جب برف باری کے باعث جھیل سیف الملوک کا جیپ ٹریک مکمل طور پر بند ہو جاتا ہے، تو جھیل تک رسائی صرف پیدل سفر کے ذریعے ہی ممکن ہوتی ہے۔ ناران سے تقریباً ایک کلومیٹر دور مقامی گائیڈ یا پورٹر کی خدمات حاصل کر کے برف سے ڈھکے ہوئے عمودی پہاڑی راستوں پر چڑھائی شروع ہوتی ہے۔ چار گھنٹے پر محیط اس تھکا دینے والے ٹریک پر شدید برفانی انعکاس اور مسلسل چڑھائی مسافروں کے صبر و ہمت کا امتحان لیتی ہے۔ اس موسم میں جھیل سیف الملوک کا پانی نظر نہیں آتا بلکہ پوری جھیل اور اس کے ارد گرد موجود پہاڑ برف کی کئی تہوں کے نیچے چھپ جاتے ہیں۔

چاندنی رات کا سحر اور مقامی زندگی کا عکس

چودھویں کی رات جب چاند کی روشنی برف سے ڈھکی جھیل اور ملکہ پربت کی چوٹیوں پر پڑتی ہے، تو پورا منظرنامہ ایک الگ سحر انگیز روپ دھار لیتا ہے۔ جھیل کے گرد پھیلی خاموشی اور شدید سردی میں واپسی کا سفر اور بھی زیادہ کٹھن ثابت ہوتا ہے، جہاں ڈھلوانوں سے اترنے کے لیے برف پر سلائیڈ کرنا پڑتا ہے۔ اس سیاحتی سفر کے دوران مقامی آبادی کی زندگی کے خدوخال اور ان کی سادگی بھی نمایاں ہوتی ہے۔ پہاڑی دیہات کے محنت کش اور سیاحتی سیزن میں رہنمائی کرنے والے مقامی نوجوان اس خطے کے حقیقی نگہبان ہیں، جن کی زندگی کی کہانیاں ان خوبصورت وادیوں کے پسِ منظر میں ایک سچا انسانی پہلو شامل کرتی ہیں۔