صدیوں پہلے دور افتادہ اور غیر آباد خطوں کو انسان خوف کی نظر سے دیکھتا تھا اور ان ویرانوں سے مختلف فرضی کہانیاں منسوب کر دی جاتی تھیں۔ 'دیو' اور 'سائی' یعنی دیوؤں کے سائے کے نام سے موسوم دیوسائی کا قومی پارک بھی ایک ایسا ہی علاقہ ہے جسے طویل عرصے تک 'دیوؤں کی سرزمین' کہا جاتا رہا۔ ہندوکش اور ہمالیہ کے مغربی سلسلوں کی سرحد پر واقع یہ سطحِ مرتفع کسی بھی مقام پر سطحِ سمندر سے 4,000 میٹر سے کم بلند نہیں ہے۔ 3,000 مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلا یہ پورا میدان سال کے آٹھ مہینے برف کی سفید چادر میں لپٹا رہتا ہے، اور حیرت انگیز طور پر اتنے وسیع رقبے پر ایک بھی درخت موجود نہیں ہے۔

سکردو بازار سے سدپارہ گاؤں کی طرف نکلنے والی بل کھاتی سڑک سے سدپارہ جھیل کا شفاف پانی دکھائی دیتا ہے۔ گاؤں کے بچے سڑک پر بہتے چشموں کے پاس گاڑیاں سست ہوتے ہی مقامی پھل اور چیری بیچنے کے لیے جمع ہو جاتے ہیں۔ گاؤں سے آگے سڑک غیر ہموار ہو جاتی ہے اور بلندی کے ساتھ ہی کانوں پر دباؤ بڑھنے لگتا ہے۔ ایک طرف بلند و بالا پہاڑ اور دوسری طرف گہری کھائیاں سفر کو سنسنی خیز بنا دیتی ہیں۔ بڑا پانی کا پل عبور کرنے کے بعد سڑک شیووسر جھیل کی طرف جاتی ہے۔ مقامی زبان میں شیووسر کا مطلب 'اندھی جھیل' ہے۔ دنیا کی بلند ترین جھیلوں میں شمار ہونے والی اس جھیل کے گہرے نیلے پانی میں اگر مطلع صاف ہو تو 'قاتل پہاڑ' نانگا پربت کی برف پوش چوٹی کا عکس واضح دکھائی دیتا ہے۔

دیوؤں کی سرزمین کا قدرتی ایکو سسٹم اور حیاتِ وحش

دیوسائی کا خطہ شدید سرد ہواؤں، اچانک بدلتے موسم اور غیر متوقع برف باری کے باعث مستقل رہائش کے قابل نہیں رہا، یہی وجہ ہے کہ یہ علاقہ آج بھی زیادہ تر غیر آباد ہے۔ صدیوں سے صرف کشمیر کے خانہ بدوش اپنے ریوڑوں کے ساتھ ان میدانوں سے گزرتے آئے ہیں۔ یہاں کی خاموشی اتنی گہری ہے کہ انسان کو اپنی دھڑکنیں سنائی دیتی ہیں، جس میں صرف مارموٹ (گلیری کی ایک نوع) کی سیٹیاں گونجتی ہیں۔

درختوں سے محروم اس میدان میں متعدد قدرتی چشمے بہتے ہیں جن میں ٹراؤٹ مچھلی وافر مقدار میں پائی جاتی ہے۔ یہ چشمے مقامی لوگوں اور یہاں موجود جنگلی حیات کی خوراک کا اہم ذریعہ ہیں۔ 5,000 میٹر بلند پہاڑی پس منظر کے درمیان ہمالین براؤن بیئر (بھورے ریچھ)، سرخ لومڑیاں، سفید چیتے اور ہمالین گولڈن ایگلز اس ایکو سسٹم کا حصہ ہیں۔ سحر انگیز فضائیں اور چشموں کا شفاف پانی اس پورے علاقے کو ایک نایاب قدرتی مسکن بناتے ہیں۔

برف باری کا کٹھن سفر اور شمالی علاقوں کا تلخ انسانی پہلو

موسمِ سرما کے آغاز میں جب سیاحوں کی آمد ختم ہو جاتی ہے، نومبر کے مہینے میں دیوسائی کا سفر انتہائی خطرناک روپ دھار لیتا ہے۔ سدپارہ چیک پوسٹ سے آگے برف باری کے باعث جیپ کے راستے ختم ہو جاتے ہیں اور گاڑی کے ٹائروں پر زنجیریں باندھ کر سفر کرنا پڑتا ہے۔ شدید برف باری کے دوران شیووسر جھیل کے قریب بھورے ریچھ اور اس کے بچے کے علاوہ ہمالین سرخ لومڑیاں بھی متحرک نظر آتی ہیں۔ ایسے موسم میں بصارت محض چند میٹر تک محدود ہو جاتی ہے اور کاٹنے والی سردی میں سفر انتہائی دشوار ہو جاتا ہے۔

دیوسائی کے میدانوں کو عبور کر کے چلم چیک پوسٹ کے بعد جب استور کا رخ کیا جائے تو قدرتی حسن کے متوازی مقامی آبادی کی زندگی کا ایک دردناک پہلو سامنے آتا ہے۔ چلم سے استور کی طرف جاتے ہوئے سڑک کنارے ایک لاچار باپ اپنے جوان بیٹے کی قبر پر بیٹھا نظر آتا ہے جس پر قومی پرچم لہرا رہا ہوتا ہے۔ راولپنڈی سے تعلیم مکمل کر کے استور واپس آنے والے اس واحد سہارے کو مسافر بس سے اتار کر مذہبی نظریات کی بنیاد پر قتل کر دیا گیا تھا۔ یہ دردناک کہانی ظاہر کرتی ہے کہ شمالی پاکستان کے دلکش پہاڑوں اور وادیوں کے پیچھے مقیم مقامی آبادی کس قدر گہرے انسانی دکھ اور محرومیوں سے گزر رہی ہے۔ دیوسائی کے سفر کا سحر جہاں روح کو تسکین دیتا ہے، وہی مقامی لوگوں کے یہ حزن و ملال مسافر کو ایک تلخ حقیقت سے روشناس کراتے ہیں۔