افغانستان کے شمالی صوبے بلخ سے فاریاب تک 115 میل طویل 'قوش تیپہ کینال' کی تیز رفتار تعمیر نے وسطی ایشیائی ممالک کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ مارچ 2022 میں شروع ہونے والے اس پروجیکٹ کے پہلے مرحلے کا 70 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ مجموعی طور پر نہر کا 50 فیصد تعمیراتی کام پایا تکمیل کو پہنچ چکا ہے۔ طالبان انتظامیہ کی زیرِ نگرانی تقریباً 684 ملین ڈالر کی لاگت سے جاری اس منصوبے میں 4,000 سے زائد مزدور دن رات مصروفِ عمل ہیں۔ تاہم، آمو دریا سے بڑے پیمانے پر پانی نکالنے کا یہ اقدام کسی بھی وقت خطے میں ایک بڑے ماحولیاتی اور معاشی بحران کو جنم دے سکتا ہے۔
آمو دریا کو وسطی ایشیا کے لیے آبی شریان مانا جاتا ہے، جو پوری ریجن کے 80 فیصد آبی وسائل کا احاطہ کرتا ہے۔ تاجکستان کے پامیر سلسلوں سے نکل کر ازبکستان اور ترکمانستان تک بہنے والا یہ دریا نہ صرف خطے کی زراعت کی بنیاد ہے بلکہ ازبکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا 17 فیصد اور ترکمانستان کی جی ڈی پی کا 10 فیصد اسی دریا کے مرہونِ منت ہے۔ قوش تیپہ کینال مکمل ہونے پر آمو دریا سے سالانہ 10 ارب کیوبک میٹر پانی نکالے گی، جو ابتدائی اندازوں یعنی 2.1 ارب کیوبک میٹر سے کہیں زیادہ ہے۔ اس سے ازبکستان اور ترکمانستان کو آنے والے پانی کے بہاؤ میں 15 فیصد جبکہ آئندہ پانچ سے چھ برسوں میں نصف تک کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
تعمیراتی معیار اور آبی ضیاع کے خطرات
معاملہ صرف پانی کے رخ موڑنے تک محدود نہیں بلکہ اس نہر کا بنیادی تعمیراتی معیار بھی ماہرین کی تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر اور ماحولیاتی جائزہ نگاروں، بشمول ماہرِ ماحولیات نجیب اللہ سدید کے مطابق نہر کی کٹائی کے دوران روایتی اور کچے طریقے اپنائے گئے ہیں اور نچلی سطح کو پکا کرنے کے مناسب انتظامات نہیں کیے گئے۔ اس طریقہ کار سے مستقبل میں بڑی مقدار میں پانی کے زمین میں جذب ہونے اور ضائع ہونے کا شدید خطرہ موجود ہے۔ جون 2023 میں ترکمانستان کے صوبے لیباب میں آمو دریا کا پانی پہلے ہی گزشتہ برسوں کے مقابلے میں 70 فیصد کم ریکارڈ کیا گیا تھا، جس کے بعد یہ خدشات مزید گہرے ہو گئے ہیں۔
دوسری جانب افغان حکام اس پروجیکٹ کو ملکی خودکفالت کی کلید سمجھتے ہیں۔ طالبان انتظامیہ کا موقف ہے کہ نہر کی تکمیل سے افغانستان کی 2100 مربع میل سے زائد بنجر زمین سیراب ہوگی اور زراعت کو نیا دوام ملے گا۔ اس کے علاوہ پروجیکٹ کے ذریعے تقریباً 2 لاکھ 50 ہزار افراد کو روزگار کے مواقع بھی میسر آئیں گے۔ افغان ماہرین کا کہنا ہے کہ آمو دریا کا 12 فیصد بہاؤ افغان سرزمین سے گزرتا ہے اور بین الاقوامی قوانین کے تحت ان کا بھی اس پانی پر اتنا ہی حق ہے جتنا دیگر ممالک کا، خصوصاً اس صورت میں جب افغانستان کو 1992 کے الماتی معاہدے جیسے کسی بھی علاقائی آبی معاہدے میں کبھی شامل ہی نہیں کیا گیا۔
سفارتی ضرورت اور حل کا راستہ
اس تمام تر صورتحال کے باوجود طالبان حکومت کے لیے اپنے شمالی پڑوسیوں کے ساتھ بہتر تعلقات استوار رکھنا ایک معاشی اور سفارتی ضرورت ہے۔ افغانستان اپنی بجلی کی بڑی ضرورت ازبکستان سے پوری کرتا ہے جبکہ ترکمانستان اسے گیس فراہم کرتا ہے۔ ہمسایہ ممالک سے بگاڑ طالبان کی عالمی تنہائی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ اسی خطرے کے پیشِ نظر 4 اگست کو ترکمانستان، تاجکستان اور ازبکستان کا پہلا سہ فریقی اجلاس منعقد ہوا جس میں آمو دریا کے پانی کی منصفانہ تقسیم اور مشترکہ انتظام پر زور دیا گیا۔
خطے میں ممکنہ تنازع سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ افغانستان کو آمو دریا کے پانی کے استعمال سے متعلق علاقائی اور بین الاقوامی معاہدوں کا باقاعدہ حصہ بنایا جائے۔ وسطی ایشیائی ممالک کو چاہیے کہ وہ مخالفت کے بجائے افغانستان کے ساتھ مل کر نہر کی فنی خامیوں کو دور کرنے اور آبی بچت کی جدید ٹیکنالوجی متعارف کروانے میں تعاون کریں، تاکہ خشکسالی سے نبرد آزما اس خطے کو ایک اور سنگین معاشی و ماحولیاتی بحران سے بچایا جا سکے۔





تبصرے