غروب ہوتے سورج کی سرخ کرنوں میں خیمے کے باہر ایک شخص چراگاہ سے واپس لوٹنے والے ریوڑ کی راہ تک رہا ہے۔ ساتھ ہی چمکدار کپڑوں میں ملبوس ایک جوان کوچی خاتون جھاڑیوں کے الاؤ پر کالی کیتلی میں چائے ابال رہی ہے اور ایک عمر رسیدہ خاتون روٹی کے لیے آٹا گوندھنے میں مصروف ہے۔ خیمے کے ارد گرد بچوں کا شور اور مویشیوں کی آوازیں اس بات کا اعلان ہیں کہ سفر کا ایک اور مرحلہ ختم ہوا اور رات کا پڑاؤ شروع ہو چکا ہے۔ یہ منظر کسی ایک کا نہیں بلکہ ان لاکھوں افغان خانہ بدوشوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ ہے، جنہیں مقامی طور پر 'کوچی' یا 'پاوندہ' کہا جاتا ہے۔
اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق ان خانہ بدوشوں کی تعداد تقریباً 25 لاکھ ہے، جو صدیوں سے سال میں دو مرتبہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان یا پھر افغانستان کے اندرونی علاقوں میں موسم کے بدلتے ہی نقل مکانی کرتے ہیں۔ تاہم، حالیہ سالوں میں پاک افغان سرحد پر باڑ لگنے اور سیکیورٹی سخت ہونے کے بعد اس ہجرت کی قدیم روایت پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ فروری اور مارچ میں افغانستان کی طرف جانے اور اگست و ستمبر میں واپسی کے راستے مسدود ہونے کے باعث اب ان کی نقل و حرکت انتہائی محدود ہو کر رہ گئی ہے۔
کوچی دراصل کسی ایک قبیلے کا نام نہیں بلکہ پشتون قبائل کے ایک مجموعے کو کہا جاتا ہے، جن میں سلیمان خیل، سلیمان زئی، دوتانی، ترکئی، صافی اور احمد زئی جیسے قبائل شامل ہیں۔ یہ لوگ بلوچستان کے اضلاع چمن، پشین، قلعہ سیف اللہ، ژوب اور شیرانی سے گزرتے ہوئے ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، اور جنوبی پنجاب سے لے کر سندھ کے علاقوں تک کا سفر کرتے ہیں۔
صدیوں پرانے روٹس اور بدلی ہوئی حقیقتیں
بلوچستان گزیٹیرز کے مترجم پروفیسر میر حسن خان اتل کے مطابق، تقسیمِ ہند سے قبل یہ خانہ بدوش تجارتی اور ہجرت کے سلسلے میں بمبئی اور کلکتہ تک جایا کرتے تھے، تاہم 1947 کے بعد ان کا دائمی سفر پاکستان اور افغانستان تک محدود ہو گیا۔ 1980 کی دہائی میں افغانستان میں شروع ہونے والی جنگ نے ان کی نقل و حرکت کو مزید متاثر کیا۔ ماضی میں یہ لوگ افغانستان سے خشک میوہ جات، دیسی گھی، کرت اور جڑی بوٹیاں لا کر پنجاب کی منڈیوں میں فروخت کرتے تھے اور واپسی پر گڑ، شکر، اناج، کپڑے اور گھریلو اوزار افغانستان لے جاتے تھے۔
موجودہ حالات میں سرحدی راستے بند ہونے کی وجہ سے ان کے روایتی سفر کی نوعیت بدل چکی ہے۔ کلی دیرہ گئی کے قریب خیمہ زن سلیمان زئی قبیلے کے 55 سالہ نیک محمد بتاتے ہیں کہ افغانستان سے پاکستان واپسی پر جب انہیں رسمی سرحدی راستوں پر روکا گیا تو انہیں مجبوری میں غیر معروف اور خطرہ ناک پہاڑی راستوں کا انتخاب کرنا پڑا۔ اس سفر کے دوران خوراک اور پانی کی شدید قلت کے باعث بچے بلبلاتے رہے اور کئی لاغر مویشی راستے ہی میں ہلاک ہو گئے۔
اسی طرح انگور اڈہ کے قریب موجود دوتانی قبیلے کے 60 سالہ غلام اور گلبت دوتانی کی کہانی بھی الگ نہیں ہے۔ گلبت کے پاس 600 کے قریب مویشی ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ تمام خاندان کے پاس پاکستانی شناختی کارڈ موجود ہونے کے باوجود انہیں ورسک کے مقام پر سرحد پار کرنے سے روک دیا گیا۔ سرحدی پابندیوں کی وجہ سے اب ان کے پاس دو ہی راستے بچے ہیں: یا تو وہ اپنے آباؤ اجداد کا پیشہ چھوڑ کر مویشی سستے داموں بیچ دیں یا پھر سرحد کے اسی پار رہ جائیں جہاں چراگاہوں کی شدید کمی ہے۔
ثقافتی رنگ اور معاشی تانے بانے
سخت جانی اور بے سامان زندگی کے باوجود کوچی برادری کا اپنا ایک منفرد ثقافتی اور سماجی نظام ہے۔ عام دیہی پشتون معاشرت کے برعکس، کوچی خواتین چہرے پر نقاب نہیں کرتیں۔ وہ سفر کے دوران نہ صرف پانی کے مشکیزے اٹھانے، دہی، پنیر اور کھانا تیار کرنے کی ذمہ داری سنبھالتی ہیں بلکہ اپنے روایتی تیز رنگ کے لباس پر شیشے، موتی اور اون کی نفیس کڑھائی کا کام بھی کرتی ہیں۔
صبح کے وقت سورج نکلنے سے پہلے ان کے کارواں کی روانگی ہوتی ہے۔ خیمے لپیٹ کر سامان اونٹوں اور گدھوں پر لادا جاتا ہے اور چھوٹے بچوں کو گرنے سے بچانے کے لیے جانوروں کی پیٹھ پر رسیوں سے باندھ دیا جاتا ہے۔ کارواں کے آگے آگے ان کے پالتو کتے چلتے ہیں جو کسی بھی ناگہانی خطرے سے آگاہ کرتے ہیں۔ شادی بیاہ اور فوتگی کی تمام رسومات بھی اسی سفر کے دوران ادا کی جاتی ہیں۔ شادی کے مواقع پر دنبے ذبح کر کے شوربے میں روٹی کے ٹکڑے ملا کر رواجی 'ترید' تیار کی جاتی ہے اور دوتانی جیسے قبائل ڈھول کی تھاپ پر روایتی 'اتنڑ' رقص کا اہتمام کرتے ہیں۔
بے یقینی کا شکار مستقبل
سرحد پر درپیش رکاوٹوں کے حوالے سے کوچی برادری میں حکومت اور مقامی سیاسی و قبائلی قیادت سے متعلق شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔ ارغن سے آنے والے حیات خان اور توئی خولہ کے اکبر کا کہنا ہے کہ شناختی کارڈز اور پاکستانی شہری ہونے کا ثبوت فراہم کرنے کے باوجود ان کے ساتھ مناسب رویہ نہیں رکھا جاتا۔
دوسری جانب افغان خانہ بدوشوں کی سرحد پار نقل و حرکت سے متعلق فی الوقت کسی واضح اور یکجا پالیسی کی عدم موجودگی کا تاثر ملتا ہے۔ بلوچستان کے صوبائی اور ڈویژنل حکام اس معاملے کو وفاقی حکومت کے دائرہ اختیار میں قرار دیتے ہیں۔ سیکیورٹی کی سختیوں اور پالیسی کی عدم وضاحت کے درمیان پسنے والے یہ کوچی خانہ بدوش اب اس بے یقینی کا شکار ہیں کہ آیا موسم بدلنے پر وہ اپنی روایتی ہجرت جاری رکھ سکیں گے یا یہ قدیم طرزِ زندگی ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔





تبصرے