بلوچستان کی بنجر سرزمین پر زندگی کا وجود صدیوں سے پانی کی منصفانہ تقسیم کے ایک معجزاتی نظام کا مرہونِ منت رہا ہے جسے ’کاریز‘ کہا جاتا ہے۔ پائے دار زیرِ زمین نالیوں پر مشتمل یہ نظام صرف فصلوں کو سیراب نہیں کرتا تھا، بلکہ دیہی معاشرت کی نبض بھی تھا۔ کاریز کے کنارے دیہاتیوں کی بیٹھکیں سجتی تھیں، جہاں پانی کی تقسیم سے لے کر قصبے کے باہمی تنازعات تک ہر مسئلے کا حل باہمی مشاورت سے نکالا جاتا تھا۔ وقت کے ساتھ جب جدید ٹیکنالوجی نے قدم جمائے اور زیرِ زمین پانی نکالنے کے لیے ٹیوب ویل عام ہوئے، تو کاریز کا قديم نظام تیزی سے سوکھنے لگا۔ مقامی سطح پر یہ تاثر عام ہو گیا کہ جدید دور میں اس روایتی آبی نظام کی بحالی ناگزیر طور پر ناممکن ہو چکی ہے۔
کاریز کی ساخت میں خودکفالت کا ایک منفرد مالیاتی ماڈل بھی موجود رہا ہے۔ مقامی برادریاں ہر کاشتکاری کے موسم کے آغاز میں ۲۴ گھنٹے کا اضافی پانی محفوظ رکھتی تھیں، جسے بولی کے ذریعے فروخت کیا جاتا تھا۔ اس سے حاصل ہونے والی رقم کاریز کی صفائی اور مرمت پر خرچ ہوتی تھی۔ اس معاشی نظام کے باوجود جدید ٹیکنالوجی کے غلبے نے مقامی کسانوں کو ٹیوب ویل پر انحصار کرنے پر مجبور کر دیا، جس کے نتیجے میں زیرِ زمین پانی سطح سے مزید نیچے چلا گیا اور قدیم کاریز ایک ایک کر کے خشک ہوتے گئے۔
آذربائیجان کا تجربہ اور امید کی نئی کرن
جب بلوچستان میں کاریزوں کے خاتمے کو ناگزیر مان لیا گیا تھا، تب آذربائیجان کے خطے نخچیوان میں ہونے والی پیش رفت نے اس نظریے کو بدل کر رکھ دیا۔ سوویت یونین کے دور میں ۱۹۳۰ اور ۱۹۴۰ کی دہائیوں میں وہاں بھی ٹیوب ویلوں کے بے جا استعمال نے کاریزوں کو غیر فعال کر دیا تھا۔ تاہم دہائیوں بعد مقامی شناخت اور پائے دار زراعت کی بحالی کے لیے ان قديم کاریزوں کو کامیابی کے ساتھ دوبارہ فعال کیا گیا۔ اس تجربے نے یہ ثابت کیا کہ اگر سائنسی تدبیر اور مقامی برادری کی تکنیکی مہارت کو ملا دیا جائے، تو صدیوں پرانے سوکھے ہوئے چشموں میں بھی دوبارہ پانی لایا جا سکتا ہے۔
تاریخی اہمیت اور تحفظ کی جنگ
تاریخی نقطہ نظر سے کاریز کی اہمیت صرف بلوچستان تک محدود نہیں بلکہ یہ پورے خطے کی زرعی تاریخ کا حصہ ہے۔ سولہویں صدی میں مغل شہنشاہ بابر جس قندھار کے انگوروں کا شوق سے ذکر کرتا تھا، ان کی آبیاری انہی کاریزوں سے ہوتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ ۱۹۸۰ کی دہائی میں افغان جنگ کے دوران سوویت فوج نے مقامی دیہی معیشت کو توڑنے کے لیے قندھار کے تاریخی کاریزوں کو بمباری سے نشانہ بنایا۔
بلوچستان اور جنوبی افغانستان میں دیہی روزگار، پائیدار زراعت اور سماجی استحکام کا براہِ راست تعلق اسی روایتی نظام سے جڑا ہوا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر کاریز کی سائنسی اور مالیاتی بحالی کے منصوبے پیش کیے گئے تاکہ اس کی بنیاد پر غیر منافع بخش یا تجارتی شراکت داری کے ذریعے مقامی سطح پر پانی کی دیکھ بھال کا نظام قائم کیا جا سکے۔
آج بھی بلوچستان کے جغرافیے میں کاریز کی بقا کی جنگ جاری ہے۔ اس قدیم نظام کی حفاظت کا دارومدار ان روایتی ماہرین اور محنت کشوں پر ہے جنہیں مقامی زبان میں ’کنکن‘ (کاریز کھودنے والے) اور ’میرِ آب‘ (پانی کے ناظم) کہا جاتا ہے۔ یہ افراد جدید دور کی بے حسی کے باوجود بلوچستان کی اس تاریخی میراث کو بچانے کی کوششوں میں مصروف عمل ہیں۔





تبصرے