پاکستان کے تعلیمی اداروں میں مصنوعی ذہانت کی آمد نے ایک ایسا زلزلہ برپا کر دیا ہے جس نے تدریس اور امتحانی صلاحیتوں کے روایتی نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایک وقت تھا جب یونیورسٹی میں معیاری اسائنمنٹ یا تفصیلی کوڈ جمع کرانا طالب علم کی قابلیت کا حتمی ثبوت سمجھا جاتا تھا، لیکن اب چیٹ بوٹس کی مدد سے چند منٹوں میں تیار ہونے والا مواد اس معیار کو بے اثر کر چکا ہے۔ ایسے ماحول میں جہاں مشین انسان کی طرح تحریر تیار کر سکتی ہو، اعلیٰ تعلیم کا مقصد اور طالب علم کی واقعی جانچ کا طریقہ کار بنیادی تبدیلی کا تقاضا کر رہا ہے۔
پابندیوں کے بجائے امتحانی نظام میں تبدیلی
زیادہ تر مقامی جامعات کا ابتدائی ردِعمل فی الوقت اے آئی کے استعمال پر سخت شرائط عائد کرنے یا محض وضاحتیں مانگنے تک محدود ہے۔ تاہم گھر بیٹھ کر کیے جانے والے کام میں ٹیکنالوجی کے استعمال کی مکمل نگرانی کرنا ناممکن ہے، جبکہ اے آئی ڈیٹیکٹر سافٹ ویئرز پر اندھا اعتماد مزید پیچیدگیاں پیدا کر رہا ہے۔ یہ سافٹ ویئرز اکثر غیر ملکی زبان یعنی انگریزی میں لکھنے والے پاکستانی طلبہ کی تحریروں کو غلط طور پر اے آئی کا تیار کردہ قرار دے دیتے ہیں، جس سے معصوم طلبہ پر سرقے کا بے جا الزام لگنے کا خطرہ رہتا ہے۔ اس لیے ان ٹولز کو حتمی ثبوت کے بجائے صرف ایک ابتدائی اشارے تک محدود رکھنا چاہیے۔
مسئلے کا اصل حل ٹیکنالوجی کو روکنے کی کوشش میں نہیں، بلکہ اس بات میں ہے کہ ادارے جانچ کس بنیاد پر کرتے ہیں۔ گھر کے کام اور مشق کو حتمی گریڈنگ سے الگ کرنا ہوگا۔ اگر ہوم ورک میں اے آئی کو بطورِ معاون استعمال کرنے کی اجازت دی جائے اور حتمی نمبرز کے لیے کلاس روم کے اندر نگرانی میں تحریری امتحانات، زبانی سوال و جواب، اور پریزنٹیشنز کو معیار بنایا جائے، تو طالب علم کی اصل فهم و فراست سامنے آ سکتی ہے۔ بڑے کلاس رومز میں ہر طالب علم کا تفصیلی زبانی امتحان مشکل ضرور ہے، لیکن تحریری سرپرستی اور مختصر زبانی دفاع کا امتزاج ایک بہترین توازن فراہم کرتا ہے۔
بنیادی علم اور اے آئی کی مدد سے تعمیر
تعلیمی نصاب میں بھی صرف سوال پوچھنے کا طریقہ یا چٹ پٹے ٹولز کا استعمال سکھا دینا کافی نہیں ہوگا۔ ٹولز تیزی سے بدلتے ہیں، مگر بنیادی نظریاتی علم ہمیشہ قائم رہتا ہے۔ مثال کے طور پر، اے آئی ڈیٹا صاف کر سکتی ہے یا کسی پروجیکٹ کا فریم ورک تیار کر سکتی ہے، مگر جب تک طالب علم کو یہ معلوم نہ ہو کہ درست اور غلط جواب میں کیا فرق ہے، وہ ٹیکنالوجی کے غلط نتائج کو بھی سچ مان لے گا۔ طلبہ کو محض چیٹ بوٹس سے بات چیت کرنا سکھانے کے بجائے یہ سکھانا ضروری ہے کہ وہ اے آئی کو مختلف سسٹمز اور عملی کاموں کے اندر بطورِ آلہ کیسے استعمال کر سکتے ہیں۔
ڈگری کی نئی تعریف
آنے والے دور میں جامعات کو ڈگری کے مقصد پر ازسرِ نو غور کرنا ہوگا۔ اگر ڈگری کا مقصد محض ایک مضمون لکھنا یا پروگرام کا کوڈ تیار کرنا ہے تو مشین اس کی اہمیت ختم کر چکی ہے۔ لیکن اگر ڈگری کا مطلب واقعی مسائل کی نشاندہی کرنا، تنقیدی انداز میں سوچنا، درست سوال اٹھانا اور مشین کے نتائج کی صحت کو پرکھنا ہے، تو مصنوعی ذہانت انسان کی صلاحیتوں کو گھٹانے کے بجائے کئی گنا بڑھا سکتی ہے۔ پاکستانی جامعات کو طلبہ کو اے آئی سے دور رکھنے کی جدوجہد چھوڑ کر یہ طے کرنا ہوگا کہ اس ٹیکنالوجی کی موجودگی میں سیکھنے کا اصل معیار کیا ہونا چاہیے۔





تبصرے