کبھی پاکستان کے بڑے شہروں میں سنیما صرف فلم دیکھنے کا ذریعہ نہیں بلکہ شہری زندگی کی ایک متحرک سماجی سرگرمی ہوا کرتا تھا۔ ہفتے کی شام ہو یا چھٹی کا دن، اہل خانہ اور دوستوں کا ایک ساتھ سنیما ہال پہنچنا روزمرہ کا معمول تھا۔ لیکن اب کراچی جیسے بڑے میٹروپولیٹن شہر میں بھی بڑی اسکرینوں کی رونق ماند پڑ چکی ہے۔ ہالز کی خالی نشستیں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ ملکی فلمی صنعت کسی عارضی مندی کے بجائے ایک گہرے ساختاتی بحران سے گزر رہی ہے۔
فلموں کا قحط اور عام آدمی کی عدم رسائی
پاکستانی سنیما کی حالیہ تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو 2017 میں 'پنجاب نہیں جاؤں گی' اور پھر 2022 میں ریلیز ہونے والی 'دی لیجنڈ آف مولا جٹ' نے باکس آفس پر ریکارڈ قائم کر کے ثابت کیا تھا کہ شائقین بڑی اسکرین پر معیاری کام دیکھنے کے لیے تیار ہیں۔ تاہم، ان چند بڑی ہٹ فلموں کے بعد طویل خاموشی چھا گئی۔ تسلسل کے ساتھ معیاری فلمیں نہ بننے کی وجہ سے سنیما مالکان کے لیے اپنے روزمرہ کے بھاری اخراجات پورے کرنا ممکن نہیں رہتا، جس کے نتیجے میں وہ محدود تعداد میں آنے والی غیر ملکی فلموں کے مرحونِ منت ہو کر رہ جاتے ہیں۔
اس بحران کا ایک اہم پہلو ملکی آبادی کے مقابلے میں اسکرینوں کی شدید کمی ہے۔ تقریباً 25 کروڑ کی آبادی والے ملک میں اندازاً صرف 60 سنیما اور 150 کے قریب اسکرینیں فعال ہیں۔ رسائی کا یہ محدود دائرہ زیادہ تر اعلیٰ معاشی طبقات کے علاقوں تک محدود ہے۔ آرٹس کونسل کراچی کے صدر احمد شاہ کی نشاندہی کے مطابق کراچی کے گنجان آباد اور درمیانے طبقے کے علاقوں جیسے لینڈھی، کورنگی اور فیڈرل بی ایریا میں اسکرینوں کی غیر موجودگی نے سنیما کو عام آدمی کی تفریح سے دور کر دیا ہے۔ ٹکٹ کی اونچی قیمت، سفر اور کھانے پینے کے اضافی اخراجات مل کر ایک عام خاندان کے لیے فلم دیکھنا خاصا مہنگا عمل بنا دیتے ہیں۔
او ٹی ٹی کا چیلنج اور بھارتی فلموں کا تناظر
دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی او ٹی ٹی اور ڈیجیٹل اسٹریمنگ پلیٹ فارمز نے ناظرین کی عادتیں بدل دی ہیں۔ موبائل فونز اور اسمارٹ ٹی وی پر مواد کی آسان دستیابی نے لوگوں کو گھروں تک محدود کیا ہے۔ عالمی سطح پر سنیما انڈسٹری نے اس کا مقابلہ جدید ترین ساؤنڈ سسٹمز اور لاج اسکرین تجربات سے کیا، جب کہ پاکستان میں فلم سازوں اور سنیما مالکان کے درمیان کاروباری تسلسل ہی برقرار نہ رہ سکا Dataset۔
ہدایت کار اور اداکار محمد احتشام الدین کے مطابق ٹیکنالوجی کی تبدیلی پوری دنیا میں آئی ہے، مگر اصل مسئلہ فلموں کی تیاری میں تسلسل کا نہ ہونا ہے۔ جب تک پروڈیوسر، ہدایت کار، تقسیم کار اور سنیما مالکان کا مضبوط سلسلہ قائم نہیں ہوتا، تب تک سال دو سال میں ایک بڑی فلم کا آنا انڈسٹری کو سنبھالا نہیں دے سکتا۔ اس تناظر میں بھارتی فلموں کی ممکنہ واپسی سے متعلق بحث بھی شدت اختیار کر چکی ہے۔ احمد شاہ اور بہروز سبزواری سمیت متعدد شائقین اور فنکاروں کا ماننا ہے کہ ماضی میں بھارتی فلموں نے ہالز میں رونق بحال کی تھی جس کا فائدہ ساتھ لگنے والی پاکستانی فلموں کو بھی ملا۔
احتشام الدین کی تجویز ہے کہ عالمی منڈی کے دور میں جب ناظرین ویسے بھی مختلف ذرائع سے مواد دیکھ رہے ہیں، ضابطے کے تحت اور دونوں طرف سے مارکیٹ تک رسائی کے اصولوں پر مبنی پالیسی کے ذریعے غیر ملکی فلموں کی نمائش سنیما کے کاروبار کو مالی سہارا دے سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے نوجوان نسل میں سنیما کا کلچر دوبارہ زندہ کرنے کے لیے طلبہ کے لیے رعایتی ٹکٹوں کی فراہمی پر زور دیا ہے۔
بڑی اسکرین کی بقا صرف نئی اسکرینیں لگانے یا سرحد پار فلموں کی نمائش میں نہیں بلکہ مقامی سطح پر مضبوط اسکرپٹ، تخلیقی آزادی اور عوامی زندگی سے جڑی کہانیاں پیش کرنے میں مضمر ہے۔ جب تک فلم سازی کو ایک باقاعدہ انڈسٹری کے طور پر مسلسل مواد پیدا کرنے کے قابل نہیں بنایا جاتا، تب تک شائقین کو بڑی اسکرین کی طرف واپس لانا ایک چیلنج ہی رہے گا۔





تبصرے