پاکستان میں اکثر کہا جاتا ہے کہ تاریخ خود کو دہراتی ہے، اور بدقسمتی سے ملکی سیاست میں یہ دہرائے جانے کا عمل اکثر بحرانوں کا سبب بنتا ہے۔ موجودہ دور میں حکومت اور اپوزیشن کی شدید محاذ آرائی، پارلیمنٹ کی غیر فعال کارکردگی، کالعدم تنظیمیوں کے سڑکوں پر مظاہروں کے سامنے ریاست کا تذبذب، عسکری و شہری اداروں کے تعلقات کی حساسیت اور دائمی معاشی عدم استحکام، یہ تمام مسائل کسی یکدم ابھرنے والی آفت کا نتیجہ نہیں ہیں۔ یہ دراصل وہ تاریخی دراڑیں اور نقائص ہیں جو دہائیوں سے ملکی نظام کو جکڑے ہوئے ہیں اور جن سے ہماری قیادت فرار حاصل نہیں کر سکی۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ کا پہلا اور اہم نقص سیاسی مفاہمت اور برداشت کا فقدان ہے۔ یہاں جمہوری عمل میں مقابلے کی جگہ دشمنی کے رویے نے جنم لیا، جس کی وجہ سے جمہوریت ہمیشہ کمزور رہی اور عسکری مداخلتوں کے لیے راستے کھلے رہے۔ حکومتوں کو گرانے کے لیے سیاسی جماعتوں نے اکثر ایک دوسرے کے خلاف غیر جمہوری سہارا لیا۔ اس تاریخ میں 1973ء کے آئین کی متفقہ منظوری اور 2010ء میں 18ویں ترمیم کا پاس ہونا چند نادر استثنیٰ ہیں جہاں سیاسی اتفاقِ رائے نظر آیا۔ اس کے علاوہ مرکز اور صوبوں کے تعلقات میں بھی ہمیشہ کشیدگی رہی، جیسا کہ موجودہ دور میں وفاقی پی ٹی آئی حکومت اور سندھ کی پی پی پی حکومت کے درمیان مسلسل سیاسی تناؤ میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اس عدم برداشت نے پارلیمنٹ کو بھی مفلوج کر کے رکھ دیا ہے، جہاں یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں نے پارلیمانی برتری کا دعویٰ تو کیا لیکن قانون سازی کے لیے آرڈیننس کا سہارا لینے کو ترجیح دی۔ پارلیمنٹ کو ایک فعال قانون ساز ادارے کے بجائے صرف حکومت بچانے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔

مذہبی دباؤ اور سول ملٹری تعلقات کا خمیزہ

ملک کا دوسرا بڑا تاریخی مسئلہ مذہبی شدت پسند یا کالعدم گروہوں کے احتجاج کے سامنے ریاست کی ہچکچاہٹ ہے۔ حال ہی میں کالعدم تنظیم کے سڑکوں پر احتجاج کے دوران حکومت کی پالیسی میں واضح تذبذب دیکھا گیا، جہاں پہلے ان کی منّت سماجت کی گئی اور بعد میں سختی کے ادھورے دعوے کیے گئے۔ یہ اندازِ حکمرانی نیا نہیں ہے؛ ماضی کی حکومتیں بھی ہنگامی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے ایسے مذہبی گروہوں کے مطالبات کے سامنے جھکتی رہی ہیں، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان فورسز کے حوصلے بلند ہوئے اور وہ بار بار ریاست کو چیلنج کرنے کے قابل ہوئیں۔

اسی طرح شہری اور عسکری قیادت کے درمیان غیر متوازن تعلقات بھی ملکی تاریخ کا ایک مسلسل حصہ رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ملک کے اعلیٰ ترین انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ کی تقرری کے معاملے پر پیدا ہونے والی صورتِ حال اسی پرانے تناؤ کا ایک مظہر تھی۔ پاکستان میں سیکورٹی اور امن و امان کو جمہوریت پر فوقیت دینے کی تاریخی روایت کے باعث منتخب اور غیر منتخب اداروں کے درمیان طاقت کا توازن ہمیشہ سے بگڑا رہا ہے، جس کی وجہ سے متعدد بار جمہوری حکومتیں وقت سے پہلے ختم کی گئیں۔

معاشی ڈھانچے کی بدحالی اور بیرونی انحصار

سب سے زیادہ نقصان دہ نقطہ پاکستان کی معاشی بدانتظامی ہے، جہاں اشرافیہ کے طبقات نے اپنے سیاسی اور معاشی مفادات کو بچانے کے لیے ملک کو قرضوں کی دلدل میں دھکیلا۔ ملکی وسائل بڑھانے اور خود پر ٹیکس لگانے کے بجائے ماضی اور حال کی حکومتیں بیرونی قرضوں، آئی ایم ایف کے پروگراموں اور اوورسیز پاکستانیوں کی بھیجی گئی رقم پر انحصار کرتی رہیں۔ 1980ء کی دہائی سے جاری بجٹ اور کرنٹ اکاؤنٹ کے جڑواں خساروں کو نوٹ چھاپ کر اور بیرونی امداد سے پورا کیا جاتا رہا، جس کا سارا بوجھ ہدف سے ہٹ کر لگائے گئے ٹیکسوں اور افراطِ زر کی صورت میں غریب عوام پر پڑا۔

ٹیکس کے نظام میں اصلاحات، توانائی کے شعبے کے گردشی قرضے کو ختم کرنے، اور خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی بحالی جیسے بنیادی کاموں کو مسلسل ٹالا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی معاشی بحران آتا ہے تو حکومتیں پائیدار اصلاحات کے بجائے فوری بیرونی امداد یا جیسے حال ہی میں سعودی عرب کے اعلان کردہ مالیاتی پیکج جیسے عارضی سہارے تلاش کرتی ہیں۔ جب تک ملک میں ایسی سیاسی قیادت سامنے نہیں آتی جو سیاسی مفاد سے بالاتر ہو کر جرات مندانہ فیصلوں کے ذریعے ان تاریخی غلطیوں کا مداوا کرے، پاکستان ان دائمی بحرانوں کی زد میں رہے گا۔